عمران خان با اختیار وزیر اعظم

پہلے وہ وزرا، بیوروکریٹس، پارٹی ممبران، چینی کی قیمتیں بڑھانے والوں اور کچرا اٹھانے والوں پر اپنا اختیار جما لیں۔ بڑے معاملات بعد میں دیکھے جائیں گے۔

بااختیار وزیر اعظم کے تصور کی تشہیر کے لیے دوستانہ انٹرویوز میں افسانوی باتیں کافی نہیں ہوں گی(اے ایف پی)

اچھا ہوا عمران خان نے وضاحت کر دی کہ وہ کتنے بہادر اور با اختیار وزیر اعظم ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’کارگل آپریشن جیسا واقعہ اگر ان کے دور میں ہوتا تو وہ فوجی سربراہ کو فارغ کر دیتے۔ اگر ڈی جی آئی ایس آئی ان سے استعفی طلب کرتے تو وہ ان کو بھی نکال باہر کرتے۔‘ ان بیانات کی روشنی میں ایک نئے عمران خان کا تصور سامنے آتا ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف اس وقت کے وزیر اعظم کو اعتماد میں لیے بغیر لائن آف کنٹرول کے پار فوجی کارروائی کر کے بھارت کے ساتھ لاہور امن عمل کو عملا ختم کروا دیا تھا۔ اس کے بعد نواز شریف ہر موڑ پر اس واقعہ کو سویلین اختیار کی بدترین تضحیک قرار دیتے رہے۔ اسی طرح جنرل ظہیر الاسلام نے اطلاعات کے مطابق عمران خان اور طاہر القادری کے پہلے دھرنے کے دوران نواز شریف کو مستعفی ہونے کا کہا تاکہ اس مصنوعی بحران کا من پسند نتیجہ نکالا جا سکے۔

اب عمران خان نے ان دونوں واقعات پر اپنی سوچ  واضح کی ہے۔ وہ نواز شریف کی طرح بزدلی نہ دکھاتے اور بہادری سے جمہوری وزیر اعظم کی سبکی کرنے والوں کو نکال باہر کرتے۔ اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ ان کی نظر میں نواز شریف نے اس وقت قانون اور آئین کے تحت اپنے اختیار اور عہدے سے کہیں کم ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ اگرچہ ابھی تک سنائی جانے والی کہانی اس کے برعکس ہے۔ اس کے مطابق بطور وزیر اعظم نواز شریف نے کارگل اور دھرنے جیسے واقعات پر محض بالواسطہ بات کر کے ہی اداروں کی تضحیک کر دی تھی۔ عمران خان ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ اصل میں نواز شریف نے اپنا پورا اختیار استعمال نہ کر کے اپنے رتبے کی عزت کی پاسداری نہیں کی تھی اور وہ ایسا ہر گز نہیں کریں گے۔

بزدلی اور بہادری کی بحث چھوڑ کر اس حقیقت کو ماننا ہو گا کہ نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کی خفیہ کارروائیوں اور سیاسی ایجنڈے کو روکنے کے لیے ان کو عہدے سے ہٹا دیا تھا اور نئے آرمی چیف جنرل ضیا الدین بٹ کو فوجی سربراہی کی کرسی تھما دی تھی۔ اگرچہ یہ سب کچھ وزیر اعظم عمران خان کے جوان مردی سے مزین معیار پر پورا نہیں اترتا تھا لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک منتخب وزیر اعظم نے اپنے اختیار کو استعمال نہیں کیا۔

اس کے نتیجے میں ان کا تختہ الٹ دیا گیا اور جنرل مشرف طویل عرصے تک اس ملک پر قابض رہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عمران خان کی سیاست کی اٹھان مبینہ طور پر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہی ہوئی۔ ابھی تک ایسے افسران موجود ہیں جو ان کی جنرل یوسف سے ملاقاتوں کے عینی شاہد ہیں۔ ان میں شاید یہ جانچ کی جا رہی تھی کہ وہ ملک میں ایک متبادل سیاسی قائد کے طور پر لائے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ عمران خان ہمیشہ بہادروں کا ساتھ دیتے ہیں اور چونکہ نواز شریف کمزور دل ثابت ہوئے تھے لہذا انہوں نے جنرل مشرف کو اپنا سیاسی پیر ماننا قبول کیا۔

بہرحال اب وزیر اعظم عمران کی سویلین اور فوجی اختیارات والی وضاحت کے بعد کچھ ایسے اقدام کرنے کی ضرورت ہے جس سے ان کا یہ نظریہ مزید نکھر جائے۔ اس سے یہ مراد ہر گز نہیں ہے کہ ہم ان کو خارجہ اور دفاعی پالیسی میں منتخب حکومت کی آواز شامل کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ یا خدا نخواستہ پچھلے دو سالوں میں کشمیر پر ہونے والے واقعات کا پالیسی آڈٹ کروانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

ہم تو یہ تجویز کر رہے ہیں کہ انہیں نظریہ سویلین بااختیاری کی نشونما کے لیے کام کا آغاز شیخ رشید سے کرنا چاہیے۔ انہوں نے پچھلے دنوں ایک ٹی وی انٹرویو میں قوم کو گمراہ کیا۔ ریلوے وزیر نے جو خود کو راولپنڈی کا غیررسمی ترجمان بھی کہتے ہیں کہا کہ گلگت بلتستان پر ہونے والی پارلیمینٹیرینز اور آرمی چیف کی ملاقات میں وزیراعظم کی غیرموجودگی کی وجہ شاید فوج کی طرف سے ان کو نہ بلانے کا فیصلہ تھا۔ یہ بیان دیتے وقت نہ تو وزیر موصوف پریشان دکھائی دے رہے تھے اور نہ تاسف ان کے چہرے پر عیاں تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ روز مرہ کے واقعات میں سے ایک بتا رہے ہوں۔ ویسے بھی شیخ رشید اور ان جیسے دو تین دوسرے وزرا کھلے عام پاکستان کے تمام خارجی، داخلی، اندرونی اور سیاسی معاملات کو سنبھالنے کا کریڈٹ جنرل قمر باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خود کو اس حد تک بااختیار بتلاتے ہیں کہ وہ کارگل اور دھرنے جیسے امور پر نواز شریف سے دو ہاتھ بڑھ کر سرکش فوجی سربراہ اور قانون سے تجاوز کرنے والے ڈی جی آئی ایس آئی کو چلتا کرنے کو اپنا جمہوری حق بتا رہے ہیں۔ اور دوسری طرف ان کے وزرا قوم کو یہ بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران کو پالیسی اجلاسوں میں بلانے یا نہ بلانے کا فیصلہ کوئی اور کرتا ہے۔

عمران خان کو شیخ رشید کو اپنے الفاظ واپس لینے کی ہدایت کرنی چاہیے کیوں کہ وہ دلیر ہیں۔ ویسے عمران خان کے اس نکتہ نظر کو مزید تقویت ملتی اگر ان کے آفس کی طرف سے پچھلے دنوں جاری ایک حکومتی مراسلے کی غیرضروری وضاحتیں نہ کی جاتیں۔ اس پالیسی ہدایت نامے میں یہ کہا گیا تھا کہ تمام بیوروکریٹس اور منسٹر حضرات فوجی قیادت سے براہ راست رابطے سے گریز کریں۔ لیکن  پھر اگلے روز ہی یہ بتایا گیا کہ یہ ہدایت وزیر اعظم کے آفس سے نہیں بلکہ معمول میں جاری کی گئی ایک گائیڈ لائن تھی جو پہلے سے جاری شدہ ہے۔ اس سے بعض حلقوں میں یہ تاثر ابھرا کہ یہ فوری وضاحت اس ردعمل کا ردعمل تھا جو راولپنڈی سے آیا۔

بااختیار وزیر اعظم کے تصور کی تشہیر کے لیے دوستانہ انٹرویوز میں افسانوی باتیں کافی نہیں ہوں گی اور نہ ہی اپنے اختیار کے اعتماد کا اظہار فوج سے متعلق معاملات تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران اپنی طاقت اور اخلاقی قوت سے بھرپور اختیار کو قوم کے سامنے کچھ اور اقدامات کے ذریعے بھی ثابت کر سکتے ہیں۔ مثلا وہ چینی اور آٹے کے بحران کو گہرا کرنے والے تاجروں اور آڑھتیوں سے صرف ایک روپیہ قیمت کم کروا کر اپنے موثر وزیراعظم ہونے کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں۔

نجانے کیوں ایک ایسا سربراہ حکومت جو فوجی سربراہان کو اپنی پالیسی کے تابع لا سکتا ہے تمام تر کوشش کے باوجود مارکیٹ میں چینی، دوائیوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں دھیلے کی تخفیف کروانے سے قاصر ہے۔ اور وہ خود یہ مانتے ہیں کہ پچھلے سال کم گندم کے پیداوار کے بارے میں ان کو لاعلم رکھا گیا۔ اسی طرح اگر اسلام  آباد سے کوڑا کرکٹ اٹھوانے کا وعدہ پورا ہو جائے تو وہ اعتماد بحال ہو گا جو پچھلے کئی سال کے واقعات سے اس حد تک مجروح ہوا کہ ایک دلیر وزیر اعظم پر بےاثر و اختیار کٹھ پتلی کے الزامات لگنے لگے۔

فی الحال ہماری دلی دعا ہےکہ عمران خان کو مستقبل قریب میں ان حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے جن میں نواز شریف نے بزدلی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ابھی تک اس دلیری کی کوئی نیٹ پریکٹس نہیں کی جس کے بڑے ٹورنامنٹ کی ٹرافی اٹھانے کی بات وہ انٹرویوز میں کر رہے ہیں۔

پہلے وہ وزرا، بیوروکریٹس، پارٹی ممبران، چینی کی قیمتیں بڑھانے والوں اور کچرا اٹھانے والوں پر اپنا اختیار جما لیں۔ بڑے معاملات بعد میں دیکھے جایں گے۔ فی الحال بہادری کی یہی مثالیں کافی ہوں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ