’بھارت میں واٹس ایپ گروپس پر بچوں سے جنسی زیادتی کی ویڈیوز کی بھرمار‘

بھارت میں درجنوں واٹس ایپ گروپس کا سراغ ملا ہے جن کے ہزاروں ارکان بچوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز آزادانہ شیئر کرتے ہیں، سروے۔

تصویر اے ایف پی

ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بھارت میں کثرت سے واٹس ایپ گروپس پربچوں سے زیادتی کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔

آن لائن سکیورٹی سے متعلق تھنک ٹینک سائبر پیس فاؤنڈیشن(Cyber Peace Foundation) نے ایسے درجنوں واٹس ایپ گروپس کا سراغ لگایا ہے جس کے ہزاروں ارکان بچوں سے جنسی زیادتی سے متعلق مواد شیئر کرتے ہیں۔

محققین کی طرف سے خبردار کیے جانے کے بعد واٹس ایپ نے ایسے کئی گروپس ختم کر دیے ہیں۔ ختم کیے جانے والے گروپس پرائیوٹ نہیں تھے اور پبلک ہونے کی وجہ سے کوئی بھی انہیں باآسانی تلاش کر سکتا تھا۔

مارچ کے دو ہفتوں تک جاری رہنے والی سائبر پیس فاونڈیشن کی تحقیق سے پہلے بھی واٹس ایپ پربچوں سے جنسی زیادتی کے مواد کی شیئرنگ کا معاملہ اٹھتا رہا ہے۔

دسمبرمیں اسرائیلی محققین نے انکشاف کیا تھا کہ کئی واٹس گروپس، جن کے ارکان کی تعداد 256 تک ہے، کھلے عام بچوں سے جنسی زیادتی کی تصاویراورویڈیوزکی شیئرنگ میں مصروف ہیں۔

2017 میں سپین کی پولیس کی زیرنگرانی ہونے والی ایک تفتیش کے بعد 15ملکوں میں 38 افراد کوبچوں کے جنسی استحصال پرمبنی مواد کے تبادلے کے شبے میں گرفتارکیا گیا تھا۔

دی انڈپینڈنٹ نے تازہ تحقیق کے بعد واٹس ایپ کمپنی کے ترجمان سے رابطہ کیا، جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ ایسے گروپس کو بند کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے  گئے ہیں؟ تاہم ترجمان  کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اس سے پہلے کمپنی کہہ چکی ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی پر مبنی مواد کی شیئرنگ میں ملوث  گروپس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

واٹس ایپ کی جانب سے بھارتی اخباردی اکنامک ٹائمز کو بھیجے گئے بیان میں واضح کیا گیا کہ کمپنی اپنے صارفین کی سلامتی کا بھرپور خیال رکھتی ہے اور وہ  گروپس کے بارے میں دستیاب معلومات پر انحصار کرتی ہے تاکہ ایسے مشتبہ اکاؤنٹس کوبند کیا جاسکے ۔

 واٹس ایپ کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق ہرماہ ایسے ڈھائی لاکھ اکاؤنٹس کوبند کیا جا رہا ہے جو بچوں کے ساتھ جنسی عمل کے مواد کی شیئرنگ میں ملوث ہوتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا