ایک لیڈر تاریخ کی عدالت میں

سب سے اہم سبق بہرحال یہ ہے کہ لیڈر زبان درازی سے نہیں بنتے۔ ذاتی زندگی اور کردار سیاسی اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے۔

سرخی مائل، بھورے بال، مکمل چٹا چہرا، اونچی آواز میں مکے لہراتا ہوا دولت سے مالا مال ٹرمپ (اے ایف پی)

عقل مندوں کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی اٹھان، صدارت کے چار سال اور اختتام میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ سمجھنے والے تو اس سے کم پر بھی سمجھ جاتے ہیں لیکن چونکہ دنیا ڈھیٹ لوگوں سے بھری پڑی ہے جن کی آںکھوں اور کانوں پر پٹیاں اور دل پر مہریں لگیں ہوئیں ہیں اس وجہ سے واضح انداز سے امریکی صدر کی کہانی اور اس کے نتائج بیان کرنے کی ضرورت ہے۔

پہلا سبق تو یہ ہے کہ آپ تمام لوگوں کو کچھ وقت، کچھ لوگوں کو ہر وقت مگر سب کو مسلسل بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ریکارڈ بنا کر امریکہ کے صدارتی عہدے پر براجمان ہوئے۔ اس وقت سب کا یہ خیال تھا کہ اس ملک کو ایک غیر رسمی مگر جی دار قائد کی ضرورت ہے۔ حتی کہ وہ نقاد بھی کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے جن کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ کا تمام کیریئر کھلی کتاب کی طرح عیاں تھا۔

دائیں بازو والے سفید نسل پرست ٹرمپ کی شکل و صورت سے بہت متاثر ہوئے۔ سرخی مائل، بھورے بال، مکمل چٹا چہرا، اونچی آواز میں مکے لہراتے ہوئے دولت سے مالا مال ٹرمپ، سیاہ فام باراک اوباما کی نرم لہجے میں کی ہوئی فلسفیانہ گفتگو اور ٹھہری ہوئی شخصیت کا بالکل متضاد تھے۔ کچھ نے کہا امریکہ جیسے دبنگ ملک کو ایک دبنگ شخص چاہیے جو اس نظام کے تمام اصولوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے جلدی جلدی تبدیلی لائے۔

امریکہ کی سرحدوں پر دیواریں، چین اور شمالی کوریا سے لڑائی، ایران سے جوہری معاہدے کا خاتمہ، نوکریاں اور بڑے کاروباری لوگوں کو کھلی چھوٹ۔ ٹرمپ نے آتے ہی ہنگامہ مچا دیا تھا۔ روزانہ ایک صدارتی فرمان جاری کرنے لگے۔ اپنی ذات کو مسیحا کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ اپنے جوان مرد ہونے کا ثبوت، اپنے ہاتھوں کی لمبائی ماپ کر دیتے تھے۔

خواتین کے بارے میں سستے جملے ادا کر کے اکھڑ مرد کے طور پر اپنا تصور بنانے لگے۔ یورپ، چین اور دوسرے ممالک کے لیڈران کو اوئے اوئے کر کے مخاطب کرنے والے ٹرمپ کئی بین الاقوامی معاہدوں سے بھی نکل گئے۔ جب میڈیا نے ان کی اول فول پالیسیوں کی خامیوں کی نشاندہی کی تو سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے مخصوص اور تابعدار ٹی وی چینلز کی مدد کے ساتھ انہوں نے ایسا واویلا مچایا کہ خدا کی پناہ۔

اپنے ہر جھوٹ کے پکڑے جانے پر دوسروں کو جھوٹا قرار دیتے رہے۔ بدزبانی، بدکلامی، کند ذہنی کو بہترین اوصاف کے طور پر گنوانا شروع کیا۔ مگر پھر آخر میں سب کو بیوقوف نہ بنا سکے اور الیکشن ہار کے کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچتے روانہ ہونے کو بمشکل تیار ہوئے۔

امریکی عوام نے ٹرمپ کو ان کی تمام تر فضولیات کے باوجود خوب ووٹ بھی دیے مگر اکثریت ان کی حقیقت سمجھ گئی تھی۔ اس کو پتہ چل گیا تھا کہ چار سال پہلے ان سے کیا بھیانک سیاسی غلطی ہوئی تھی۔ اگر امریکہ کا نظام ہمارے جیسا ہوتا تو شاید ٹرمپ کا وہ تیہ پانچا نہ ہوتا جیسا کہ ہوا۔

امریکہ میں جھوٹ کو جھوٹ کہنے والا میڈیا اور سیاسی فراڈ کو جمہوری انداز سے پکڑنے والا نظام موجود تھا۔ لہذا امریکی قوم دوسری مرتبہ بیوقوف بننے سے بچ گئی۔ ثابت یہ ہوا کہ اگر نظام طاقتور ہے تو اپنی غلطیوں کا خود ہی علاج کر لیتا ہے۔ کسی محمد علی درانی کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ٹرمپ کی صدارتی مدت کا دوسرا سبق یہ ہے کہ سیاسی غلطیوں کے نتائج دور رس اور تباہ کن ہو سکتے ہیں، چاہے نظام کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ امریکی کانگریس پر 6 جنوری کے بلوے نے بہت سے امریکی دعووں کی قلعی کھول دی لیکن جو سب سے خطرناک پہلو سامنے آیا وہ یہ کہ خود پرست اور طاقت سے دھت شخصیت ایک ایٹم بم سے کم نہیں جو اپنے خلاف ہی استعمال ہو جاتا ہے۔

6 جنوری کا واقعہ نہ ہوتا اگر ڈونلڈ ٹرمپ تقریروں اور میڈیا کے ذریعے اپنے ووٹروں کو الیکشن دھاندلی کے نام پر گمراہ کرنے کے بعد پرتشدد احتجاج پر نہ اکساتا۔ الیکشن سے پہلے، الیکشن کے دوران اور الیکشن کے فوراً بعد ٹرمپ نے سینکڑوں مرتبہ دھاندلی کے الزامات کو دھرا کر اپنے ووٹرز کے ذہن میں یہ بات ٹھونس دی کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ پھر جب تمام شواہد ان الزامات کی نفی کرنے لگے تو انہوں نے تشدد کا رستہ اپنایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خود آرام سے وائٹ ہاؤس میں بیٹھے رہے اور لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے کی ہدایات جاری کرتے رہے۔ امریکی جانیں ضائع ہوئیں۔ دو سو سال کی جمہوری اقدار پامال ہوئیں، جگ ہنسائی اس کے علاوہ۔

ٹرمپ کے پاس عزت کے ساتھ کرسی چھوڑنے کا آپشن موجود تھا۔ وہ چاہتے تو چار سال کے بہت سے بدنما دھبے دھو سکتے تھے۔ ہاتھ ملا کر جو بائیڈن اور ان کی ٹیم کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کو صرف ان روایات کی پاسداری کرنی تھی جن کے نام پر امریکہ ساری دنیا میں خود کو متعارف کرواتا ہے۔

یہ ٹرمپ کے ظرف کا بھی امتحان تھا کہ خود کو نادر قرار دینے والا یہ شخص کیا موقع کی مناسبت سے اپنے اندر یہ اخلاقی جرات پیدا کر پائے گا کہ شکست تسلیم کرے۔ ٹرمپ کے ماضی میں کوئی ایسی مثال نہیں تھی جس کی وجہ سے یہ سمجھا جاتا کہ وہ اعلیٰ ظرفی کے قابل ہیں۔ لیکن بعض اوقات نئے واقعات چھپی ہوئی خصوصیات کو سامنے لے آتے ہیں مگر ٹرمپ نے وہی کیا جو ٹرمپ کر سکتے تھے۔

امریکی سیاسی تاریخ کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے ایک ایسی سیاسی وراثت بنائی جس کے تعفن سے ان کی اپنی جماعت ناک پر ہاتھ رکھ کر بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جو کہتے تھے میں سب سے عظیم ہوں وہ ہر جگہ اپنی تذلیل کرواتے ہوا نظر آئے۔ یہ تاریخ کے فیصلے ہیں جن سے کوئی نہیں بچ سکتا۔

لیکن بدقسمتی سے اس کی بھاری قیمت امریکیوں کو ہر طرح سے اٹھانی پڑی۔ یہ قیمت ٹرمپ کے جانے کے بعد بھی سامنے آتی رہے گی۔ ٹرمپ چلے گئے مگر جانے سے پہلے اپنے جیسے لاکھوں کردار اور سوچ رکھنے والے ووٹر چھوڑ گئے۔ یہ لوگ امریکہ کو مسلسل تنازعے، لڑائی اور عدم استحکام کا شکار رکھیں گے۔ امریکہ کے نقادوں کے لیے اس سے بڑی خوشی کیا ہو گی کہ وہ ملک جو دنیا بھر میں درجنوں دہائیوں سے سب کو جمہوریت سکھاتا تھا اب خود غیر جمہوری بلوائیوں کا شکار ہوا ہے۔ ایسا نہ ہوتا اگر ٹرمپ نہ ہوتے۔ ایسا اب اور بھی ہو گا چونکہ لاکھوں ٹرمپ اب امریکہ کی سیاست کا حصہ بن گئے ہیں۔

سب سے اہم سبق بہرحال یہ ہے کہ لیڈر زبان درازی سے نہیں بنتے۔ ذاتی زندگی اور کردار سیاسی اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بڑے عہدے کو عمدہ اور ناکارہ کو کارآمد نہیں بناتے۔ اگر کسی نے کسی ایک شعبے میں ترقی کی ہے تو یہ سیاست میں دانش مندی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

ٹرمپ ایک کامیاب بزنس مین رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی نظام کی خامیوں اور خاص حالات کو استعمال کر کے سیاست میں سب سے اونچا مقام بھی پا لیا لیکن یہ سب کچھ کرنے کے باوجود تاریخ کی عدالت نے ان کو سب سے سخت سزا دی۔ ان کو آئینہ اور آئینے میں اس کا اصل چہرہ دیکھا دیا۔ اس سے بڑی پکڑ کیا ہو گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ