کراچی ٹیسٹ: نعمان علی کے بائیں ہاتھ کا کمال، پاکستان فتح یاب

جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی ٹیسٹ کا چوتھا دن اختتامی ثابت ہوا اور ایک سال سے شکستوں کے جال میں گھری ہوئی پاکستانی ٹیم کو آخرکار فتح نصیب ہوگئی۔

پاکستانی کھلاڑی نعمان علی جنوبی افریقہ کے کھلاڑی نورٹئیے کی وکٹ لینے کے بعد جشن مناتے ہوئے (تصویر: اے ایف پی)

کئی نشیب وفراز دیکھنے کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی ٹیسٹ کا چوتھا دن اختتامی ثابت ہوا اور ایک سال سے شکستوں کے جال میں گھری ہوئی پاکستانی ٹیم کو آخرکار فتح کا ذائقہ چکھا دیا۔

ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پروٹیز کی بیٹنگ ناکام ہونے کے بعد توقع تھی کہ دوسری اننگز میں وہ میچ میں واپس آئیں گے اور میچ کو کسی نتیجے سے پہلے سنسنی خیز بنادے گی لیکن ایسا ہو نہ سکا۔

دوسری اننگز میں ایڈم مارکرم اور وان دا ڈوسن کی شاندار بیٹنگ کے باوجود بقیہ ٹیم ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پہلی دفعہ ٹیسٹ کھیلنے والے نعمان علی کے سامنے بکھرتی چلی گئی۔

سانگھڑ کے قریبی قصبے کھپرو سے اپنی کرکٹ شروع کرنے والے نعمان علی کو اعلیٰ ترین معیار کی کرکٹ تک پہنچنے تک زندگی کے 35 ویں سال کا انتظار کرنا پڑا۔ یہ وہ عمر ہے جس میں دنیا کے کئی مشہور کھلاڑی ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں تو نعمان کو سر پر گرین کیپ سجانے کا موقع ملا۔

انہوں نے قسمت کے اس چانس کو ضائع نہیں کیا اور بائیں ہاتھ کا کمال دکھا دیا اور چوتھے روز صرف چار رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھادی۔

یعنی ایک بائیں ہاتھ کے سپنر کا ایک اور کارنامہ !

جمعہ کی صبح جب میچ شروع ہوا تو جنوبی افریقہ نے 187 رنز چار وکٹوں کے نقصان پر دوبارہ اننگز شروع کی تو پہلی ہی گیند پر حسن علی نے مہاراج کو بولڈ کردیا۔

کپتان کوئنٹن ڈی کوک صرف دو رنز پر یاسر شاہ کی گیند پر عابد علی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔

ٹیمبا بووما نے جارج لنڈے کے ساتھ کچھ مزاحمت کی اور ساتویں وکٹ کے لیے 40 رنز بنا ڈالے۔ بووما نے بہت اچھی اور قابل اعتماد بیٹنگ کی۔

ایسے میں جب تمام بولرز ناکام ہو رہے تھے تو کپتان بابر اعظم نے نعمان علی کے ہاتھوں میں گیند دی اور پھر نعمان کا چمتکار شروع ہوگیا اور صرف 15 گیندوں میں پروٹیز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

پہلے لنڈے عمران بٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، پھر ربادا بولڈ ہوگئے، پھر نورٹئے اور پھر آخری بلے باز بووما ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ یوں 245 کے مجموعی سکور پر جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم واپس پلٹ گئی۔

پاکستان کو جیت کے لیے 88 رنز کا مختصر سا ہدف ملا لیکن حسب روایت پاکستان اس چھوٹے سے ہدف کے لیے بھی پریشان نظر آیا اور تین وکٹوں کا نقصان اٹھالیا۔

عابد علی ایک بار پھر ناکام رہے اور 10 رنز پر نورٹئیے کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ عمران بٹ اسی اوور میں 12 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب اظہر علی پر اعتماد نظر آئے اور بابر اعظم کے ساتھ جیت کا سفر شروع کیا لیکن فتح جب دو رنز کی دوری پر تھی تو بابر اعظم ایک بار پھر مہاراج کی گیند پر 30 رنز بناکر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

فواد عالم نے آتے ہی چوکا لگا کر کھیل کا خاتمہ کردیا جبکہ اظہر علی 31 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

فواد عالم کو ان کی شاندار سینچری پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں جیت پر بابر اعظم نے اس کو بڑی کامیابی قرار دیا کیونکہ ایک سال سے پاکستان ٹیم شکستوں کے بھنور میں پھنسی ہوئی تھی۔

اگر کہا جائے کہ اس میچ کے صحیح معمار فواد عالم، یاسر شاہ اور نعمان علی تھے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ ان تینوں کی زبردست کارکردگی نے ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کیا ہے۔

میچ میں نعمان علی اور یاسر شاہ نے سات وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان سیریز میں ایک ٹیسٹ کی سبقت سے اگلے ہفتے راولپنڈی میں دوسرا ٹیسٹ کھیلے گا اور اگر یہاں بھی کراچی کی طرح سپن وکٹ بنائی گئی تو پاکستان کئی سالوں کے بعد کسی سیریز میں کلین سوئپ کرنے کے قابل ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ