کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کی گرفت مضبوط

جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی میں کھیلے جارہے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی تیسرے دن کی کارکردگی کا سہرا یاسر شاہ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے پہلے بیٹنگ اور پھر بولنگ میں اپنا جادو جگایا ہے۔

پاکستانی کھلاڑی جنوبی افریقہ کے وان دا ڈوسن کوآؤٹ کرنے کے بعد جشن مناتے ہوئے (تصویر: اے ایف پی)

کراچی ٹیسٹ کے تیسرے دن میچ دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ دن کے اختتام تک مہمان ٹیم نے 187 رنز بنائے ہیں اور اس کے چار مستند بلے باز پویلین واپس جاچکے ہیں۔ اس طرح جنوبی افریقہ کا دوسری اننگز میں سکور پاکستان کی پہلی اننگز کی سبقت نکال کر ابھی تک 29 رنز ہے۔

کریز پر اس وقت کپتان کوئنٹن ڈی کوک اور کیساو مہاراج موجود ہیں۔

اس سے قبل پاکستان نے آج اپنی پہلی اننگز 308 رنز پر دوبارہ شروع کی تو حسن علی اور نعمان علی نے 28 رنز کی پارٹنر شپ کرکے سکور 323 تک پہنچادیا۔ اس موقع پر حسن علی ربادا کی گیند پر 21 رنز بناکے آؤٹ ہوگئے۔

نئے آنے والے پاکستان کے آخری بلے باز یاسر شاہ نے آج زبردست بیٹنگ کی اور جنوبی افریقہ کے تمام ہی بولرز کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔انہوں نے 38 رنز کی اننگز کھیلی اور آؤٹ نہیں ہوئے جس میں چار چوکے اور ایک چھکا بھی شامل تھا۔ ان کی نعمان علی کے ساتھ 55 رنز کی پارٹنر شپ پروٹیز کو بہت مہنگی پڑے گی۔

پاکستان کے آخری آؤٹ ہونے والے بلے باز نعمان علی تھے جو 24 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے ربادا اور مہاراج نے تین جبکہ نورٹئے اور نگیڈی نے دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

پاکستان اپنی پہلی اننگز کے مجموعی 378 رنز  کے باعث 158 رنز کی فیصلہ کن سبقت لینے میں کامیاب ہوگیا۔

جنوبی افریقہ نے اپنی دوسری اننگز محتاط انداز میں شروع کی اور ڈین ایلگر اور ایڈم مارکرم 48 رنز کی پارٹنر شپ بنانے میں کامیاب رہے۔

پروٹیز کی پہلی وکٹ ڈین ایلگر تھے، جنہیں یاسر شاہ کی گیند پر رضوان نے سپر مین انداز میں کیچ آؤٹ کیا۔

وان دا ڈوسن اور مارکرم نے دوسری وکٹ کے لیے شاندار بیٹنگ کی اور پاکستان کی برتری ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ دونوں نے 147 رنز کی شراکت قائم کی۔

ایسا لگتا تھا کہ دونوں بلے باز ایک بڑا سکور کرلیں گے لیکن یاسر شاہ کی گیند پر عابد علی کے ایک عمدہ کیچ نے وان دا ڈوسن کی اننگز کا 64 رنز پر اختتام کردیا۔

جنوبی افریقہ کی بیٹنگ کو اس وقت ایک اور دھچکا لگا جب فاف ڈوپلیسی یاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ وہ صرف 10 رنز بناسکے۔ ڈوپلیسی شروع سے  ہی گھبراہٹ کا شکار محسوس ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دن کے اختتام سے دو اوورز پہلے ذمہ داری سے کھیلنے والے مارکرم بھی عابد علی کے ایک بہت عمدہ کیچ کے باعث پویلین جاپہنچے۔

انہوں نے 74 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور نعمان علی نے ان کی وکٹ حاصل کی۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم تیسرے دن کے اختتام پر 187 رنز پر چار وکٹیں کھو چکی ہے اور کپتان ڈی کوک کریز پر موجود ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ٹیم کوبحران سے نکال پاتے ہیں یا نہیں۔

پاکستان کی طرف سے آج یاسر شاہ نے عمدہ بولنگ کی اور تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ عابد علی کے دو شاندار کیچ قومی ٹیم کی پوزیشن مضبوط کرگئے۔

جمعے کو میچ کے چوتھے دن پچ کو دیکھتے ہوئے پروٹیز کی طرف سے کوئی بڑا ہدف مشکل نظر آتا ہے جبکہ پاکستان کے بولرز بھی پوری طرح فارم میں ہیں۔

اگرچہ پاکستان کا ہدف کے تعاقب میں ریکارڈ بہت خراب ہے لیکن 150 رنز کا ہدف پاکستان کے لیے آسان ہوگا۔ اس سے زیادہ کی صورت میں پاکستانی بلے بازوں کو بہت ذمہ داری سے کھیلنا ہوگا۔

تاہم جنوبی افریقہ کے پاس یاسر شاہ جیسا کوئی سپنر نہیں ہے، اس لیے پاکستان کا جیت کا سفر زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔

پاکستان کی تیسرے دن کی کارکردگی کا سہرا یاسر شاہ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے پہلے بیٹنگ اور پھر بولنگ میں اپنا جادو جگایا ہے۔

نیشنل سٹیڈیم کی پچ عموماً چوتھے دن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے، ایسے میں یاسر شاہ کے لیے میدان تیار ہے کہ وہ مزید وکٹیں تیزی سے لے کر پاکستان کی جیت کو آسان بنادیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ