خیبرپختونخوا اسمبلی کی اضافی نشستوں پر انتخابات: قبائلی ناخوش کیوں؟

قبائلیوں کے مطابق 2017 کی مردم شماری پر ان کے تحفظات ہیں، لہذا اگر ان علاقوں کو حقیقی ترقی دینی ہے تو نشستوں کی تعداد بڑھا دی جائے۔

قبائلیوں کے مطابق 2017 کی مردم شماری پر ان کے تحفظات ہیں، لہذا اگر ان علاقوں کو حقیقی ترقی دینی ہے تو نشستوں کی تعداد بڑھا دی جائے۔فائل تصویر: اے ایف پی

سابق قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی 16 جنرل نشستوں پر انتخابات کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ نو اور 10 مئی دی گئی ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات دو جولائی کو ہوں گے۔

دوسری جانب قبائلیوں کا کہنا ہے کہ سات اضلاع کے لیے 21 نشستیں ناکافی ہیں۔ ان نشستوں میں 16 جنرل، چار خواتین کی اور ایک اقلیتی نشست ہے۔ 

قبائلیوں کے مطابق 2017 کی مردم شماری پر ان کے تحفظات ہیں، لہذا اگر ان علاقوں کو حقیقی ترقی دینی ہے تو نشستوں کی تعداد بڑھا دی جائے۔

اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے قبائلی اضلاع سے قومی اسمبلی کے ارکان منیر اورکزئی، محسن داوڑ اور دیگر نے قومی اسمبلی میں دو ہفتے پہلے ایک بل بھی پیش کیا تھا جس میں سات اضلاع کے لیے نشستوں کی تعداد 21 سے 31 کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی، یعنی 24 عمومی نشستیں، چھ نشستیں خواتین کے لیے اور ایک اقلیتی نشست۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے منیر اورکزئی نے بتایا کہ کل قومی اسمبلی میں ان کے تجویز شدہ بل پر بات ہوگی۔ انھوں نے امید ظاہر کی ان کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور ہو جائے گا اور پھر نئی حلقہ بندیاں ہوں گی، بصورت دیگر انتخابات کی تیاریاں ہوں گی۔

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے فاٹا یوتھ جرگہ کے ترجمان اور سماجی کارکن عامر آفریدی نے بتایا کہ ایف ڈی ایم اے (فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کے اعداد و شمار کے مطابق صرف شمالی اور جنوبی وزیرستان کے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد نو سے 10 لاکھ تک ہے، جبکہ سابقہ فاٹا سے زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو کیمپوں میں جانے کی بجائے اپنی مدد آپ کے تحت مختلف علاقوں میں چلے گئے تھے، لہٰذا ان افراد کے اعداد وشمار کسی کے پاس نہیں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قبائلی افراد 2017 کی مردم شماری پر تحفظات کا اظہار کرتے آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک دوسری مردم شماری نہیں کی جاتی، ضم شدہ اضلاع کے لیے موجودہ 12 قومی اسمبلی ارکان کے ساتھ صوبائی نشستوں کی تعداد 31 رکھی جائے۔

واضح رہے کہ قانون کی رو سے فاٹا اس وقت خیبر پختونخوا کا حصہ ہے اور اس اعتبار سے صوبائی جنرل نشستوں پر قبائلیوں کے علاوہ صوبے کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

صوبائی نشستوں پر انتخابات کے حوالے سے جب الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا دفتر کے تعلقات عامہ کے افسر محمد سہیل سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایا: ’یہ درست ہے کہ ان نشستوں پر کوئی بھی الیکشن لڑ سکتا ہے۔ البتہ خواتین تمام کی تمام قبائلی اضلاع سے ہی لائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ جنرل نشستوں پر جہاں قبائلیوں کے تحفظات کی بات ہے تو ہمارے ادارے نے حلقہ بندیوں کا فیصلہ پاکستان کے شماریاتی ادارے کے نتائج کی بنیاد پر کیا ہے، جس کے مطابق سابقہ فاٹا کی آبادی تقریباً 50 لاکھ ہے۔ اگر پارلیمنٹ نشستوں کو بڑھا دیتی تو ہم بھی اسی طرح پیروی کرتے۔‘

 محمد سہیل نے مزید بتایا کہ سات اضلاع سے رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 26 لاکھ 62 ہزار 635 ہے جو فاٹا کی تاریخ میں پہلی دفعہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

وزیرستان کے رہائشی اور ٹرائبل یوتھ سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری خان بہادر نے بتایا کہ نشستوں کے حوالے سے بعض اضلاع کے ساتھ بہت نا انصافی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا: ’اگر شمالی وزیرستان کی مثال لی جائے تو یہاں کے حلقہ 112 میں 10 تحصیل ہیں اور اس کے لیے صرف دو نشستیں ہیں۔ یہ اتنا بڑا علاقہ ہے کہ اس کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ شمالی وزیرستان کی تقریباً 16 لاکھ آبادی ہے جس کے لیے کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ چار صوبائی نشستیں ہونی چاہیے تھیں- اس پر احتجاج بھی ہوا ہے، لوگ عدالتوں میں بھی گئے ہیں لیکن ابھی تک خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔‘

خان بہادر نے مزید بتایا کہ جو لوگ فاٹا کے انضمام کے حق میں ہیں، وہ الیکشن کا بائیکاٹ کسی طور نہیں کریں گے، وہ انتخابی عمل میں بھی حصہ بھی لیں گے اور ساتھ ساتھ اپنے حق کے لیے آواز بھی اٹھاتے رہیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست