’میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے عطیے کے نام پر 24 لاکھ روپے مانگے‘

نجی میڈیکل کالجوں کی انتظامیہ کم نمبر لینے والے بہت سے طلبہ سے ’ڈونیشن‘ کے نام پر بھاری رقوم مانگتی ہیں جو 15 لاکھ سے لے کر 40 لاکھ روپے ہو سکتی ہے۔

(انڈپینڈنٹ اردو/ سہیل اختر)

محمد رمضان خیبر پختونخوا کے ایک نجی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے چوتھے سال کے طالب علم ہیں اور ڈاکٹر بننا ان کی اور ان کے گھر والوں کی شدید خواہش تھی۔

رمضان نے چار سال قبل میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے ضروری ٹیسٹ دیا تھا لیکن ان کے نمبر اتنے کم تھے کہ وہ سرکاری تو کیا نجی میڈیکل کالج کے میرٹ پر بھی پورا نہیں اترتے تھے۔ رمضان کو کسی دوست نے کچھ نجی میڈیکل کالجوں کے نام بتا کر ان کی انتظامیہ سے بات کرنے کا بتایا کہ وہاں جا کر ان سے ملیں اور وہ آپ کو داخلہ دلوائیں گے۔

انہوں نے ایسا ہی کیا اور ایک نجی میڈیکل کالج چلے گئے لیکن اتنظامیہ نے ان سے داخلہ دلوانے کے لیے پیسوں کا مطالبہ کر دیا جن کو انہوں نے ’ڈونیشن‘ یا عطیے کا نام دیا۔

رمضان نے بتایا، ’مجھے کالج کے ایک اہلکار نے بتایا کہ آپ کالج کو 24 لاکھ روپے ڈونیشن دے دیں تو ہم آپ کو داخلہ دلوائیں گے اور اس کے بعد سالانہ فیس بھی آپ کو ادا کرنا پڑے گی۔ یہ سن کر مجھے بہت عجیب لگا کہ ایک نجی میڈیکل کو ایک طالب علم ڈونیشن کیوں دیں، جبکہ مجھے لگا کہ یہ ایک قسم کی رشوت ہے اور ان طلبہ سے لی جاتی ہے جن کے مارکس کم ہوں۔‘

انہوں نے بتایا، ’میری اتنی استطاعت نہیں تھی کہ 24 لاکھ دے سکوں کیونکہ میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے اور یوں اپنے تعلیمی اسناد اٹھا کر کالج سے نکل گیا۔‘ رمضان نے اگلے سال تیاری کر کے زیادہ نمبر لیے اور انہیں ایک نجی کالج میں داخلہ مل گیا جہاں اب وہ چوتھے سال کے طالب علم ہیں۔

رمضان نے بتایا، ’اب بھی میں تقریباً 11 لاکھ سالانہ فیس ادا کرتا ہوں لیکن کالج والے جو ڈونیشن کے نام پر رشوت لیتے ہیں کم از کم اس سے بچ گیا ہوں۔‘

رمضان کی طرح ایسے بہت سے طلبہ ہیں جو میڈیکل کی ڈگری لینے کی خواہش لے کر میڈیکل کالجوں کی انتظامیہ کو ’ڈونیشن‘ کے نام پر بھاری رقوم ادا کرتے ہیں جو 15 لاکھ سے لے کر 40 لاکھ روپے فی طالب علم ہو سکتی ہے۔ اس معاملے کے بارے میں علم رکھنے والے ایک ڈاکٹر نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ ایک کاروبار بن گیا ہے جس میں کالجوں کے پرنسپل اور اعلیٰ افسران سے لے کر نیچے تک کے ملازمین ملوث ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری کالجوں میں بھی بیرونی ممالک کے طلبہ کے لیے مختص سیٹوں پر ایسے ہی طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے اور ان سے لاکھوں روپے رشوت لی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’کچھ مواقع پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ طالب علم سے لاکھوں روپے رشوت سمیت ان سے میڈیکل ڈگری مکمل کرنے کے مجموعی پانچ سالوں کی فیس یک مشت لی جاتی ہے۔‘ 

سوشل میڈیا پر مبینہ ڈیل کی ویڈیو وائرل

اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جو بظاہر خیبر پختونخوا کے ایک نجی کالج کے حوالے سے ہے۔ اس ویڈیو میں ایک شخص نے نجی کالج کو کال کی ہے اور ان سے ’ڈونیشن‘ پر داخلہ کرانے کی ڈیل کر رہے ہیں۔

ویڈیو میں ایک شخص مبینہ طور پر نجی کالج کے اہلکار کو کال کر کے پوچھ رہے ہیں کہ کیا وہ انٹرویو کے لیے آ جائیں۔ جس کے جواب میں ان کو بتایا جاتا ہے کہ اگر آپ کے پاس پیسے ہیں اور دینا چاہتے ہیں تو وہ ان کے لیے سیٹ رکھیں گے اور انٹرویو کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساتھ میں ان کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ’میرٹ میں آپ کا نام نہیں آنے والا کیونکہ آپ کے مارکس کم ہیں۔‘ گورنر خیبر پختونخوا اور چانسلر شاہ فرمان نے اس ویڈیو کا نوٹس لے لیا ہے۔

گورنر ہاؤس سے جاری اعلامیے کےمطابق لیک گفتگو میں ایک طالب علم سے 45 لاکھ ڈونیشن کے نام پر مانگے گئے اور اسی مسئلے پر گورنر نے وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی (جس کے تحت صوبے کے سارے میڈیکل کالج چلتے ہیں) سے پانچ دنوں میں لیک ویڈیو کی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا الحق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہم نے گورنر کی ہدایات کی روشنی میں اس مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کے  لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔‘ ڈاکٹر ضیا نے بتایا: ’ہم نے ایک اخباری اشتہار کے ذریعے پبلک نوٹس بھی جاری کیا ہے کہ اگر کسی بھی طالب علم سے داخلے کی مد میں اضافی روپے لیے گئے ہیں تو وہ یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کریں اور ان کا نام صیغئہ راز میں رکھا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ہم نے خاص طور پر ایک نجی کالج سے بینک ریکارڈ سمیت داخلہ اور میرٹ لسٹ کا ڈیٹا طلب کیا ہے جبکہ دیگر میڈیکل کالجز سے عمومی طور پر ڈیٹا طلب کیا ہے تاکہ وہ ہمیں دکھا سکیں کہ انہوں نے داخلے واقعی میرٹ پر دیے ہیں۔‘ ڈاکٹر ضیا نے بتایا کہ ابھی تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے مکمل ہونے کے بعد اگر کوئی کالج غیر قانونی طریقے سے داخلہ دلوانے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس