مردانہ کمزوری، کامیاب مرد اور مردانہ مسائل

مردوں پہ ساری زندگی ایک ان دیکھا خوف اس چیز کا چھایا رہتا ہے کہ اگر ناکام ہو گئے، اگر نوکری چلی گئی، اگر جیب میں پیسہ نہ رہا، اگر مرتے وقت چار پیسے نہ چھوڑے، اگر کاروبار نہ چلا، اگر گھر کے خرچے پورے نہ ہوئے، تو کیا ہو گا؟

ناکامی کا لفظ ایک آئیڈیل مرد کی ڈکشنری میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔

دنیا میں ایک مرد کے طور پر پیدا ہو جانا بلاشبہ ایسی کامیابی ہے جس کا تصور بغیر عورت جیسی زندگی گزارے ناممکن ہے لیکن چند مسئلے ایسے بھی ہیں جو مرد کو ساری زندگی ناکوں چنے چبواتے رہتے ہیں۔

پڑھو گے نہیں تو کیا کرو گے؟ یہ سوال بچپن سے شروع ہوتا ہے اور کم از کم 25 سال تک چلتا ہے۔ پڑھنا خود کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا، اس کے پیچھے جو چیز چھپی ہوتی ہے وہ اچھی نوکری لگنے کی خواہش ہے۔ اچھی نوکری کیوں چاہیے؟ تاکہ کامیاب انسان کہلائیں، کامیاب انسان سے کیا مراد ہے؟ مطلب کامیاب مرد!

ناکامی کا لفظ ایک آئیڈیل مرد کی ڈکشنری میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔ آپ دیکھیں جب ہم بات چیت کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یار فلاں آدمی زندگی میں ناکام ہو گیا، یا پھر ہم کہیں گے کہ وہ شخص مالی طور پہ بالکل فارغ ہے۔ ہم ناکامی کے ساتھ لفظ مرد کا استعمال تک نہیں کرتے۔ مرد کا استعمال ہمیشہ ان لفظوں کے ساتھ آتا ہے جو خوشحالی کی علامت ہیں جیسے جواں مرد یا مرد میدان وغیرہ۔

تو مردوں پہ ساری زندگی ایک ان دیکھا خوف اس چیز کا چھایا رہتا ہے کہ اگر ناکام ہو گئے، اگر نوکری چلی گئی، اگر جیب میں پیسہ نہ رہا، اگر مرتے وقت چار پیسے نہ چھوڑے، اگر کاروبار نہ چلا، اگر گھر کے خرچے پورے نہ ہوئے، تو کیا ہو گا؟ چونکہ ہمارے ملکوں میں پیسہ کمانا مرد کی ذمہ داری ہے اس لیے گھر کی عورت چاہے نوکری کرے تب بھی فنانس منیجر مرد کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ ہر اوکھے سوکھے ویہلے اس کی کھٹیا کھڑی ہونی ہوتی ہے۔ تو مرد جو ہے وہ جن تلواروں کے سائے تلے جوان ہوتا ہے ان میں سے پہلی تلوار پیسے کی ہے اور اکثر مرد فوت ہونے تک یا اس کی دھار پہ چلتے ہیں یا اس کی نوک گردن پر محسوس کرتے رہتے ہیں۔

جدید دنیا کے مردوں کے لیے دوسرا خطرناک ترین معاملہ ہراسانی کا ہے۔ آپ کا ایک چھوٹا سا گھر ہے۔ ماں باپ ہیں، بہن بھائی ہیں، ایک دو بچے ہیں، بیوی ہے، دو چار دوست ہیں؛ سب کے سب آپ کے خلاف ہو جائیں گے اگر کبھی آپ پہ ہراسانی کا الزام لگا۔ اور یہ جنسی ہراسانی کی بات تو ہو ہی نہیں رہی، ابھی صرف لفظ ہیریسمنٹ کا سامنا کریں۔ جسے یوں سمجھ لیں کہ اگر آپ نے کسی لڑکی سے سکول میں ایک کلاس فیلو کے طور پہ جھگڑا کر لیا، دفتر میں کچھ اونچ نیچ ہوئی تو ماتحت یا کولیگ کو ڈانٹ دیا، سخت لہجے میں بات کر لی، سڑک پہ گاڑی ٹھک گئی اور حق پہ ہوئے تو سامنے والی خاتون کی تلخ کلامی کا جواب دے دیا ۔۔۔ آپ نے کر دی اب ہیریسمنٹ۔

ہم لوگ ویسے تو بات کریں گے برابری کی لیکن جہاں کہیں مرد کا جھگڑا عورت سے ہو گا وہ کیس ہمیشہ بطور ہراسانی ہی سامنے لایا جائے گا۔ یہ الزام ایسا ہے کہ آپ کا جاننے والا کوئی بھی آپ کے ساتھ کھڑا نہیں ہو گا۔ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ غیرجانبدار ہو کے آپ کے بارے میں سوچ لے۔ آپ ایسا ہر جھگڑا ہاریں گے بھی اور ہیریسر بھی کہلائیں گے۔

اب جنسی ہراسانی کی بات کر لیں۔ نوے فیصد کیسوں میں خواتین درست ہوں گی لیکن جو باقی 10 فیصد ہیں، جن میں ایک مرد کا قصور ثابت نہ ہو رہا ہو، ان میں بھی اس ملزم کی شناخت زندگی بھر اسی واقعے سے کی جاتی ہے۔ یہ ایسا حوالہ ہے جو ایک بار کسی کے نام سے جڑ گیا تو سمجھیں اس کی چھٹی۔ فرض کریں آج آپ کے قریبی دوست پہ الزام لگتا ہے، ہر چیز غلط ثابت ہو جاتی ہے، لیکن کیا ایک بار بھی آپ یہ نہیں سمجھیں کہ آخر کچھ تو اس نے کیا ہی ہو گا؟

یہ الزام ایسا ظالم ہوتا ہے کہ اس کے ڈر سے ایک اچھا استاد، ایک قابل مینیجر، ایک کامیاب باس، ایک بہترین آجر زندگی بھر خواتین ماتحت یا کولیگز سے جائز شکایت کرتے ہوئے بھی سو مرتبہ سوچتا ہے۔ آپ کسی بھی پرائیویٹ ادارے میں جا کے دیکھ لیں، کتنی آسانی سے مرد اہلکاروں کی چھٹی کرا دی جاتی ہے لیکن اگر معاملہ خواتین کا ہو گا اور مینیجمنٹ مردوں کی ہو گی تو یہ سب ناممکن نظر آتا ہے۔ ہاں، کئی مثالیں اس نظریے کے خلاف بھی دی جا سکتی ہیں اور وہ ٹھیک بھی ہوں گی مگر، ہوتا یہ سب کچھ بھی اسی دنیا میں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مردوں کے لیے ایک اور بڑا خوف مرد نہ دکھنے کا ہوتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، پوری شخصیت اس دوغلے پن کا شکار ہو جاتی ہے جو مردانگی کے نام پر مسلط ہے۔ روائتی مرد گلابی یا سرخ رنگ نہیں پہن سکتا، زیادہ ٹائٹ پتلون نہیں پہنے گا، قمیص میں کالر واضح رکھوائے گا چاہے گردن چھلتی ہو، کان نہیں چھدوا سکتا، ہاتھوں میں زیادہ کچھ نہیں پہن سکتا، کلین شیوڈ ہے تو بال بڑھاتے ہوئے سو بار سوچے گا۔ اگر ان خطوں سے تعلق ہے جہاں کلین شیو نوجوانوں کو بھی ہراسانی کا سامنا رہتا ہے تو آپ کم عمری سے ہی اس کے چہرے پہ نہ چاہتے ہوئے بھی داڑھی دیکھیں گے۔

خوشبو لگاتے وقت اس کے پاس چوائس بہت کم ہو گی، ہر پرفیوم اسے لیڈیز اونلی لگے گا۔ وہ رو نہیں سکتا، وہ چلا نہیں سکتا، وہ اگر کچھ کر سکتا ہے تو غصہ اس کے لیے جائز ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ غم ہو یا کوئی ٹینشن ہو، مرد اسے غصے میں نکالے گا، جھگڑے میں نکالے گا، مار کٹائی ہو گی، تھانے کچہری کے پھیرے لگیں گے لیکن وہ غبار رونے دھونے میں نہیں نکل سکتا کیونکہ یہ سب کچھ مردانگی تو بہرحال نہیں ہے۔

شہر اور سوشل میڈیا کی دیواروں پہ دیکھیں تو سب سے بڑا مسئلہ مردانہ قوت کا ہے۔ بھائی، جو کام بچپن سے غلط سمجھایا گیا ہو وہ ساری عمر غلط ہی رہتا ہے۔ آپ لاکھ کوشش کر لیں نہ آپ کے اندر سے احساس گناہ جائے گا اور نہ آپ کسی ندامت کے بغیر وہ سب کچھ کر سکیں گے جو ایک صحت مند انسان کسی دباؤ کے بغیر کر سکتا ہے۔ معمولی مثال کے طور پہ یہ دیکھ لیں کہ رخصتی کی رات جس کمرے میں آپ یہ عمل سرانجام دیتے ہیں اس کے عین باہر تائے، چاچے، مامے، بہنیں، مائیں سب سو رہی ہوتی ہیں۔ آپ ہوٹل میں بھی ہوں تو آپ کھسیانے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کوئی شدید غلط کام ہونے جا رہا ہے، تو ایسے میں کیہڑی مردانہ طاقت؟ جو معاملہ ہی صرف دماغ کے ساتھ منسلک ہے اور اسے دماغ ہی غلط کہے اور چھپاتا پھرے تو وہ سب کچھ نارمل زندگی بھر نہیں ہو سکتا۔ تو مردوں کے لیے ایک سولی یہ بھی ہے جس پر انجانے میں وہ ساری عمر چڑھے رہتے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں جو حالات چل رہے ہیں، اگر کوئی عقل رکھنے والا مرد ہے تو وہ بے چارہ ویسے ہی شرمندہ شرمندہ گھومتا ہے۔ وہ بالکل کسی معاملے میں قصوروار نہیں ہو گا لیکن وہ اپنی پوری نسل کا نمائندہ بہرحال تصور کیا جائے گا۔

یہ مسئلے تو وہ ہیں جو کہہ لیں کہ تھوڑے پڑھے لکھے مردوں کے ہیں۔ باقی ساری دنیا میں کامیاب مرد اور پیسے کا تصور ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر آپ واحد نمائندہ مسئلہ اٹھائیں تو وہ یقینی طور پہ معاشی ہو گا، باقی سب ذیلی ہیں، نفسیاتی ہیں، حل تو ان کا بھی کوئی نہیں لیکن یہ والی جو ٹینشن ہے یہ مرد کا سر لے کے ہی ختم ہوتی ہے۔

کل ملا کے بھائی زیادہ سوچنا دماغ کی جڑ مارتا ہے۔ عقل گھٹ تے موجاں بتیہریاں!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ