کیا یہ لیونارڈو ڈاونچی کی اصل تصویر ہے؟

برطانیہ کے شاہی محل میں تصویری خزانے کے نگران مارٹن کلیٹن نے اتفاقی طور پر یہ تصویر (خاکہ) اس وقت دریافت کی جب وہ معمول کے جائزے میں ونڈسرکاسل کے کاغذات دیکھ رہے تھے ۔

ایک داڑھی والے  شخص کی یہ تصویر  اب تک دستیاب اُن دو تصاویر میں سے ایک سمجھی جاتی ہے ،جو لیونارڈو کی زندگی میں بنائی گئی تھیں۔ تصویر: پی اے

شہرہ آفاق اطالوی مصور لیونارڈو ڈاونچی کی ایک تصویر عنقریب لندن کے شاہی محل میں پہلی مرتبہ عام نمائش کے لیے رکھی جائے گی۔

ایک داڑھی والے شخص کی یہ تصویر (خاکہ) اب تک دستیاب اُن دو تصاویر میں سے ایک سمجھی جاتی ہے جو لیونارڈو کی زندگی میں بنائی گئی تھیں۔ 

برطانیہ کے شاہی محل میں تصویری خزانے کے نگران مارٹن کلیٹن نے اتفاقی طور پر یہ تصویر (خاکہ) اُس وقت دریافت کی جب وہ معمول کے جائزے میں ونڈسرکاسل کے کاغذات دیکھ رہے تھے۔ 

مارٹن کے مطابق یہ لیونارڈو کا وہ خاکہ ہے جو ان کی موت سے کچھ عرصہ قبل 1519 میں بنایا گیا تھا۔ اُس وقت لیونارڈو کی عمر 67 برس تھی۔

ماہرین کے مطابق اس سے پہلے لیونارڈو ڈاونچی کی جو واحد تصویر دستیاب تھی وہ بھی اس عرصے (1519) کے آس پاس لیونارڈو کے شاگرد فرانسسکو میلزی نے بنائی تھی۔

اٹلی میں پائی جانے والی ایک تصویر ایسی بھی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ لیونارڈو کی ’سیلف پورٹریٹ‘ ہے، لیکن اس دعوے کی صداقت پر کلیٹن سمیت دیگر ماہرین نے بھی سوال اٹھائے ہیں۔

نمائش کے لیے رکھی جانے والی تصویر کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کی شباہت فرانسسکو میلزی والی تصویر سے بہت زیادہ ہے۔ 

مارٹن کلیٹن کے مطابق: ’ستواں ناک، داڑھی کی حدیں گالوں کے نیچے سے یکساں کانوں تک جاتی ہوئی، مونچھوں کے آخر میں جھکا ہوا سا ایک بل اور بالوں میں گھنگریالا پن، یہ سب کچھ بالکل ویسا ہی ہے جیسا فرانسسکو والی تصویر میں تھا۔‘

مارٹن کلیٹن نے اس تصویر کی صداقت پر قیاس کرتے ہوئے مزید کہا: ’اُس وقت جب داڑھی رکھنے کا رواج بہت کم تھا، لیونارڈو ایک شاندار لمبی گھنی داڑھی رکھتا تھا۔‘

یہ خاکہ ایک ایسے کاغذ پر بنایا گیا ہے جس کے دوسری جانب لیونارڈو نے اپنے ہاتھوں سے ایک گھوڑے کی ٹانگ کی تفصیلی تصویر بنائی تھی۔ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ تصویر کسی بڑے مجسمے کی ڈرائنگ تھی۔ 

یہ خاکہ شاہی محل میں لیونارڈو ڈاونچی کی ’دی لاسٹ سپر‘ سمیت 200 مزید تصاویر کے ساتھ 24 مئی سے نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ