ایرانی خاتون باکسر بین الاقوامی مقابلوں کے لیے نامزد

24 سالہ صدف ہفتے کو مغربی فرانس میں باکسنگ کے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیں گی۔

صدف خادم دو برس تہران کی پہاڑیوں پر خفیہ تیاریوں میں مصروف رہیں یہاں تک کہ وہ اپنے قدامت پسند معاشرے کی تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے پہلی بار باکسنگ کے بین الاقوامی مقابلوں میں اسلامی جمہوریہ کی نمائندگی کرنے کے قابل بن پائیں۔

24 سالہ صدف ہفتے کو مغربی فرانس میں باکسنگ کے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیں گی۔

صدف کی تربیت ایرانی نژاد فرانسیسی باکسرمہیار منشی پور کر رہے ہیں جو سابقہ عالمی چیمپین بھی ہیں۔

روئیٹر سے بات کرتے ہوئے منشی پور کا کہنا تھا کہ وہ 2017 میں باکسنگ کے فروغ کے لیے ایران کے دورہ پر گئے تھے جہاں انہوں نے تہران کی پہاڑیوں پر تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا جس میں 35 کھلاڑیوں نے شرکت کی جن میں چھ خواتین بھی شامل تھیں۔

اس سے قبل صدف نے ان سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کر کے باکسنگ کی تربیت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم اس وقت انہوں نے انکار کر دیا تھا۔

دو ماہ بعد ایرانی باکسنگ فیڈریشن نے خواتین کے لیے باکسنگ کے دروازے کھولنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے انہیں اپنے تربیتی کیمپ میں شمولیت کی دعوت دی۔

لیکن یہ واضح تھا کہ ایرانی حکومت خواتین کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے مرد ٹرینر اور ریفری کو اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔

تاہم کھیلوں کی وزارت کے توسط سے صدف فرانس جانے میں کامیاب ہو گئیں۔

اگلے ہفتہ صدف واپس ایران گئیں تو وہاں خواتین حجاب کے لازمی قانون کے خلاف پرامن احتجاج کر رہی تھیں۔

منشی پور جو خود بھی ان کے ہمراہ ایران لوٹ رہے تھے،  اس صورتحال میں صدف کی ممکنہ کی گرفتاری سے خوفزدہ تھے۔

صدف نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران جیسے قدامت پرست معاشرے میں خواتین کے لیے باکسنگ جیسے کھیلوں میں حصہ لینا مشکل امر ہے۔

ایران میں چند خواتین ہی باکسنگ کا انتخاب کرتی ہیں، یہاں ان کے مقابلوں کا انعقاد غیرقانونی ہے۔ ایرانی خواتین کھلاڑی ترکی میں ہونے والے مقابلوں میں شریک ہوتی ہیں مگر یہاں بھی ان کو میڈیکل انشورنس نہیں دی جاتی۔

صدف نے فرانس میں قومی ادارہ برائے کھیل سے تربیت حاصل کی اور انہیں مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے فرانسیسی لائسنس جاری کیا گیا۔

مردوں کے درمیان تربیت حاصل کرنے والی صدف کو جب یہ اعزاز ملا تو وہ جذبات سے مغلوب ہو کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھیں۔

’جب میں نے باکسنگ کی تربیت کا آغاز کیا تھا تو میرے والدین اس بارے میں بہت متفکر تھے تاہم جب انہوں نے اس کھیل سے میرا لگاؤ دیکھا تو وہ میری حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ ان کی ہمت افزائی کے بغیر میں کبھی آگے نہ بڑھ پاتی۔‘

’میں اس لمحے کا مدت سے انتظار کرتی رہی ہوں، مجھے امید ہے کہ میرا یہ پہلا مقابلہ باکسنگ کے فروغ کے لیے ایران کی دوسری خواتین کی بھی حوصلہ افزائی کرے گا۔‘

68 کلو گرام کیٹیگری کے مقابلے میں حصہ لینے والی صدف ایرانی خواتین کے لیے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئیں ہیں جو دقیانوسی روایات کو توڑنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔

’میرے ملک میں کئی خواتین باکسنگ میں حصہ لینے کی خواہش مند ہیں اور میری یہ لڑائی ان کے لیے ہے۔‘

اپنی مشکلات کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدف کا کہنا تھا ’ہر ایک کی زندگی میں مشکل دور آتا ہے تاہم آپ کو ہمت اور حوصلے سے ان رکاؤٹوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہنا چاہیے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی فٹنس