ہمیں یقین ہے کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں: شاہ محمود قریشی

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے افغانستان میں امن اور ترقی چاہنے والے ممالک ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔ ۔

وزیر خارجہ  شاہ  محمود قریشی  کا کہنا تھا کہ  ہارٹ آف ایشیا کانفرنس ایک اہم پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے افغانستان میں امن اور ترقی چاہنے والے ممالک ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔ (تصویر: شاہ محمود قریشی ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ دنیا یہ سمجھ چکی ہے کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ 

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں منگل کو نویں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ تاریخ ہے اور افغانستان میں امن دیکھنے کا پاکستان سے زیادہ خواہاں کوئی نہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس ایک اہم پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے افغانستان میں امن اور ترقی چاہنے والے ممالک ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا: ’افغان امن عمل ایک ہم موڑ پر ہے۔ 40 سالوں سے عدم استحکام اور تنازعے میں گھرا افغانستان اس سے پہلے کبھی اپنی قسمت بدلنے کے اتنے قریب نہیں تھا۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ اگست 2020 میں افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز ایک اہم موڑ تھا، جس طرح فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ تھا۔ 

’اب تک ہونے والی پیش رفت افغان رہنماؤں کے لیے تاریخی موقع ہے کہ وہ وسیع سیاسی حل حاصل کر سکیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو اس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں۔  ’یہ اہم ہے کہ یہ یقین ہی افغان فریقین اور افغان عوام کے ساتھ کھڑی انٹرنیشنل کمیونٹی کو آگے گائیڈ کرے۔‘ 

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے کئی افغان رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ مثبت نتائج کے لیے اس عمل میں ساتھ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بات سے واقف ہے کہ افغان عوام کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ اور پاکستان کو افغانستان میں جاری تشدد اور زندگیوں کے زیاں پر تشویش ہے۔ 

ان کا کہنا تھا: ’القاعدہ اور داعش کی حاصل کردہ کوئی بھی خلا دہشت گردی کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔‘

شاہ محمود قریشی کے مطابق جب دوحہ معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تو اسے امید کا ایک لمحہ کہا گیا تھا اور یہ ہم سب کی مشترکہ کوشش ہونی چاہیے کہ یہ امید ختم نہ ہو۔ 

انہوں نے مزید کہا ہم نے افغانستان کے اندر اور باہر سے ’خرابی‘ پیدا کرنے والوں کے کردار سے متعلق ہمیشہ خبردار کیا ہے۔ 

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے حصے کے طور پر پاکستان پرامن، مستحکم، متحد، خودمختار اور خوشحال افغانستان کے قیام کے لیے اپنی مدد جاری رکھے گا، جو نہ صرف داخلی طور پر پرامن ہو بلکہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی امن وآشتی کا حامل ہو۔‘

دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر جے شنکر نے اپنی تقریر میں کہا کہ بھارت افغانستان میں امن چاہتا ہے اور امن عمل میں کردار ادا کرنے پر خوشی محسوس کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ’بھارت نے افغانستان کی ترقی کے لیے کئی ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن کو وہ مکمل کرے گا۔ افغانستان میں غیرملکی عناصر کا ملوث ہونا قابل فکر ہے۔‘

جے شنکر کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو افغانستان میں پرتشدد کاروائیوں کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا۔ 

افغان صدر اشرف غنی نے اپنی تقریر میں افغان امن کے لیے کردار ادا کرنے پر امریکہ، یورپ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور قطر کا بالخصوص نام لے کر شکریہ ادا کیا لیکن پاکستان کا نام نہیں لیا۔ 

کانفرنس کے دوران انڈپینڈنٹ اردو کی نمائندہ مونا خان نے افغانستان وزیر خارجہ حنیف اتمر سے سوال کیا کہ ’افغان امن عمل میں وہ پاکستان کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں؟‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’پاکستان افغان امن عمل میں بنیادی فریق ہے جس کا مثبت کردار ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس، افغانستان میں امن، استحکام اور خوش حالی کے مشترکہ مقاصد کو حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے شرکا اور حمایت کرنے والے ممالک کو قریب لانے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان