کراچی ٹیسٹ: بے جان وکٹ پر پہلا دن بولرز کے نام

پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 33 رنز بنالیے جبکہ اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل جنوبی افریقہ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 220 رنز بناکر آؤٹ ہوئی تھی۔

جنوبی افریقہ کے کھلاڑی  کیساوا مہاراج، پاکستانی کپتان بابر اعظم کو آؤٹ کرنے کے  بعد خوشی مناتے ہوئے (تصویر: اےا یف پی)

کراچی ٹیسٹ کے پہلے دن پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 33 رنز بنالیے جبکہ اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل جنوبی افریقہ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 220 رنز بناکر آؤٹ ہوئی تھی۔

پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میں اوپنر عمران بٹ اور سپن بولر نعمان علی کو ٹیسٹ کیپ دی۔ 34 سالہ نعمان علی پاکستان کرکٹ میں پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے چوتھے عمر رسیدہ ترین کھلاڑی ہیں۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم ان کا فیصلہ صحیح ثابت نہ ہوسکا اور پاکستان کے نئے کپتان بابر اعظم، جن کا بطور کپتان یہ پہلا ٹیسٹ ہے، اپنے بولرز کی مدد سے جنوبی افریقہ کو جلدی آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے۔

پروٹیز کی طرف سے ڈین ایلگر اور ایڈم مارکم نے اننگز کا آغاز کیا۔ دونوں بلے باز ابتدا میں جارحانہ نظر آرہے تھے لیکن شاہین شاہ کی ایک گیند نے مارکم کو 13 رنز پر سلپ میں کیچ آؤٹ کرادیا، جو عمران بٹ نے بہت عمدگی سے لیا۔

فان در ڈوسن، ڈین ایلگر کے ساتھ سکور 63 تک لے گئے لیکن اس سکور پر عجلت میں رنز لینے کی کوشش میں بابر اعظم کی بہت اچھی تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔

لنچ تک مہمان ٹیم دو وکٹوں کے نقصان پر 94 رنز بنا چکی تھی اور ایسا معلوم ہورہا تھا کہ پروٹیز بڑا سکور بنالیں گے، لیکن لنچ کے بعد پاکستانی بولرز نے پے درپے حملے کرکے جنوبی افریقہ کو ڈگمگا دیا۔

یاسر شاہ نے پہلے فاف ڈوپلیسی کو 23 رنز پر رضوان کی مدد سے چلتا کیا اور پھر کپتان ڈی کوک کے غیر ذمہ دارانہ شاٹ نے نعمان علی کو پہلی وکٹ دلادی۔ وہ حسن علی کے ہاتھوں 15 رنز پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

صرف تین رنز کے اضافے کے بعد اپنی نصف سنچری مکمل کرکے ڈین ایلگر نعمان علی کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ اس طرح136 کے سکور پر آدھی ٹیم پویلین واپس پہنچ چکی تھی۔

اس موقع پر ٹیمبا بووما اور جارج لنڈے کی 43 رنز کی پارٹنر شپ نے لاج رکھ لی، لیکن بووما بھی حسن علی کے شاندار تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔

 دوسری طرف سے یاسر شاہ نے مہاراج اور نورٹئے کو صفر پر بولڈ کرکے مزید نقصان پہنچادیا۔ جارج حسن علی کی گیند پر 35 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہوئے۔

آخری وکٹ کی شراکت میں ربادا اور این گیڈی نے 25 رنز بناکر سکور 220 تک پہنچا دیا، جہاں شاہین شاہ نے آخری وکٹ لے کر پروٹیز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

پاکستان کی طرف سے یاسر شاہ نے تین جبکہ نعمان علی شاہین شاہ نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستانی اننگز

پاکستان کا آغاز بھی مایوس کن رہا۔ ایک سپاٹ اور بے جان وکٹ پر اوپنر عابد علی ربادا کی ایک سیدھی گیند کو روکنے میں کامیاب نہ ہوئے اور تین رنز پر بولڈ ہوگئے۔

ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے عمران بٹ کا ڈیبیو اچھا نہ رہا اور وہ بھی نو رنز بناکر ربادا کی گیند پر کیچ دے بیٹھے۔ کپتان بابر اعظم شروع سے ہی مشکلات کا شکار تھے اور صرف سات رنز بناکر کیساوا مہاراج کی سیدھی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ انہوں نے ریویو بھی ضائع کیا۔

اسی طرح نائٹ واچ مین شاہین شاہ صفر پر نورٹئے کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب کھیل ختم ہوا تو پاکستان 33 رنز پر چار وکٹیں کھو چکا تھا جبکہ اظہر علی پانچ اور فواد عالم پانچ زنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔

نیشنل سٹیڈیم کی پچ آج غیر متوقع طور پر سلو اور کم باؤنسی تھی اور پہلے دن پچ کا یہ رویہ خاصا حیرت انگیز ہے۔

پاکستان نے اپنی ٹیم میں اضافی سپنر نعمان علی کو بروقت شامل کرکے بولنگ کو تقویت دی ہے، جو اگلے دنوں میں مشکل ثابت ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کی فیلڈنگ آج معیاری رہی، اگرچہ یاسر شاہ اور محمد رضوان سے دو کیچ چھوٹے لیکن عمران بٹ کا کیچ اور بابر اعظم کا رنز آؤٹ کرنا معیاری فیلڈنگ کی مثال تھے۔

پاکستان ابھی پہلی اننگز میں 187 رنز کے خسارے میں ہے اور اس کی چھ وکٹیں باقی ہیں، تاہم اظہر علی اور فواد عالم کی موجودگی سے پاکستانی کیمپ فی الحال کسی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہے اور امید ہے کہ یہ دونوں بڑی پارٹنر شپ بنالیں گے۔

میچ کے دوسرے دن کا پہلا سیشن بہت اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ صبح کی نمی سے ربادا اور نورٹیے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ