استعفے تو ہمارا ایٹم بم ہیں: بلاول بھٹو

'استعفے تو ہمارا ایٹم بم ہیں اور اجلاس میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی استعفی نہیں دے گی، سی ای سی کے اجلاس میں پارٹی کے رہنماؤں نے جو بھی اپنی رائے دی ہے، وہ میڈیا کو بتانا ان رہنماؤں کے ساتھ ناانصافی ہوگی'۔ 

(سکرین گریب)

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) میں استعفوں کی مخالفت کے حوالے سے مقامی میڈیا پر چلنے والی خبروں کے حوالے سے وہ کچھ تبصرہ نہیں کریں گے۔

بلاول ہاؤس کراچی میں پی پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا: 'استعفے تو ہمارا ایٹم بم ہیں اور اجلاس میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی استعفی نہیں دے گی، سی ای سی کے اجلاس میں پارٹی کے رہنماؤں نے جو بھی اپنی رائے دی ہے، وہ میڈیا کو بتانا ان رہنماؤں کے ساتھ ناانصافی ہوگی'۔ 

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس کے دوران مقامی میڈیا میں ذرائع کے حوالے مختلف خبریں چلتی رہیں کہ 'اجلاس میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کی اکثریت نے اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کردی ہے اور اجلاس کے شرکا نے یہ شرط عائد کی ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم نواز شریف وطن واپس آکر لانگ مارچ کی قیادت کریں تو ہی استعفوں پر غور کیا جاسکتا ہے'۔ 

ایسی افواہوں کے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا: 'اجلاس میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کے مختلف رہنماؤں نے مختلف رائے دی ہے، جس کو یہاں بتانا مناسب نہیں ہوگا۔ رائے دینا ہر کسی کا حق ہے۔ مگر میڈیا جو بھی خبریں چل رہی ہیں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا'۔ 

سی ای سی کے اجلاس میں شریک چیئرمین آصف علی زرداری سمیت پارٹی اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔  

بلاول بھٹو نے کہا31 دسمبر تک پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام پارلیمینٹرین استعفے پارٹی قیادت کو جمع کرائیں گے اور پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے ایسی منظوری دی ہے۔ اور سی ای سی اجلاس کے فیصلوں کے متعلق پی ڈی ایم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔ 

ایک سوال پر کہ کیا عمران خان حکومت سے بات چیت کی جاسکتی ہے کے جواب میں بلوال بھٹو نے کہا: 'ہم بات چیت ضرور کرسکتے ہیں، مگر پہلے عمران خان استیفی دیں، دوبارہ الیکشن کرائیں، پھر جتنا مرضی بات کرلیں'۔   

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان