وی سی آر۔۔۔ تری یاد آئی ترے جانے کے بعد

جب ہیرو یا ہیروئن ضبط کے بندھن توڑ کر اخلاق کی حدوں کو پارکرنے کے لیے پر تول رہے ہوتے تو بزرگوں کا بھی ٹھنڈا خون جوش مارتا ‘ جو ہم جیسے بچوں کو یہ پتہ نہیں لگنے دیتے کہ اگر ہیرو نے ہیروئن کا ہاتھ پکڑا تھا تو اس کے بعد اس کی ’حد‘ کہاں جا کر ختم ہوئی تھی۔

(پکسابے)

گزشتہ دنوں ایک ضروری چیز کی تلاش میں بیگم صاحبہ کی’جہیزی الماری‘ کی  ’سرچ وارنٹ‘ کے بغیر تلاشی لی توجناب صاحبزادے کے ہاتھ ہمارے بڑے بھائی کی شادی کی ویڈیو ہوم سسٹم یعنی  ’وی ایچ ایس‘ ہاتھ لگ گئی۔

اس کا وہ بالکل ایسے ہی تجزیہ  یا پوسٹ مارٹم کررہے تھے جیسے آثار قدیمہ سے کسی کو قدیم نوادارت مل جائیں اور یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ یہ کب‘ کیسے اور کس کے استعمال میں ہوگی۔

سوال داغا گیا کہ آخر یہ کیا چیز ہے؟ اب ڈی وی ڈی‘  یو ایس بی‘  اسمارٹ فون ‘ یو ٹیوب اور نیٹ فیلکس کے دور کے اِن بچوں کو کیا پتا کہ یہ کسی زمانے میں کیا ’شاہکار‘ ہوتا تھا۔  جسے ویڈیو کیسٹ ریکارڈر یعنی  ’وی سی آر شریف ‘ میں سمو کر جوانی میں ہماری جیسی عمر کے کتنے نوجوانوں نے   دلیپ کمار،  امیتابھ بچن،  منداکنی، میناکشی، مادھوری، دھرمیندر، ونود کھنہ، ریکھا‘  رشی کپور‘ سری دیوی اور زینت امان کی ہوشربا حشرسامانیاں دیکھیں۔

80 کی دہائی میں ضیا صاحب کی مہربانی سے پاکستان میں جہاں افغان اور کلاشنکوف کی بے دریغ انٹری ہوئی  وہیں وی سی آر بھی چپکے چپکے  سے ہمارے گھروں کے ڈرائنگ روم میں آ دھھمکا۔ جسے بڑی شان و شوکت سے کسی دلہن کی طرح سجا کر ٹی وی ٹرالی میں رکھا جاتا۔

جو ’صاحب وی سی آر‘ ہوتے‘  ان کی الگ اور  منفرد عزت و تکریم ہوتی۔گھر آئے مہمان کو لذت کام و دہن سے زیادہ اس بات میں دلچسپی ہوتی کہ صاحب خانہ آج کون سی فلم کا دیدار کروائیں گے۔

واقعی کیا رنگین دور تھا جناب،  جب فلم دیکھنے کا بھی بڑا اہتمام ہوتا۔کہیں  صبح سویرے  تو کہیں دن کے ایک پہر یہ ’میٹنی شو‘ لگتا تو کہیں رات گئے کسی بھی نئی فلم کا پریمیر ہوتا  بالخصوص ’ویک اینڈ‘ پر تو اس ’لیٹ نائٹ شو‘ کا دورانیہ بسا اوقات موذن کی فجر کی  اذان تک جاپہنچتا۔

گھر کے بڑوں کے ہاتھ میں چھوٹا سا ریموٹ ہوتا‘ جو اُس وقت زیادہ کام آتا جب ہیرو یا ہیروئن ضبط کے بندھن توڑ کر اخلاق کی حدوں کو پارکرنے کے لیے پر تول رہے ہوتے تو بزرگوں کا بھی ٹھنڈا خون جوش مارتا ‘ جو ہم جیسے بچوں کو یہ پتہ نہیں لگنے دیتے کہ اگر ہیرو نے ہیروئن کا ہاتھ پکڑا تھا تو اس کے بعد اس کی ’حد‘ کہاں جا کر ختم ہوئی تھی۔ ویسے یہاں بتا دیں کہ پران،  امجد خان‘ رنجیت، پریم چوپڑہ، شکتی کپور، گلشن گرور  اور امریش پوری اگر کسی تنہا ہیروئن کو سنسنا ن جگہ پر کسی ’راہزن‘ کی طرح آگھیرتے تو غیب کا علم جاننے والے یہ گھر کے بزرگ‘ ان کے ارادوں کو بھانپ جاتے جبھی  جھٹ پٹ ’فاسٹ فاروڈ‘ کرکے  اس ساری واردات سے جان چھڑا لیتے۔ خیر ہم تو کئی بڑوں کورنگے ہاتھوں اُس وقت پکڑچکے ہیں جب وہ ہیروئن کی طرح خود تنہا ان مناظر کے لطف اٹھا رہے تھے۔

اُس دور میں آپ کے کسی سے مراسم اچھے ہوں نہ ہوں لیکن ویڈیو شاپ مالکان سے خوشگوار سفارتی تعلقات آپ کو گھر بیٹھے کسی بھی نئی فلم کے ’ماسٹر پرنٹ‘ کا حقدار بنادیتے۔ لیکن شرط یہ ہوتی کہ تین گھنٹے میں فلم نمٹائیں تاکہ نئی مووی دیکھنے کا یہ کارواں کسی مقام پر تھمے نہیں رکے نہیں۔ آج کل کی طرح عوامی رائے اور تبصرے جان کر فلم دیکھنے کا تو رحجان تھا ہی نہیں جبھی کچھ ایسی فلموں سے بھی فیض یاب ہوتے جن کے ’دی اینڈ‘ پر یہ خیال آتا کہ فضول میں کرایہ اور وقت ضائع کیا۔

اُس زمانے میں جہاں بڑے بجٹ کی مہنگی مہنگی فلمیں بنیں‘ وہیں ہم نے کئی ایسی ’ فرنگی تخلیقات‘  کا ذکر بھی سنا‘ جس کے پروڈیوسرز اس قدر غریب ہوتے کہ اپنی ہیروئن اور ہیروز کے لیے بے چارے ملبوسات کا بھی اہتمام نہیں کرسکتے تھے اور یہ فلمیں نوجوان نسل میں خاص ذوق و شوق سے دیکھی جاتیں جو یار دوست گروپ بنا کر  یا پھر اکیلے دیکھتے اور  ان فنکاروں کی اس ’غربت‘ پر کڑھنے کے بجائے ذہنی تسکین حاصل کرتے۔

ہمارے جیسے فلموں کے رسیا ایسے بھی تھے جو فلم کے اختتام تک کیسٹ کو چلنے دیتے کہ ممکن ہے کہ کوئی اور فلم نکل آئے۔ اسی طرح بعض شوقین اسٹیج شوز، مشاعرے‘  قوالیاں میوزیکل پروگرام اور گیت مالا دیکھنے میں زیادہ دلچسپی دکھاتے۔ جو ویڈیو شاپس پر باسانی مل بھی جاتے۔

فلم دیکھتے ہوئے سکرین پر بڑھاپے کی طرح ’جھارئیاں‘ آجائیں تو تو ایسا محسوس ہوتا جیسے وی سی آر کہہ رہا ہے کہ ’آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘۔جبھی پرفیوم یا پھر سوتی کپڑا نکال کر  ’ہیڈ صاحب‘ کا دماغ صاف کیا جاتا  ’ریل‘  ٹوٹنے کی صورت میں کسی ماہر کاری گر کی خدمات حاصل کی جاتیں جو کبھی نیل پالش یا پھر اسکوائچ ٹیپ سے ایک سے دوسرے سرے کو جوڑ کر فاتحانہ انداز میں مسکراہتا۔  دبئی یا سعودی عرب سے آنے والوں سے کھجوریں یا دیگر تبرکات لانے کے بجائے گھر والوں کی سوئی ’وی سی آر‘  کے مطالبے پر اٹکی رہتی۔

کیبل کا کاروبار تو اب پھلنے پھولنے لگا لیکن اُس وقت ننھی منی سی  لیڈ  ’اتحاد بین المسلمین‘  کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ جو ’اہل وی سی آر‘ ہوتے وہ اس ’لیڈ‘ کے ذریعے آس پڑوس کو بھارتی ثقافتی یلغار سے محروم نہ رکھتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعض اوقات ’لیڈ‘ کے حصول کے لیے خواتین کو ’کامیاب سفارت کاری‘ کی ذمے داری سونپی جاتی۔جو مشن میں کم و بیش کامیاب بھی رہتیں۔یہ نہیں ہے کہ وی سی آر صرف بھارتی فلمیں دیکھنے تک محدود تھا، بلکہ کچھ باذوق، پی ٹی وی ڈرامے یا پروگرام بھی ریکارڈ کرنے کے عادی  تھے‘  یہ جو ہم یو ٹیوب پر اسی اور نوے کی دہائی کے کچھ پروگرام کا نظارہ کرلیتے ہیں ‘ درحقیقت اس کا سہرہ‘  اُنہی حضرات کے سر جاتا ہے۔ جنہوں نے ان ریکارڈنگ کو جدید اندازدے کر اپ لوڈ کیا ہے۔

خیر  اسی دوران وی سی آر کے سوتیلے بھائی ’وی سی پی‘ کی آمد ہوئی‘  جو بڑے بھیا کے مقابلے  کے مقابلے میں کم قیمت  اور آسان طریقہ استعمال سے مالا مال تو تھا لیکن ریکارڈنگ کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔  اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یہ جگہ ذرا کم ہی گھیرتا تھا۔  اِدھر  ویڈیو شاپس مالکان نے بھی کاروبار کو وسعت دینے کے لیے اب وی سی پی کے ساتھ مختلف فلموں کے رعایتی نرخ پر مختلف  پیکجزبھی  متعارف کرانے شروع کردیے۔جبھی وی سی پی نے وی سی آر کی سلطنت کو جیسے ہلا کر رکھ دیا۔

شہرت اور مقبولیت رفتہ رفتہ زوال پذیر ہونے لگی اور اب گھبرانے کی باری وی سی آر کی تھی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے وقت نے کروٹ بدلی۔ڈش سیٹلائٹ ٹی وی اور پھر کیبل کی آمد کے بعد وی سی ڈی، سی ڈی، ڈی وی ڈی‘  لیپ ٹاپ‘ اسمارٹ فون‘ آئی پیڈ اور اسمارٹ ٹی وی نے جیسے وی سی آر ا ور وی سی پی کے چڑھتے سورج کو ہمیشہ کے لیے غروب ہونے پر مجبور کردیا۔

یہی وجہ ہے کہ چار سال پہلے وی سی آر بنانے والوں نے اس کی پروڈکشن ہمیشہ کے لیے بند کردی۔ آج جس کا جو جی چاہتا ہے ‘ جب چاہے جیب سے نکال کر دیکھ سکتا ہے۔ تنہا ہو یا ہجوم میں اُسے کوئی روک ٹوک نہیں‘ کسی کا ڈر نہیں‘  ایسے میں خیال آتا ہے کہ کاش ان سب جدید  اور اسمارٹ چیزوں کا بھی ایک ریموٹ ہوتا جس کا کنٹرول بڑوں کے ہاتھوں میں ہوتا۔

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ