2020 کے غم

تعمیراتی شعبے میں کھلی چھوٹ سے ان تمام لوگوں کا فائدہ ہوا جو زمینوں، قبضوں اور ٹھیکوں کا کام کرتے ہیں۔ کوئی دیہاڑی دار بھی اس سے مستفید ہوئے مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

کراچی میں ایک موٹر سائیکل سوا ر فیملی نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے فیس ماسک پہن رکھا ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

2020 کو سال غم نہ کہیں تو کیا کہیں۔ پہلے تین ماہ میں ہی وائرس نے تباہی مچا دی۔ ہم میں سے چند ایک سرپھرے کئی مہینوں سے اس خوفناک مصیبت کے بارے میں واویلا کر رہے تھے لیکن یہاں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

چین میں محصور پاکستانی طلبہ و طالبات دہائیاں دیتے رہے لیکن ان کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ نہ ایران سے آنے والے زائرین کو محفوظ طریقے سے ملک میں لایا گیا نہ کوئی پالیسی مرتب کی گئی۔ وائرس کے پھیلنے کے باوجود حکومتی اراکین لاک ڈاؤن کا لفظ بولنے سے ہی کتراتے تھے۔ کہتے تھے ہم نے معیشت کو نہیں ڈبونا۔

شروع شروع میں چونکہ اموات اور انفیکشنز کم تھیں اس وجہ سے یہ گھمنڈ مزید گہرا ہو گیا کہ جیسے ہم خدا کے خاص چُنے ہوئے لوگ ہیں جو اس وبا سے بچ پائیں گے۔

سال کے اختتام پر کورونا کی دوسری لہر اپنے جوبن پر ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ نقصان نہیں ہوا جو امریکہ، برطانیہ، انڈیا یا برازیل وغیرہ میں نظر آ رہا ہے لیکن اب اس وائرس کی تباہی کو نہ ماننے والی حکومت ہر جگہ کرونا (کورونا) وائرس کا تذکرہ کر کے یہ بتا رہی ہے کہ کیسے ہمارے تمام مسائل کی جڑ یہی ہے۔ وہ تو شاید غلطی سے عمران خان نے خود ہی ہمیں سمجھا دیا کہ کرونا سے کہیں پہلے نظام کی پیچیدگیوں نے اس حکومت کو اپنے شکنجے میں ایسے لیا کہ اس کی سوچ سمجھ ماؤف ہو گئی اور ابتدائی سال پاکستان کو چلانے کے طریقے سمجھنے میں ضائع ہو گیا۔

کرونا قومی صحت پر حملہ آور ہوا ہے پالیسی اور فیصلہ سازی کرنے کی استطاعت پر نہیں۔ وہ تو نظام کی اندر کی خرابی ہے جو وزیر اعظم کے بیان کے بعد اب ایک سرکاری سچ کے طور پر بھی ثابت ہو چکی ہے۔ ورنہ تو سب کچھ کرونا کے کھاتے لکھا جا رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 2020 کے اختتام پر پاکستان کے عوام کی امیدوں اور خوف پر مبنی سروے ایک خوفناک تصویر بناتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ تنظیم کے مطابق قوم بری طرح گھبرائی ہوئی ہے۔ سروے کے مطابق 79 فیصد پاکستانی ملک کی موجودہ سمت سے مطمئن نہیں ہیں- 

اور یہ عدم طمانیت اسی طرح ایک سال سے ملک میں موجود ہے۔ تقریبا 83 فیصد ملازمت پیشہ ہونے کے باوجود اپنی نوکریوں کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ آدھے سے زیادہ پاکستان کے رہائشی کسی نہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کی نوکری پچھلے سال میں کھو گئی۔ یہ سروے لوگوں کے تصور زندگی اور رائے کی عکاسی کرتا ہے۔

اس میں غلطی کا امکان موجود ہے مگر پھر بھی اجتماعی طور پر اس میں وہ تمام اعشاریے موجود ہیں جو موجودہ حالات کی صحیح نشاندہی کرتے ہیں۔ 2020 میں حملہ آور وائرس نے بعض جگہوں پر خوب فائدہ بھی دیا۔ خواہ مخواہ کے نئے ادارے بنا کر چند ناکارہ لوگوں کی نوکریوں کا بندوبست کیا گیا۔ تصویر اور تشہیر کی سہولت الگ فراہم کی گئی۔ بین الاقوامی قرضوں اور ان پر لگے سود کی واپسی کو موخر کروانے کا بندوبست کیا گیا۔ ملا جلا کر کچھ 4 ارب ڈالرز سے زیادہ کا فائدہ ملا۔ لیکن اس فائدے کو معاشی بحالی میں استعمال نہیں کیا جا سکا۔ صرف خرچے پورے کرتے رہے اور مزید قرضوں کے بندوبست کے لیے کوششیں جاری و ساری رہیں۔

تعمیراتی شعبے میں کھلی چھوٹ سے ان تمام لوگوں کا فائدہ ہوا جو زمینوں، قبضوں اور ٹھیکوں کا کام کرتے ہیں۔ کوئی دیہاڑی دار بھی اس سے مستفید ہوئے مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ جب 25 لاکھ سے لگ بھگ لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہوں تو چند ہزار کی دیہاڑی کا بندوبست پر فخر کرنا زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تعمیرات کے شعبے میں تبدیلیوں کا فائدہ وزیر اعظم کو بھی ہوا جنہوں نے سی ڈی اے کے زونل قانون میں تبدیلی لا کر اپنے مکان کی تعمیر کو قانونی بنانے کا خوب بندوبست کیا۔ اب اپنی پہاڑی کا ایک حصہ قانونی کروانے کے بعد وہ نیچے رہنے والوں سے بالکل مختلف ہو گئے ہیں جن کی مکانوں کی تعمیر ابھی بھی متنازعہ ہے۔ طاقت کی نعمتوں کو ٹھکرانا کفران نعمت سمجھا جاتا ہے لہذا اس تبدیلی کو دل و جان سے قبول کرنا چاہیے۔

کرونا کا ایک اور فائدہ حزب اختلاف کو لتاڑنے کے بندوبست کے طور پر بھی سامنے آیا۔ اپنے جلسے حافظ آباد اور سوات میں دھڑلے سے کیے مگر پی ڈی ایم کی جلسہ گاہوں سے وائرس کے پھیلاؤ پرتتشویش کا اظہار ہوتا رہا۔ وائرس بھی عقل مند ہے۔ اس کو پتہ ہے کہاں سے پھوٹنا ہے اور کہاں سے غائب ہونا ہے۔ پی ڈی ایم کی تحریک بحرحال ان دھمکیوں سے متاثر نہیں ہوئی۔ جلسے جاری رہے۔

مگر 2020 کے اختتام پر یہ واضح نہیں ہے کہ اگلے مراحل کیا ہوں گے۔ استعفوں کے معاملے پر یہ سیاسی اکٹھ مختلف آرا میں بٹا ہوا ہے۔ لڑائی نہیں ہے لیکن اتفاق رائے بھی نہیں بن پایا۔ مولانا فضل الرحمان نے 31 جنوری کی جو استعفے کی ڈیڈ لائن دی اس کے بعد کے اقدامات ابھی مبہم ہیں۔ مولانا گرج گرج کر اپنے برسنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اب وہ اکیلے برسیں گے یا پی ڈی ایم کے ساتھ یہ نیا سال بتائے گا۔ شدید سردی میں لوگوں کو اسلام آباد لانا، بیٹھانا، آنسو گیس کھلوانا اور حکومت پر چڑھائی کروانا آسان نہیں۔

تمام تر دھمکیوں کے باوجود یہ واضح ہے کہ اسلام آباد کی طرف مارچ میں طویل پڑاؤ پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا۔ ان کو 126 دن کھانا کھلانے والے اور تحفظ فراہم کرنے والے موجود نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی ضمانت دے رہا ہے کہ بھلے ڈی چوک پر دھمالیں ڈالتے رہو تمہیں کوئی مائی کا لال زک نہیں پہنچائے گا۔

حکومت بھی پی ڈی ایم کی ان احتیاطوں، مخمصوں اور تزبزب کی وجہ سے مطمئن ہے۔ ورنہ تصویر زدہ شیخ رشید بطور وزیر داخلہ کیا بندوبست کریں گے کہ دینی و مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اکٹھ کو مارچ سے روک سکیں؟ حکومت کے کچھ وفادار مگر نیم معلومات رکھنے والے دوست 2020 کے اختتام پر بہت خوش ہیں۔ وہ اس ضمن میں فوجی اور آئی ایس آئی سربراہان کی وزیر اعظم سے ملاقات کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سب اچھا ہے۔

ہو سکتا ہے سب اچھا ہو لیکن ایک تصویر کے کئی رخ ہو سکتے ہیں۔ سرکاری طور پر اس اجلاس کی جاری شدہ ویڈیو کو دوبارہ سے دیکھ لیں تو آپ یہ جان پائیں گے کہ میٹنگ میں سنا کون رہا ہے اور ہمہ تن گوش کون ہے۔ 2020 میں ایک پیج کی کہانی سنا کر موجودہ حکومت نے خوب سیاسی فائدہ اٹھایا۔ آنے والے سال شاید ایسی سہولت مہیا نہ کر پائیں۔

۔۔۔

نوٹ: اس تحریر میں دی جانی والی رائے مصنف کی ہے اور اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ