وزیرستان: تین قبائل میں لڑائی، فوج، پولیس اور مشران سے رابطے

اس جھڑپ کے نتیجے میں متعدد ہوٹل، پیٹرول پمپ اور متعدد دکانیں مسمار کر دی گئی ہیں اور مبارک شاہی کے قبیلے سے ایک دوست نامی شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

اس جھڑپ کے نتیجے میں متعدد ہوٹل، پیٹرول پمپ اور متعدد دکانیں مسمار کر دی گئی ہیں (روفان خان)

خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں تین قبیلے اراضی کے تنازعے پر آمنے سامنے آگئے ہیں اور تینوں اقوام کے درمیان جمعہ کی شب سے فائرنگ اور لڑائی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جس کے باعث کاروباری نظام ٹھپ ہوکررہ گیا ہے۔

اس جھڑپ کے نتیجے میں متعدد ہوٹل، پیٹرول پمپ اور متعدد دکانیں مسمار کر دی گئی ہیں اور مبارک شاہی کے قبیلے سے ایک دوست نامی شخص ہلاک ہو گیا ہے جن کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

تینوں اقوام کے مابین سالوں سے اراضی کا تنازعہ چلتا آ رہا ہے جس کی وجہ سے کئی بار ان کے مابین جرگے اور لڑائیاں ہوئی ہیں، وزیر اور داوڑ اقوام سے زمینی تنازعے پر درجنوں افراد مارے گئے ہیں۔

رکن صوبائی اسمبلی میر کلام وزیر نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ قبیلوں کے مابین جاری تصادم کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور قومی مشران کے ساتھ مسلسل رابطے جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ قبیلوں کے مشران کے علاوہ دیگر قومی مشران کے ساتھ مل کر اس تنازعے کو جلد حل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں فوج، ضلعی انتظامیہ، ایف سی اور پولیس بھی اپنا کردارادا کر رہی ہے۔

شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر شاہد علی خان نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ شمالی وزیرستان کی ضلعی انتظامیہ کا عملہ موقع پر موجود ہے جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار اور متعلقہ محکمے کے افسران شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شمالی وزیرستان شفیع اللہ گنڈا پور نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ اقوام کے مابین حدی بندی نہیں ہوئی ہے اور ان کو یہ پتا نہیں کہ یہ زمین ہماری ہے یا کسی اور کی اس وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

’پہلے فاٹا کا انضمام نہیں ہوا تھا اب تو فاٹا انضمام ہوچکا ہے قانون آگیا یعنی پورا نظام رائج ہوا ہے شمالی وزیرستان پولیس کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔‘

شمالی وزیرستان کے این اے پی کے جنرل سیکرٹری عبدالخیل نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ وزیر اور داوڑ قبیلے کے مابین زمینی تنازعہ سالوں سے چلا آ رہا ہے۔ حد بندی نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ حل نہ ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ ’بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چند قدم کے فاصلے پر سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ ہے اور شمالی وزیرستان میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں مگر پھر بھی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ یا تو موجودہ افسران کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہیں یا شمالی وزیرستان میں نئے افسران کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔

شمالی وزیرستان کی آل سیاسی پارٹی اتحاد کے چیئرمین مولانا رشید اللہ خان اور جماعت اسلامی کے رہنما ملک امشاد اللہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آل سیاسی پارٹی اتحاد پہلے کی طرح اب بھی قبائل کے مابین صلح کا کردار ادا کرے گا اور تنازعہ حل کرنے کی کوشش کرے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان