بلوچستان کی قیمتی جنگلی حیات تیزی سے ناپید ہو رہی ہے

پاکستان میں جنگلی حیات کی 12 نسلیں معدومی کا شکار ہیں، جبکہ 11 شدید خطرے میں ہیں اور حالات بہتر نہ ہوئے تو مزید 10 جانوروں کی نسلیں خطرے میں آ سکتی ہیں۔

آئبیکس بلوچستان میں خاصی بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے (ہنگول نیشنل پارک)

پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں آبادی کا دباؤ کم ہے جس کی وجہ سے یہاں جنگلی حیات کے مسکن، چراگاہیں اور قدرتی ماحول قدرے زیادہ محفوظ ہیں، لیکن یہاں بھی کچھ جانوروں کی نسل کو معدومی اور کچھ کو بقا کے مسائل درپیش ہیں۔

ٹی جے رابرٹس کو برصغیر کی جنگلی حیات اور قدرتی ماحول پر سند مانا جاتا ہے۔ ان کی کتاب ’میملز آف پاکستان‘ اور ’بائیو ڈائیورسٹی ایکشن پلان پاکستان‘ کے مطابق پورے پاکستان میں ممالیہ جانوروں کی کل تعداد 188 ہے، جس میں سے 71 بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح پرندوں کی کل تعداد 666 ہے، جن میں سے 356 بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔ 174 رینگنے والے جانوروں میں سے 94 بلوچستان میں موجود ہیں۔ جب کہ جل تھلی جانوروں (ایمفیبیئن) کی 14 اقسام میں سے آٹھ بلوچستان میں پائی جاتی ہیں۔

دوسری طرف بین الاقوامی تنظیم یونین آف کنزرویشن (IUCN) کی ریڈ لسٹ کے مطابق پاکستان کی 12 جنگلی حیات کی نسلیں معدومی کا شکار ہیں، جبکہ 11 شدید خطرے میں ہیں اور اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو مزید 10 جانوروں کی نسلیں خطرے میں آ سکتی ہیں۔

1974 میں بلوچستان فارسٹ اینڈ وائلڈ لائف پروٹیکشن کا قانون نافذ کیا گیا۔ پھر 2014 میں اسی قانون کو بہتر اور کارآمد بنانے کی کوشش کی گئی۔

اس وقت بلوچستان میں تین نیشنل پارک، 14 وائلڈ لائف سینچریز ہیں۔ جبکہ آٹھ گیم ریزرو ایریاز، پانچ رامسر سائیڈ اور ایک کومینجمنٹ آف پروٹیکٹڈ علاقہ ہے۔

ڈاکٹر رابعہ ظفر بلوچستان کے تین شہروں خضدار، کوئٹہ اور تکاتو میں جنگی حیات کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہزاروں کی تعداد میں جنگلی حیات پائی جاتی ہیں، جن میں برفانی چیتا، سیاہ اور بھورے ریچھ، اودبلاؤ، لومڑی کی کئی اقسام جیسے لنکس (lynx) وغیرہ نایاب نسلوں میں شمار ہوتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساتھ ہی ہمالیہ کی پہاڑی بکری اور مارخور، بھارال، مارکو پولو بھیڑ، شاپو، جو گھڑیال کی ایک قسم ہے، کستوری یا مشک ہرن، جنگلی کتھئی مرغابی، تیتر اور اس کی نسل کا رنگین پرندہ ٹریگوپان وغیرہ یہاں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ مونال، سرخاب، بھورے رنگ کے خرگوش، اور سائبیریا سے آنے والے سینکڑوں پرندے بلوچستان کی جنگلی حیاتیاتی تنوع کا حصہ ہیں۔ ڈاکٹر رابعہ کے مطابق صورت حال کچھ اچھی نہیں۔ کیونکہ مشاہدے میں آیا ہے کہ ان میں سے کچھ نسلیں ناپید ہو رہی ہیں۔

نیشنل پارک اورکمیونٹی گیم ریزروار :جنگلی حیات کی بقا میں کتنے معاون؟

بلوچستان کے چیف وائلڈ لائف کنزرویٹر شریف الدین بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہمارے پاس تین نیشنل پارک ہیں۔ زیارت نیشنل پارک، ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک اور ہنگول نیشنل پارک۔

انہوں نے کہا کہ ’ہنگول نیشل پارک میں 40، 45 کلومیٹر کھوسٹ کا علاقہ بھی شامل ہے۔ اس میں بلوچستان کا سب سے بڑا دریا ہنگول بہتا ہے۔ اس پٹی پر چنکارہ، اڑیال اور ہرن ملتے ہیں اور کہیں کہیں چیتے اور مگر مچھ بھی پائے جاتے ہیں۔ سرد موسم میں سائبیریائی پرندے بھی آ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ زیارت نیشنل پارک میں سلیمان مارخور موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’بلوچستان میں چلتن سفید بکری اب صرف کوئٹہ کے نزدیک ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک میں ملتی ہے۔ یہ نیشنل پارک 27,421 ہیکٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور مستونگ اور کوئٹہ، دو تحصیلوں سے جڑا ہوا ہے۔ پہلے چلتن سفید بکری قلات کے پہاڑِی سلسلے میں مل جاتی تھی، لیکن اب یہ صرف ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک میں محفوظ ہے۔ ہم نے ان پر کام کیا ہے تاکہ ان کی نسل کو بڑھایا جا سکے، اور اب ان کی تعداد بڑھ کر1400  سے 1500 تک چلی گئی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’اگر رینگنے والے جانوروں کی بات کریں تو چاغی کے صحرا میں بہت سے رینگنے والے جانور، اب معدوم ہونے والے جانداروں میں شامل ہیں۔‘

شریف الدین بلوچ نے یہ بھی بتایا کہ ’پاکستان میں پہلی بار 2017 میں بلوچستان نے استولا جزیرے کو میرین محفوظ پناہ گاہ کے طور پر محفوظ کیا۔ حال میں ہی سات آٹھ مزید گیم ریزروز بنائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے جاندار اپنے قدرتی ماحول میں نمو پار ہے ہیں۔ یہ گیم ریزروز جانوروں کی نرسری کا کام کر رہے ہیں۔ جب خطرے کا شکار جانوروں کی تعداد بڑھی تو ہم نے ان علاقوں میں بھی منتقل کیا جہاں سے وہ ناپید ہو گئے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’طورغر قلعہ سیف اللہ، پاکستان کا پہلا کمیونٹی گیم ریزرو ہے۔ وہاں کے جوگیزی خاندان نے طورغر کے علاقے میں سلیمان مارخور اور افغان اڑیال کو محفوظ کیا۔ یہ منصوبہ کامیاب رہا اور 1998 سے وہاں ٹرافی ہنٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔‘

’اسی طرح مینگل کمیونٹی کے ساتھ مل کر خصدار کے علاقے باراک لکھ ووٹ میں کمیونٹی گیم ریزرو بنایا گیا ہے۔ لسبیلہ کے علاقے فور اور گوادر کے علاقے اورماڑا میں بھی پہاڑی بکرے (آئی بیکس) اور اڑیال کی بڑی تعداد موجود ہے۔ بلوچستان میں ہرن کی دو اقسام موجود ہیں۔ ایک انڈین چکارہ جبکہ دوسرا ایرانی چنکارہ۔ یہ چاغی اور سینڈک کے علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ اگر تھوڑا اور آگے جائیں تو ایران افغانستان پاکستان سرحدی پٹی کے پاس رباط کے علاقے میں جنگلی حیات کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی۔ اسی لیے یہاں سینڈک وائلڈ لائف کمیونٹی ریزرو فاؤنڈیشن کے تحت علاقہ مختص کر دیا گیا ہے۔‘

بلوچستان میں ٹرافی ہنٹنگ

2014 میں جب بلوچستان فارسٹ اینڈ وائلڈ لائف پروٹیکشن کے قانون میں ترمیم کی گئی تو قانون میں ٹرافی ہنٹنگ کی شق کو بھی شامل کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں مقامی سطح پر کمیونٹی گیم ریزروز اور گیم واچر بنائے گئے۔

 شریف الدین بلوچ کا کہنا ہے کہ جب تک کمیونٹی کی سطح پر جانوروں کی حفاظت نہیں کی جائے گی، ناپید ہوتی نسلیں نہیں بچا ئی جا سکتیں۔ یہاں بھی ٹرافی ہنٹنگ کی فیس کا 80 فی صد حصہ مقامی آبادی کو دیا جاتا ہے۔ تاکہ ان میں اپنے جانوروں کی افزائش اور حفاظت کا جذبہ پیدا ہو۔ اب سوچ بدلی ہے کہ یہ جانور، صرف شکار ہی نہیں بلکہ روزی روٹی کا ذریعہ اور علاقے کی پہچان ہیں۔

محکمہ برائے وائلڈ لائف کنزرویٹری کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں گذشتہ سال چار پہاڑی بکروں (آئی بیکس)، آٹھ اڑیال اور چار مارخوروں کا شکار کیا گیا، جن کی بالترتیب سوا دس ہزار اور 75 ہزار ڈالر اوسط قیمت لگائی گئی تھی۔

طورغر کے علاقے میں سلیمان مارخور اور افغان اڑیال کی ٹرافی ہنٹنگ ہوتی ہے۔ کوٹے کے مطابق سلیمان مارخور کے چار شکار اور افغان اڑیال کے سات شکار کی اجازت ہے۔ پھر لسبیلہ، کیر تھر کے پہاڑوں میں ذوالفقار بھوتانی صاحب مقامی جنگلی حیات کے محافظ بن کار سامنے آئے۔ اس علاقے کے شکاریوں میں آئی بیکس اور بلوچستان اڑیال مشہور ہیں، لیکن بہت سے پرندے، رینگنے والے اور ممالیہ جنگلی جانوروں کا بھی شکار کیا جاتا ہے۔ یہاں آئبیکس کا کوٹا 12 ہے جبکہ 12 ہی بلوچستان اڑیال کا کوٹا ہے۔

اس کے بعد شاہ نورانی کمیونٹی گیم ریزروز کا علاقہ ہے۔ یہاں خشک سالی رہتی تھی، لیکن اب ڈیم بننے سے جنگلی حیات بڑھی ہے۔ اس علاقے میں آٹھ بلوچستان اور چار آئی بیکس کا کوٹا ہے۔

 سائبیرین پرندوں کی آمد اور شکار

سائبیریا کے برف زاروں سے طویل سفر کرکے آنے والے پرندوں کا ٹھکانہ بلوچستان ہی بنتا ہے۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوسٹ سے لے کر ژوب کے علاقے تک ہزار ہا سائبیریائی پرندے آتے ہیں۔ کچھ یہاں رک جاتے ہیں، اور کچھ بھارت کی طرف نکل جاتے ہیں۔

ژوب میں کونج کی دو نسلیں قیام کرتی ہے۔ ایک ڈومزل کونج کہلاتی ہے اور دوسری عام کونج، جسے یوریشن کونج کہا جاتا ہے۔ یہ لسبیلہ، نوشکی، واشوک، چاغی، خاران کے ساتھ ساتھ لسبیلہ اور سومیانی کے علاقے میں بھی پائی جاتی ہے۔

 یہ پرندے طویل سفر کرنے کی وجہ سےکچھ دیر کا آرام چاہتے ہیں۔ بقول شریف الدین بلوچ: ’مشاہدے میں آیا ہے کہ یہ چاغی کے صحرا سے گزر کر خاران پر تھوڑی دیر رک جاتے ہیں، پھر یہاں سے ہی انڈیا کی طرف نکل جاتے ہیں۔ جبکہ تلور کی بات کریں تو یہ بلوچستان کی 18-19 تحصیلوں میں پائے جاتے ہیں۔ جب موسم زیادہ سرد ہوتا ہے تو کچھ یہیں رہ جاتے ہیں اور کچھ سندھ اور بلوچستان کی طرف کوچ کر جاتے ہیں۔‘

ناپید ہوتی جانوروں کی نسلوں کو کیسے بچا سکتے ہیں؟

ڈاکٹر رابعہ ظفر سمجھتی ہیں کہ اگر ہمیں اپنے جانداروں کو ناپید ہونے سے بچانا ہے تو سب سے پہلے ان کے قدرتی ماحول کو محفوظ کرنا چاہیے۔ بلوچستان کی نایاب نسلوں اور دیگر جنگلی حیات کے تیزی سے کم ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ جیسے، جنگلی حیات کی نمو اور بقا میں ایک پورا قدرتی ماحول شامل ہوتا ہے۔ اگر کسی بھی ’ایکو سسٹم‘ میں مداخلت کی جائے گی، تو وہ متاثر ہو گا ہی اور اس کا براہ راست اثر جانداروں پر پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مزید جنگل اگا کر ان کے مسکن اور پناہ گاہیں محفوظ کرنی چاہییں۔ جنگلوں کی کٹائی، دیگر انسانی مداخلت اور غیر قانون شکار کو سختی سے روکنا ہو گا۔ اگر دس ارب سونامی منصوبہ کسی نہ کسی سطح پر بھی کامیاب ہو گیا، تو اس کا براہ راست فائدہ جنگلی حیات کو ملے گا۔ یقیناً نباتات اور حیوانات کے تنوع میں اضافہ ہو گا۔

ڈاکٹر رابعہ نے ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جانوروں کی تعداد جاننے کے لیے ہمارے پاس سائنسی آلات اور طریقے رائج نہیں۔ ہمیں وائلڈ لائف سروے کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جانوروں کی درست تعداد اور مستحکم رپورٹیں سامنے آئیں۔

دوسری طرف شریف الدین بلوچ سمجھتے ہیں کہ موجوہ صدی کا سب سے بڑا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی ہے اور اس کے گہرے اثرات بھی ہمیں مقامی سطح پر نظر آتے ہیں۔ پہلے ایک ایکو سسٹم متاثر ہوتا ہے اور پھر اس سے جڑی چیزیں۔ اس کے لیے صوبائی اور قومی سطح پر سب کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی کیونکہ اس وقت جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ سب سے اہم اور ضروری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات