ایل او سی پر بھارتی بمباری کے خوف میں رہنے والے کشمیری

بھارتی گولہ باری کے دوران بیٹے، بیوی اور بہو کے زخمی ہونے کے باوجود اقبال اپنا گھر چھوڑ کر جانے پر راضی نہیں۔

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر پاکستان کی طرف مقیم کشمیری ہر وقت بھارتی بمباری کے خوف میں زندگی گزارتے ہیں۔

محمد اقبال ایل او سی کے قریب گائی گاؤں کے رہنے والے ہیں، جہاں گذشتہ نومبر کو تین بھارتی گولے گرے۔ ان میں سے ایک گولہ اقبال کے گھر میں گرا جس سے ان کے بیٹے کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ گولہ باری کے دوران ان کی بیوی اور بہو بھی زخمی ہوئیں لیکن اس تمام تر صورت حال کے باوجود وہ اپنا گاؤں چھوڑ کر جانے کو راضی نہیں۔

 یہ صورت حال نہ صرف محمد اقبال کی ہے بلکہ ایل او سی کے پاس رہنے والے زیادہ تر کشمیری بھی آئے روز بھارتی بمباری سے متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم وہ جان و مال کے نقصان کے باوجود اپنا گھر چھوڑنے کو تیار نہیں۔ سبز کوٹ گاؤں کے حاجی محمد بشیر بارودی سرنگ کی زد میں آ کر  ایک ٹانگ سے محروم ہو چکے ہیں۔ نہ صرف وہ بلکہ ان کے گاؤں کے بہت سارے افراد بھارتی فائرنگ سے معذور ہوئے اور کچھ اپنی جانوں سے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حاجی محمد بشیر کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج شہریوں کو ٹارگٹ کرتی ہے کیوں کہ ان کا گاؤں ایل او سی سے صرف 500 میٹر کی دوری پر ہے جب کہ پاکستانی فوج کا ہدف ان کے فوجی ہوتے ہیں۔

پاکستان فوج کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں بھارتی فوج نے 10 ہزار سے زائد مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی، جس کے دوران بمباری سے زیادہ تر پاکستان کی جانب رہنے والے کشمیری متاثر ہوئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا