’کیا دن تھے جب ہم بھی کرکٹ کھیلتے تھے‘

لڑکپن کی بےفکری کے دنوں میں گلی محلوں میں ٹیپ بال سے کرکٹ کھیلنے کا جو لطف تھا وہ آج تک نہیں بھولا۔

(اے ایف پی)

حال ہی میں سوشل میڈیا پر سرفنگ کرتے ہوئے انتہائی دلچسپ پوسٹ کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ لکھا تھا، ،بچپن میں گیند خریدنے کے لیے 11 دوست مل کر بڑی مشکل سے پیسے اکٹھے کرتے تھے، اب کوئی ایک بھی پیسہ دے سکتا ہے لیکن 11 دوست اکٹھا کرنا مشکل ہے!‘

بات تو یقین جانیں بہت گہری تھی جو ہماری بھاگم بھاگ زندگی کی افراتفری کی بھرپور عکاسی بھی کرتی ہے۔ سوچ کے گھوڑے دوڑائے تو پلک جھپکتے میں ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پر مجبور ہو گئے۔

لڑکپن بھی کیا عجیب اور نرالا تھا۔ کوئی فکر یا کوئی پریشانی دل و دماغ کو چھونے نہیں دیتے تھے۔ زندگی کے ہر موسم اور ہر رنگ سے لطف اندوز ہوتے۔ والد صاحب کی دی ہوئی پاکٹ منی پر خوب عیاشی ہوتی۔ ہم یا تو پڑھتے یا پھر کھیلتے۔ چاروں طرف کھیل تماشوں کا دور ہوتا، موج مستیاں عروج پر رہتیں۔ یار دوستوں کی محفلیں اور پھر ان سب کے درمیان کرکٹ کا جنون۔ یہ شوق اور جنون ہر چیز پر غالب آ جاتا۔

کس سے ہارے کس سے جیتے، اس پر جلنے کڑھنے کے بجائے یہ سوچتے کہ جو وقت ملا ہے اسے رنگوں سے بھر دیں۔ کرکٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا۔ جہاں فرصت ملتی، گیند اور بلا تھام کر گلی محلوں کو ہی میدان بنا لیتے۔ اس زمانے میں ہڑتال یا سرکاری چھٹی کا اکلوتا لطف یہ ہوتا کہ بس میچ کھیلیں گے، صبح سویرے گھر سے نکلتے تو شام میں ہی واپسی ہوتی۔

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس دور میں سیاسی جماعتوں کی آئے دن کی ہڑتال کرکٹ کے اور قریب لے گئی۔ کسی نہ کسی بات پر کاروبار زندگی تو بند ہو جاتا لیکن کھیل کے میدان آباد ہونے میں دیر نہیں لگتی۔

کرکٹ تو جیسے ہر ایک کی رگ رگ میں لہو بن کر دوڑ رہا ہوتا اور اس جوش میں اس وقت اور اضافہ ہو گیا جب ہمارے کپتان عمران خان نے عالمی کپ جیت لیا۔ اب کوئی عاقب جاوید بن کر بولنگ کراتا تو کوئی عمران خان تو کوئی وسیم اکرم، کوئی جاوید میاں داد یا انضمام الحق کی کاربن کاپی بننے کی جستجو میں ہوتا تو کچھ رمیز راجہ سے کام چلا لیتے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ پاکستان میں کرکٹ یا ہاکی کا فروغ ٹیموں کی اعلیٰ کارکردگی سے مشروط رہا۔

 گلی محلوں میں چار پانچ لڑکے اکٹھے ہوتے، کوئی بیٹ لے آیا تو کوئی گیند، جگہ اور کھلاڑی کم پڑتے تو جناب ون ٹپ کھیل کر کرکٹ کا مزہ اٹھایا جاتا۔ وکٹ کی جگہ کرسی، بوتلوں کے کریٹ، یا پھر اینٹیں رکھ دی جاتیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویسے ہم یہ بات آج تک نہیں جان پائے کہ ہم اچھے بولر تھے یا بلے باز اور اسی تذبذب کا شکار ہمارے وہ کپتان بھی رہے جو ہمیں کھلاتے۔ ہمارے ’پائے‘ کے کھلاڑی ہر ٹیم میں ہوتے ہیں جو اپنے سے زیادہ کپتان کی قیادت کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ جس طرح مطالعہ پاکستان میں ’ازلی دشمن‘ کا تذکرہ بار بار ملتا ہے، وہیں ہمیں یقین ہے کہ آپ کی زندگی کے مطالعہ کی کتاب میں بھی کہیں نہ کہیں کوئی ایسا کرکٹ کا ازلی دشمن ضرور ہو گا، جسے اس کھیل سے خدا واسطے کا بیر رہا ہو۔

ہمارے لڑکپن میں صرف ایک ہی شخص خالو خلیل ملتے ہیں جن کے گھر میں گیند چلی جائے تو وہ مودی کی طرح اس پر اپنا حق سمجھتے ہوئے قبضہ جما لیتے۔ پھر کھینچ تان کر بڑی مشکل سے پیسے جمع ہوتے اور کوئی انضمام الحق کی طرح پھر بلا گھما کر گیند کو خالو خلیل کے گھر کا ’بن بلائے مہمان‘ بنا دیتا تو ماشا اللہ خالو کے ہاتھوں میں ایسی برکت تھی کہ ایک گیند کے چار ٹکڑے کرکے گیٹ کے اندر سے ہی واپس لوٹا دیتے، شیشہ ٹوٹے یا نہ ٹوٹے خالو خلیل بڑا کرکٹر بننے کے سارے ارمانوں کو چکنا چور ضرور کرنے میں مشاق تھے۔

 ٹیپ یا گیند کے لیے پیسوں کی کمیٹی ڈل رہی ہوتی تو ایک دو تین تو ایسے ہوتے جو اس وقت ایسے غائب ہو جاتے جیسے ہمارے بعض رہنما احتساب کے وقت لندن روانہ ہو جاتے ہیں۔ جو ہوتے ان میں سے ایک دو اگلی بار پیسے دینے کا ’انتخابی نعرہ‘ لگاتے۔ کوئی یاد دلاتا کہ تم ہر بار یہ عہد و پیماں کرتے ہو تو وہ حزب اقتدار کی طرح اپوزیشن سمجھ کر ان کی ’مالی بے قاعدگیوں‘ کا کچا چٹھا کھول دیتے۔

آپ کا بھی ہر دور میں کسی نہ کسی ’بے ایمان کرکٹر‘ سے پالا ضرور پڑا ہو گا جو میچ کے دوران اپنی کاری گری ضرور دکھاتا ہو اور الیکشن ہارنے کے بعد کسی ’روتو سیاست دان‘ کی طرح فیصلے نہ ماننے پر بھی خوب غل غپاڑہ مچاتا ہو گا۔ ہم بھی ایسے کئی ’سیاسی کرکٹروں‘ کو بھگت چکے ہیں۔ ایک موصوف تو ایسے تھے جن کا بلا اور گیند ان کا ہی ہوتا تو ذرا سی اونچ نیچ کیا ہو جائے کہ دونوں چیزیں گھر لے جانے کی دھمکی بھی لگا دیتے۔ بحالت مجبور امپائر ان کو کبھی آؤٹ نہیں دیتا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی ’نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے‘ کے فارمولے پر عمل کر کے کرکٹ کی بساط لپیٹ کر گھر چلا جائے۔

’روتو کھلاڑیوں‘ کی ایک قسم وہ بھی تھی جو ہر کھلاڑی کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان کی طرف دیکھ کر یہ کہتا کہ ’میں چلا جاؤں؟‘ اتفاق سے اگر اس کی بیٹنگ نہ آئے اور میچ ہار جائیں تو اگلے میچ تک وہ اپنی بیٹنگ نہ آنے کا دکھڑا روتا رہتا تھا۔

کرکٹ کا جنون تو ویسے ہم نے منے بھائی میں دیکھا تھا جو اپنے ہی نہیں مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو گھر گھر جا کر بتاتے کہ فلاں جگہ میچ ہے آ جائیں۔ میچ سے پہلے پنجے گاڑھ کر پچ پرجم جاتے۔ وہ بھی اس لیے کیونکہ اس زمانے میں یہ قانون تھا کہ ’پہلے آؤ پہلے پاؤ۔‘

اتنے معصوم اور جنونی تھے کہ بسا اوقات چھوٹے بھائی کو پچ کی نگرانی کا کام لگا کر لڑکوں کو جمع کرنے لگ جاتے۔ اتنی بھاگ دوڑ کے بعد جب لڑکوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی تو کپتان کی نگاہیں منے بھائی کی جانب قربانی دینے کے لیے اٹھ جاتیں اور وہ اس راہ میں بھی ہنسی خوشی قربان ہونے کو آمادہ بھی ہو جاتے۔ جبھی کسی نے ایک دن ان سے دریافت کر لیا، ’بھائی باقی سب تو کرکٹ کھیلنے آتے ہیں تم کیا کرنے آتے ہو؟‘ تو بے چارے شکوے بھری نگاہوں سے کپتان کی جانب دیکھنے لگے۔

 کچھ ایسے بھی ’گھس بیٹھیے‘ ہوتے جو اچھے خاصے منزل کی طرف رواں دواں ہوتے لیکن پھر نجانے کیوں صرف ایک گیند کھیلنے کی خواہش ان کے دل میں جاگ اٹھتی۔ بڑی عمر کے یہ احباب کسی نہ کسی کے بھائی کے دوست نکلتے، جبھی احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میچ کا ٹیمپو توڑتے ہوئے انہیں ایک گیند کے بجائے پورے پورے اوور کرا دیے جاتے لیکن پھر بھی ان کی پیاس نہ بجھتی۔

تھرڈ مین کی پوزیشن کسی بھی کھلاڑی کے لیے ’سزائے کالا پانی‘ سے قریب ہوتی کیونکہ یہاں رہتے ہوئے وہ کھلاڑیوں سے سماجی فاصلہ وہ بھی اچھا خاصا رکھنے پر مجبور ہوتا۔ اس کا کام تو صرف گیند اٹھانے تک ہی محدود ہو کر رہ جاتا اور ہمارا جیسا کاہل کھلاڑی ہو تو کسی آؤٹ پر اتنی دور سے جشن منانے کے بجائے وہیں کھڑے کھڑے تالی بجا کر اپنا حصہ ڈال دیتا۔

مزے کی بات یہ کہ میدان میں کھلاڑیوں سے زیادہ تماشائی بھی ہوتے۔ کوئی گھر کے کام سے نکلتا تو کھڑا ہو کر میچ کا لطف ضرور اٹھاتا۔ فی زمانہ تو تماشائیوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ ’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘ بنیں۔ ذرا تصور تو کریں کیسی شفایت شعاری کا دور تھا کہ ایک بلے پر پوری ٹیم انحصارکرتی۔ رن بنانے کے بعد نان سٹرائیکر اچھے بچوں کی طرح الٹے قدموں چلتے ہوئے سٹرائیکر کو بلا تھمانے آ جاتا، جس کو پکڑ کر وہ اننگ آگے بڑھاتا۔

 کراچی میں ان دنوں کرکٹ اپنے پورے عروج پر ہوتی۔ دن ہی نہیں جناب نائٹ میچوں کا میلہ سجتا تو گھر والوں سے اجازت مانگنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا۔ اس سلسلے میں سب سے معتبر اور معزز محلے دار کی ’شخصی ضمانت‘ پر نائٹ میچ کھیلنے کی اجازت ملتی لیکن پھر دھیرے دھیرے کرکٹ کے میدان تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگے۔ جو رہ گئے تھے ان پر چائنا کٹنگ یا قبضہ مافیا نے اپنا کام دکھایا۔

پھر جن دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلی جاتی تھی وہ بھی اپنی اپنی عملی زندگیوں میں مصروف ہوتے چلے گئے۔ کبھی کبھار دفتری ساتھی کوئی میچ رکھ لیں تو پکڑ دھکڑ کے ساتھ ٹیم بن ہی جاتی ہے۔ اب یہ کھلاڑی آل راؤنڈر ہیں یا بولر یا پھر بلے باز، انہی کی زبانی معلوم ہونے پر یقین کر لیا جاتا۔

کھیلنے کے بجائے اب ٹی وی کے سامنے میچ دیکھتے ہوئے بس دل میں ایک آہ سے اٹھتی ہے کہ ’ہائے کیا دن تھے جب ہم بھی کرکٹ کھیلا کرتے تھے!‘

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ