آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں آخری ایشز ٹیسٹ میچ اتوار چار جنوری کو شروع ہو رہا ہے۔ اس موقعے پر رائفلیں تھامے پولیس اہلکار گشت کریں گے، جو ملک میں کھیلوں کے مقابلوں کے دوران شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔
یہ اقدام بونڈائی کے ساحل پر دہشت گرد حملے کے بعد سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ ماہ 14 دسمبر کو یہودیوں کی تقریب کے دوران دو مسلح افراد نے فائرنگ کر دی تھی، جس کے نتیجے میں 15 افراد جان سے گئے جب کہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔
کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے پیش نظر یونیفارم میں ملبوس اور گھڑ سوار پولیس کے ساتھ ساتھ امن و امان اور ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والے سکواڈ کے اہلکار سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ہونے والے ہاؤس فل میچ کی نگرانی کریں گے۔
نیو ساؤتھ ویلز کی ریاستی پولیس کے کمشنر مال لینین نے ہفتے کو کہا کہ رائفلوں کی نمایاں موجودگی کا مقصد عوام کو اطمینان دلانا ہے کہ کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
انہوں نے کہا: ’بہت سے لوگ کھیل کے مقابلوں میں پولیس کو رائفلیں اٹھائے دیکھنے کے عادی نہیں ہوں گے، لیکن یہاں ہمارا مقصد عوام کو محفوظ محسوس کروانا ہے اور پولیس پوری قوت کے ساتھ موجود ہو گی۔ فرق صرف طویل نالی والے ہتھیار دکھائی دینے اور پولیس کی زیادہ نفری کا ہو گا۔ اس کے علاوہ پولیس معمول کے مطابق غیر سماجی اور غیر محفوظ رویوں کے خلاف کارروائی کرتی رہے گی۔‘
یہ انتظامات میلبرن کرکٹ گراؤنڈ پر 26 دسمبر کو شروع ہونے والے چوتھے ایشز ٹیسٹ جیسے ہیں، جہاں ماہر پولیس اہلکار نیم خودکار رائفلوں سے مسلح تھے اور مصروف سٹیڈیم، اس کے قریب واقع پارک اور ریلوے سٹیشن کے اردگرد گشت کرتے رہے۔
کرکٹ آسٹریلیا نے ہفتے کو یہ بھی اعلان کیا کہ بونڈائی فائرنگ کے متاثرین، ابتدائی امدادی اہلکاروں اور کمیونٹی کے افراد کو ٹیسٹ میچ کے پہلے دن میدان میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ اس موقعے پر گارڈ آف آنر اور تالیاں بجا کر ہنگامی امدادی اداروں اور کمیونٹی کے افراد کی خدمات اور کاوشوں کو سراہا جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ ٹوڈ گرین برگ نے ایک بیان میں کہا کہ ’بونڈائی حملے کے مقام پر بہادری کے ناقابل یقین مظاہرے، اس عوامی ہمدردی اور جذبہ ایثار کی یاد دلاتے ہیں جو ہمیں ایک قوم کے طور پر متحد کرتا ہے۔‘
بونڈائی میں ہونے والے حملے کے زخمی سات افراد اب بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان میں سے چھ کی حالت خطرے سے باہر ہے، جب کہ ایک زخمی کی حالت تشویش ناک ہے لیکن اب وہ مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
حملے کے دو مسلح ملزموں میں سے ایک، 24 سالہ نوید اکرم کو اس واقعے کے حوالے سے 59 الزامات کا سامنا ہے جن میں 15 افراد کا قتل بھی شامل ہے۔ نوید اکرم جائے وقوعہ پر پولیس کی گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔ فرد جرم عائد کیے جانے سے قبل وہ کئی روز تک بے ہوش رہے۔ ان کے والد، 50 سالہ ساجد اکرم پولیس کی فائرنگ سے موقعے پر ہی مارے گئے۔