کراچی ٹیسٹ: کیا پاکستان شکستوں کا سلسلہ روک سکے گا؟

میدان میں تو پاکستان کے 11 کھلاڑی ہی کھیلیں گے لیکن میدان سے باہر مصباح الحق سمیت دیگر کوچز بھی اعصاب کی جنگ لڑ رہے ہوں گے۔

پاکستانی کرکٹرز کراچی میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ سے قبل پریکٹس کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان نے منگل سے کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے 16 رکنی حتمی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔

چیف سلیکٹر محمد وسیم، جن کا یہ پہلا اسائنمنٹ ہے، نے ایک ہفتے قبل 20 کھلاڑیوں کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے سکواڈ میں کئی نئے کھلاڑیوں کو شامل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو موقع دیا جا رہا ہے۔

وسیم کی جانب سے سکواڈ میں کامران غلام، سعود شکیل، آغا سلمان، تابش خان، نعمان علی اور ساجد خان کو شامل کیے جانے کے فیصلے کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا گیا لیکن جب حتمی 16 کھلاڑیوں کا وقت آیا تو کامران اس فہرست سے نکال دیے گئے حالانکہ پشاور کے کامران قائد اعظم ٹرافی میں 1419 رنز بنا کر بہترین بلے باز رہے ہیں۔

سعود اور عمران بٹ کو کامران پر ترجیح دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر پرفارمنس ہی معیار ہے تو کامران سب سے زیادہ مستحق تھے لیکن شاید مینیجمنٹ کراچی کوٹے کو مدنظر رکھتے ہوئے کم ازکم دو کھلاڑی کراچی کے رکھنا چاہتی ہے۔ ماضی میں شان مسعود اور اب سعود اس کوٹے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ کامران اس کوٹہ سسٹم کا شکار ہوگئے۔

سعود ممکنہ طور پر ون ڈاؤن کی حیثیت سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے جا رہے ہیں لیکن انھیں کھلانے کے لیے سینیئر بلے باز اظہر علی کی پوزیشن کو پھر بدلا جا سکتا ہے۔ مڈل آرڈر میں ممکنہ طور پر کپتان بابر اعظم اور فواد عالم ہوں گے جبکہ وکٹ کیپر محمد رضوان چھٹے نمبر پر اور آل راؤنڈر فہیم اشرف ساتویں نمبر پر کھیل سکتے ہیں۔

پاکستان اپنی فاسٹ بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی جبکہ سپنرز میں یاسر شاہ اور ساجد خان کے ساتھ میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم آخری لمحات میں نعمان علی کے نام کا قرعہ بھی نکل سکتا ہے۔

پاکستان کی ممکنہ پلیئنگ الیون

عابد علی، اظہر علی، سعود شکیل، بابر اعظم، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، یاسر شاہ، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور ساجدخان / نعمان علی۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم

مہمان ٹیم کے تقریباً سب ہی کھلاڑی پہلی دفعہ پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ ٹیم میں سب سے تجربہ کار ڈین ایلگر اور فاف ڈوپلیسی ہیں جبکہ کپتان کوئنٹن ڈی کوک بھی کافی تجربہ رکھتے ہیں۔

ایلگر اور ایڈن مارکم اوپنر ہوں گے جبکہ فان در ڈوسن، فاف ڈوپلیسی  اور کوئنٹن ڈی کوک مڈل آرڈر میں ہوں گے۔ اسی طرح ٹیمبا بووما اور ویانمولڈر بحیثیت آل راؤنڈر کھیل سکتے ہیں جبکہ فاسٹ بولنگ کا بوجھ کاگیسا ربادا، اینرچ نورٹئے اور پریٹوریس کے کاندھوں پر ہوگا۔ کیساوامہاراج سپن شعبہ سنبھالیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مہمان ٹیم ایک اور سپنر تبریز شمسی کو کھلاتی ہے یا فاسٹ بولر اینگیڈی کو۔

کون زیادہ مضبوط ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر کاغذ پر دونوں ٹیموں کا جائزہ لیں تو پاکستان زیادہ مضبوط نظر آتی ہے کیونکہ پاکستان کی بیٹنگ نسبتاً بہتر ہے۔ اظہر اور بابرشاندار فارم میں ہیں جبکہ یاسر شاہ تجربہ کار اور شاہین شاہ بہت عمدہ فارم میں ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم زیادہ تر نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہونے پر تجربہ کے لحاظ سے پاکستان سے پیچھے ہے۔ تاہم مہمان ٹیم پچھلے دنوں آخری دو ٹیسٹ میچ جیت چکی ہے جبکہ پاکستان شکستوں کے انبار تلے دبا ہوا ہے۔

جنوبی افریقہ نے آخری بار 2007 میں کراچی میں ٹیسٹ میچ کھیلا تھا اور شعیب ملک کی قیادت میں ٹیم کو شکست کا صدمہ اٹھانا پڑا تھا۔ تاہم اس وقت جنوبی افریقہ ایک مضبوط ٹیم اور پاکستان ٹیم تاش کے پتوں کی طرح بکھری ہوئی تھی۔ اس مرتبہ دونوں ٹیمیں ہم پلہ ہیں۔

پچ کیسی ہوگی؟

کراچی کی پچ پر ابھی تک پاکستان مینیجنٹ مخمصے کا شکار ہے اور وہ مکمل سپن وکٹ کی تیاری سے خوش نہیں۔ تجربہ کار کیوریٹرآغا زاہد کو دوبارہ بلایا گیا ہے تاکہ ایک مکمل سپن وکٹ بنائی جا سکے۔ تاہم نیشنل سٹیڈیم کی پچ ماضی میں کئی بار دھوکہ دے چکی ہے اس لیے سب بہت محتاط ہیں۔ توقع یہی ہے کہ پچ سپن یا پھر بیٹنگ ہوگی اور فاسٹ بولرز بس پسینہ ہی بہاتے رہیں گے۔

پاکستان کی امیدیں

پاکستان نے اس سیریز سے بہت امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ وہ ہوم سیریز میں جیت حاصل کرکے شکستوں کا داغ دھونا چاہتے ہیں۔ کپتان بابر اعظم اپنی کپتانی کا آغاز اس سیریز سے کریں گے۔ پاکستان نے گذشتہ دو سیریز میں سخت وقت گزارتے ہوئے پے درپے شکستوں کا مزہ چکھا ہے۔ ان شکستوں نے کچھ کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کیا اور کوچز کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ ان سب کے لیے یہ سیریز بہار کا جھونکا ثابت ہوسکتی ہے۔

منگل کی صبح جب میچ شروع ہوگا تو گراؤنڈ میں پاکستان کے 11 کھلاڑی ہی کھیلیں گے لیکن گراؤنڈ سے باہر مصباح الحق سمیت کوچز کی فوج بھی اعصاب کی جنگ لڑ رہے ہو گی۔ ادھر شائقین کے ذہنوں میں ایک ہی سوال ہوگا کیا بابر اعظم اینڈ کمپنی شکستوں کا سلسلہ روک کر فتوحات کا سفر شروع کر سکے گی؟


نوٹ: یہ مضمون لکھاری کی ذاتی رائے ہے اور ادارے کا اس رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ