بلااجازت خواتین کی نامناسب یا شہوانی تصاویر کھنیچنے کے خلاف قانون منظور

اس قانون کو 'ووئرازم ایکٹ 2019' کا نام دیا گیا اور 12 اپریل کو برطانوی قانون میں نافذ العمل ہونے والی یہ شق سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جینا مارٹن کی جانب سے چلائی گئی 20 ماہ طویل مہم کے بعد منظور کی گئی۔

20 ماہ طویل قانونی جنگ لڑنے والی جینا مارٹن۔ تصویر، انسٹاگرام

برطانیہ میں خواتین کو بتائے بغیر ان کی نامناسب یا شہوانی تصاویر کھینچنے کے خلاف ایک نیا قانون منظور ہوا ہے جس کے مطابق ایسے کسی بھی عمل کی سزا دو سال تک قید کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ 

اس قانون کو 'ووئرازم ایکٹ 2019' کا نام دیا گیا اور 12 اپریل کو نافذ العمل ہونے والی یہ شق سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جینا مارٹن کی جانب سے چلائی جانے والی 20 ماہ طویل مہم کے بعد منظور کی گئی۔

جینا مارٹن ایک تقریب کے دوران 'اپ سکرٹ' فوٹو گرافی (سکرٹ ہٹ جانے پر تصویر بنا لینا) کا نشانہ بنی تھیں۔ عموما یہ ایسی تصاویر ہوتی ہیں جن میں خواتین کا لباس ذرا سا ہٹتے ہی تاک میں موجود فوٹوگرافر کوئی بھی نامناسب تصویر بنا لیتے ہیں اور انہیں انٹرنیٹ پر مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ 

سوشل میڈیا کی یہ طاقت 'ہیشٹیوازم' کے نام سے جانی جاتی ہے جس کے تحت اس سے پہلے می ٹو جیسی مہمات بھی کامیابی سے ہمکنار ہو چکی ہیں۔ 

2017 میں اپنے ساتھ ہونے والی اس نامناسب فوٹوگرافی کے بعد جینا مارٹن نے جب پولیس سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ لندن کے قانون میں ایسی کوئی دفعہ نہیں ہے جو اپ سکرٹنگ کی تصاویر لیے جانے پر مقدمہ درج کروانے میں مددگار ہو۔ 

یہ سب جاننے کے بعد انہوں نے اپنا مقدمہ فیس بک اور سوشل میڈیا پہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک آن لائن پیٹیشن بھی دائر کی جس کی رو سے پولیس ان کا کیس دوبارہ کھولنے کی پابند ہو جاتی اور اپ سکرٹنگ کی تصاویر کو قابل دخل اندازی پولیس جرم مانا جاتا۔ چند دنوں میں ہی ان کی پٹیشن پر 50،000 سے زیادہ دستخط موجود تھے اور برطانیہ کی حکومت اس مسئلے کا نوٹس لے چکی تھی۔ 

جینا کہتی ہیں کہ انہوں نے ان بیس ماہ میں بہت سے سبق سیکھے۔ انہوں نے جانا کہ سوشل میڈیا سے بڑی کوئی طاقت نہیں۔ لوگوں کو یہاں بہت عمدہ طریقے سے اپنا موقف سمجھایا جا سکتا ہے۔ آپ ملکی قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ آپ خواتین کی موثر آواز بن کے سامنے آ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ جینا کا یہ بھی ماننا تھا کہ ایسی کوئی بھی مہم چلانے کے لیے آپ مکمل طور پر خود کو وقف کیے بغیر کوئی فیصلہ کن نتیجہ نہیں حاصل کر سکتے۔ 

جینا نے کہا، 'مجھے خواتین سے آن لائن بہت زیادہ تعاون ملا اور اس کے برعکس مردوں کی طرف سے بہت طعنے اور گالیاں سننے کو ملیں۔ میری خواہش ہے کہ میں یہ کہہ سکتی کہ ایسا کچھ نہیں ہوا مگر یہ حقیقت ہے۔ یہی سب کچھ ہوا تھا۔ سب سے برا تو یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی ہوتا رہے ہم اسے بالکل نارمل سمجھتے ہیں۔'

جینا بہت پرجوش ہیں کیوں کہ ان کے خیال میں ان کی اس مہم سے خواتین کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل جائیں گی اور یہ قانون ایک تاریخ ساز قانون کہلائے گا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین