صنعا:حوثیوں نے 220 سے زیادہ افریقی تارکین وطن کو اغوا کرلیا

یمن کے دارالحکومت صنعا میں چند گھنٹے پہلے 220 سے زیادہ افریقی پناہ گزینوں کو اقوام متحدہ کے دفاتر کے باہر سے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

(اے ایف پی)

یمن کے دارالحکومت صنعا میں چند گھنٹے پہلے 220 سے زیادہ افریقی پناہ گزینوں کو اقوام متحدہ کے دفاتر کے باہر سے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق نیوز چینل نے ہفتے کو مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اغوا کیے جانے والے پناہ گزینوں میں سے 55 خواتین ہیں۔ پناہ گزینوں کو اغوا کرنے کا مقصد واضح نہیں ہے۔ اس سے پہلے پناہ گزینوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر(یواین ایچ سی آر) کی عمارت کے باہر شمعیں روشن کی تھیں۔

پناہ گزینوں کا مطالبہ تھا کہ مارچ میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں جس میں صنعا میں واقع اس حراستی مرکز میں 40 سے زیادہ افریقی تارکین وطن مارے گئے تھے جہاں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھا گیا تھا۔احتجاج کرنے والے قیدیوں سے جھڑپ کے بعد حوثی فورسز نے ایک ہینگر پر دو راکٹ داغے تھے  جس کے نتیجے میں یہ مارے گئے۔

ترک وطن سے متعلق اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم (آئی او ایم) کے مطابق سات مارچ کو لگنے والی آگ نے اس عمارت کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جہاں 350 افراد موجود تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ لوگ صنعا کے ہوائی اڈے پر قائم امیگریشن، پاسپورٹ اینڈ نیچرالائیزیشن اتھارٹی ہولڈنگ فیسلٹی میں روکے گئے نو سو افراد میں شامل تھے۔

اس واقعے کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائیٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) رپورٹ کے مطابق تارکین وطن نے بتایا کہ پہلے حملے سے بہت زیادہ دھواں پھیل گیا جس سے انہوں نے آنکھوں میں چبھن محسوس کی اور ان سے پانی بہنے لگا.

تارکین نے دوسرے راکٹ کو 'بم'قرار دیا ہے جو زوردار دھماکے ساتھ پھٹا اور اس سے آگ لگ گئی۔

ایچ آر ڈبلیو کے مطابق عینی شاہدین کے بیانات سے اشارہ ملتا ہے کہ حملے میں دھواں پیدا کرنے والے دستی بم، آنسو گیس کے شیل یا سن کر دینے والے دستی بم استعمال کئے گئے جنہیں'فلیش بینگ'آلات بھی کہا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا