چین میں پہلی بار جوہری توانائی سے چلنے والے ’مصنوعی سورج‘ کا تجربہ

HL-2M ٹوکامک ری ایکٹر کو ایک طاقتور مقناطیسی میدان استعمال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ وہ گرم پلازما کو 150 ملین سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر گرم کر سکے، جو سورج کی تپش سے 10 گنا زیادہ گرم ہے۔

HL-2M ٹوکامک نامی اس ری ایکٹر ، جس کو پیدا ہونے والی شدید گرمی اور طاقت کی وجہ سے 'مصنوعی سورج' کہا جاتا ہے ، کو گذشتہ سال مکمل کیا گیا تھا (تصویر: بشکریہ ژنہوا نیوز ایجنسی )

چین نے پہلی بار اپنے جوہری فیوژن ری ایکٹر کو چلانے کا تجربہ کرکے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک قدم آگے بڑھایا ہے جو صاف توانائی کا ایک طاقتور اور لامحدود ذریعہ فراہم کرے گا۔

صوبہ سچوان کے شہر چینگدو میں HL-2M ٹوکامک ری ایکٹر کو ایک طاقتور مقناطیسی میدان استعمال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ وہ گرم پلازما کو 150 ملین سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر گرم کر سکے، جو سورج کی تپش سے 10 گنا زیادہ گرم ہے۔

اس ری ایکٹر ، جس کو پیدا ہونے والی شدید گرمی اور طاقت کی وجہ سے 'مصنوعی سورج' کہا جاتا ہے ، کو گذشتہ سال مکمل کیا گیا تھا۔

چینی سائنس دان 2006 کے بعد سے مستقبل میں بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے چھوٹے ورژن پر کام کر رہے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق، نیا ری ایکٹر فرانس کے شہر مارسیلی میں تعمیر ہونے والی دنیا کے سب سے بڑے ری ایکٹر انٹرنیشنل تھرمونیوکلیئر ایکسپیریمنٹل ری ایکٹر (آئی ٹی ای آر) کو بھی تکنیکی مدد فراہم کرے گا۔ چین اس منصوبے میں حصہ لینے والے یورپی یونین کے ساتھ ساتھ چھ ممالک میں سے ایک ہے۔

سائنسدان ایٹمی فیوژن پر کام کر رہے ہیں، جسے کچھ لوگوں نے کئی دہائیوں سے توانائی کی پیداوار کے مقدس پتھر کے طور پر دیکھا ہے۔ ری ایکٹرز کا مقصد اٹامک نیوکلیئر کو ملا کر ستاروں کی طبیعیات کی نقل کرنا ہے، جس کی وجہ سے بڑی مقدار میں توانائی جاری ہوسکتی ہے جسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور آخر کار یہ بجلی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

جوہری بجلی یعنی جوہری توانائی کے پلانٹس میں استعمال ہونے والے عمل کے برعکس اس سے بہت کم تابکار فضلہ پیدا ہوتا ہے اور ماحولیاتی تباہی کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن فیوژن کا حصول انتہائی مشکل اور مہنگا ہے۔ آئی ٹی ای آر کی تعمیر اور اسے چلانے کے کل اخراجات کا تخمینہ 17 ارب ڈالر اور 49 ارب ڈالر کے درمیان ہے، جس سے یہ دنیا کے سب سے مہنگے سائنسی منصوبوں میں سے ایک بن گیا ہے اور اسے بجلی پیدا کرنے کا ایک قابل عمل ذریعہ بننے میں کئی دہائیاں گزرنے کا امکان ہے۔

گذشتہ ہفتے برطانیہ نے ایک نیوکلیئر فیوژن پاور سٹیشن کی تعمیر کا اعلان کیا  اور اس پلانٹ کے لیے کسی جگہ کی تلاش شروع کردی۔

حکومت کو امید ہے کہ اسفرییکل ٹوکامک فار انرجی پروڈکشن (ایس ٹی ای پی) کی تعمیر، جو بجلی کے گرڈ میں شامل ہوگی، 2040 تک مکمل ہوجائے گی۔

یوکے اٹامک انرجی اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر ایان چیپ مین کا کہنا ہے کہ 'یہ منصوبے ثابت کردیں گے کہ فیوژن محض ایک دیرینہ خواب نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'ایس ٹی ای پی تحقیق اور ترقی کے ذریعے ترسیل کی طرف بڑھنے کا ایک ذریعہ ہے۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی