نائجیریا: مسلح افراد کے حملے کے بعد چار سو طلبہ لاپتہ

مقامی پولیس کے ترجمان کے مطابق جمعے کو ڈاکوؤں نے ایک سکول پر حملہ کیا جس کے بعد سے سینکڑوں طلبہ لاپتہ ہیں۔

نائجیریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ شمال مغربی ریاست کٹسینا میں ایک سیکنڈری سکول پر مسلح افراد کے حملے کے بعد سینکڑوں طالبہ لاپتہ ہیں۔

کٹسینا پولیس کے ترجمان گیمبو عیسیٰ نے ایک بیان میں کہا کہ جمعے کی رات ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے کنکارہ میں گورنمنٹ سائنس سیکنڈری سکول پر حملہ کیا جس میں انہوں نے ’اے کے 47 رائفلوں سے‘ فائرنگ کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے حملہ آوروں کے ساتھ ’فائرنگ کا تبادلہ کیا جس سے کچھ طلبہ کو سکول کی باڑ پھلانگ کر جان بچا کر بھاگنے کا موقع ملا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دو سو طلبہ کا پتہ لگا لیا گیا مگر چار سو کے قریب طلبہ لاپتہ اب بھی ہیں۔ معلومات کے مطابق سکول میں چھ سو سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

عیسیٰ نے کہا: ’پولیس، نائجیریئن فوج اور ایئر فورس سکول حکام کے ساتھ مل کر  کام کر رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کتنے طلبہ لاپتہ یا اغوا ہوگئے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’سرچ پارٹیاں گمشدہ طالبہ کو ڈھونڈنے یا ریسکیو کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔‘

علاقے کے رہائشی منصور بیلو نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ حملہ آور کچھ طلبہ کو ساتھ لے گئے۔

نائجیریا میں یہ مسلح افراد کا کسی سکول پر تازہ ترین حملہ ہے۔

سب سے سنگین حملہ اپریل 2014 میں ہوا جب شدت پسند گروہ بوکو حرام نے شمال مشرقی ریاست بورنو کے علاقے چیبوک میں ایک سکول کے ہوسٹل سے 276 طالبات کو اغوا کر لیا۔ ان میں سے سو طالبات اب بھی لاپتہ ہیں۔

مانا جا رہا ہے کہ یہ تازہ حملہ شمال مغربی نائجیریا میں فعال ڈاکوؤں کے کئی گروہوں میں سے ایک نے کیا ہے۔ یہ گروہ لوگوں کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کے لیے بدنام ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ