چمن میں خاتون پولیو ورکر کا قتل، پولیو ٹیموں کو محتاط رہنے کی ہدایت

بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن میں جمعرات کی صبح انسداد پولیو مہم کے دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون پولیو ورکر ہلاک ہو گئی ہیں۔ جس کے بعد علاقے میں پولیو مہم روک دی گئی ہے۔

اے ایف پی فائل فوٹو

بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن میں جمعرات کی صبح انسداد پولیو مہم کے دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون پولیو ورکر ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گئی ہیں۔

ڈپٹی ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن، محمد علی کاکڑ کے مطابق جمعرات کی سہ پہر دو خواتین پولیو رضاکاروں کو ایمرجنسی یونٹ لایا گیا، جن میں سے ایک رضاکار ہلاک ہوچکی تھیں جبکہ دوسری زخمی رضاکار کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

محمد علی کاکڑ کے مطابق: ’دونوں رضاکاروں کو جسم کے مختلف حصوں میں گولیاں ماری گئیں۔‘

کوئٹہ میں پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق پہلی مرتبہ پاک افغان سرحد سے متصل ضلع قلعہ عبداللہ میں پولیو رضاکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

 اس سے قبل 2018 میں کوئٹہ میں فائرنگ کر کے پولیو رضا کار ماں، بیٹی کو قتل کر دیا گیا تھا۔

اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ سید سمیع اللہ آغا کے مطابق چمن کے افغانستان سے متصل سرحدی علاقے میں معمول کے مطابق بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے تھے جب موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے خاتون پولیو ورکرز پر فائرنگ کردی۔ 

 سمیع اللہ آغا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ واقعے کے بعد پورے ضلعے میں پولیو مہم روک دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے دنوں پشاور میں ’مشکوک‘ پولیو ویکسین سے متعلق افواہوں کے بعد یہاں کے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے تاہم اس حوالے سے کسی قسم کی دھمکیاں موصول نہیں ہوئی تھیں۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے ہو سکتا ہے جو کارروائی کے بعد ممکنہ طور پر افغانستان فرار ہوگئے ہیں۔

رواں ہفتے پولیو ٹیموں پر حملوں میں دو پولیس اہلکاروں اور ایک خاتون رضاکار کی ہلاکتوں کے بعد ملک بھر میں پولیو رضاکاروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سکیورٹی افسران نے اے ایف پی کو بتایا کہ ممکنہ تشدد کے پیش نظر پولیو ٹیموں کو محتاط رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں جاری تین روزہ پولیو مہم کے دوران ویکسین سے متعلق افواہوں کے بعد درجنوں رضاکاروں پر تشدد یا ہراساں کرنے کی خبریں ملی ہیں۔

ملک میں پولیو مہم کے نگران بابر عطا کا کہنا ہے کہ ’والدین میں بداعتمادی جیسے مسئلے کا سامنا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ حالیہ مہم میں کم از کم دو لاکھ 60 ہزار رضاکار کام کر رہے ہیں، جن کی حفاظت کے لیے ڈیڑھ لاکھ پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

عطا کے مطابق: حالیہ مہم کے دوران ہزاروں بچوں کا ویکسین سے محروم رہ جانے کا خدشہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان