سابق برطانوی سفیر بھی بریگزیٹ سے شدید مایوس

ٹام فلیٹچر کی رائے کے مطابق دنیا بھر میں بریگزٹ کی وجہ سے برطانیہ کا مزاق اڑایا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں بطور برطانوی سفیر خدمات انجام دینے والے ٹام فلیٹچرنے دی انڈپینڈنٹ میں لکھے گئے مضمون میں بتایا کہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے یا بریگزیٹ کو دوسرے ممالک تعریفی نظروں سے نہیں دیکھتے ہیں۔

’امریکی کانگریس کے ارکان نے ایک طویل فہرست کو میری جانب یہ کہتے ہوئے اجھال دیا۔ جو آپ برطانوی لوگوں نے کیا وہ تو مسٹر بین، بیسل فالٹی، ایلن پیٹرج یا ڈیوڈ برینٹ جیسے مزاحیہ کردار بھی نہیں کر پائے۔'

’ہماری قابلیت کے بارے میں دنیا کی رائے، جو ہم نے صدیوں کی محنت کے بعد پائی تھی، اب شدید خطرے میں ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہے آپ کو واشنگٹن یا بیروت جانے کی ضرورت نہیں ہے- یہ معاملہ بریگزٹ کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا ہماری شہرت اور نیک نامی کے بارے میں ہے۔  مجموعی طور پر ہم نے خود دنیا کو مدعو کیا ہے کہ وہ ہمیں ڈوبتے ہوئے دیکھیں۔‘

بریگزٹ کے عمل میں اکتوبر تک توسیع کر کے یورپی یونین کے رہنماؤں نے اب برطانیہ کے لیے نئی لائف لائن کھینچ دی ہے یا یوں کہیے کہ ہمیں ایک کَسے ہوئے رسے پر مزید چلنا ہے جس پر منحصر ہو گا کہ بریگزیٹ کے معاملے میں ہم کس سمت کھڑے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس طویل عرصے میں خود احتسابی، خُود تشخیصی اور تقسیم سے نکلنے کے لئے تیار ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے بین الاقوامی نقطہ نظر کو دوبارہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

جیسا کہ دنیا کے مسائل زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں ایسے میں ہمیں اپنے اندرونی تنازعات اور سلامتی پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی جو خود ایک آزمائش سے کم نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ بریگزیٹ پر جو بھی ہوا ہے اس کے بعد ہم دنیا سے اپنا رشتہ کمزور کر رہے ہیں اور یہ مزید کمی کے راستے پر ہے۔ اب ہمارے قومی مفادات کا انحصاراس بات پر ہے کہ ہم بین الاقوامی برادری سے اپنے تعلقات کو کیسے اور کتنی تیزی سے دوبارہ استوار کرتے ہیں۔

ملک اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب وہ باقی دنیا کو خوش آمدید کہتے ہیں، لوگوں کا استقبال کرتے ہیں اور نئی منزلیں تسخیر کرتے ہیں۔  جب ریاستیں حقیقت پر مبنی عالمی نظریہ رکھتی ہیں تو وہ سب سے بہترہوتی ہیں.

ہمیں جاننا چاہیئے کہ ہمارے ارد گرد دنیا کس حد تک تبدیل ہو رہی ہے جبکہ اس کے برعکس ہم دوسری ہی قسم کی منصوبہ بندیوں میں مصروف رہے ہیں۔  عالمی تعاون اور کامیابی کا وہ دور جس کا آغاز ہم نے 1948 میں کیا اور1989 میں اسے عروج تک پہنچایا وہ 2016 میں بریگزٹ کی شکل میں ختم ہوگیا۔

صدر ٹرمپ کے انتخاب کے بعد حالات بدتر ہو گئے، خود غرضی کے نئے دور سے وہ اقدار اور اصول یتیم ہو گئےجنہیں کبھی عالمگیر اور مقناطیسی سمجھا جاتا تھا۔

ہمیں معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ تباہی کی یہ صورتحال کیا واقعی صرف امریکی رویے، روسی رکاوٹ یا طاقت کی مشرق کی جانب منتقلی سے ہی پیدا ہوئی ہے؟
 ہماری توجہ اب ہمارے قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کے دفاع اور اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لئے ہونی چاہیے جب تک کہ ہماری کھوئی ہوئی روشنی واپس آ جائے۔

اس سب کا انحصاراس بات پر ہے کہ برطانیہ اندورنی طور پر کیسے اپنی تجدید اور اتحاد کی روح کو تلاش کرتا ہے۔  ہم نے بہت مزاحیہ پن کر لیا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود کو زیادہ سنجیدگی سے لیں تاکہ دنیا بھی ہمیں دوبارہ سنجیدگی سے لینا شروع کر دے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ