’نارمل حالات نہیں، قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں‘

کرونا کی تیسری لہر کے دوران پشاور کے سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ گیا، پشاور کے سب سے بڑے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے کرونا کمپلیکس میں ہفتے کی رات آکسیجن کی سپلائی اچانک بند ہونے سے مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا۔

(تصویر: انیلا خالد)

پاکستان میں کرونا (کورونا) وبا کی تیسری لہر میں کمی کے بجائے بدستور اضافہ ہو رہا ہے اور اتوار کو سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں 5020 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔

کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کے باعث ملک کے چاروں صوبوں کے مختلف سرکاری ہسپتال دباؤ کا شکار ہیں جن میں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال بھی شامل ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا اور پشاور کے سب سے بڑے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے کرونا کمپلیکس میں ہفتے کی رات اچانک آکسیجن کی سپلائی بند ہونے سے مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا۔

گذشتہ رات ایل آر ایچ کے کرونا کمپلیکس وارڈ میں اچانک آکسیجن کی فراہمی معطل ہو گئی جس کی وجہ سے مختلف یونٹس میں موجود سات مریضوں کا آکسیجن لیول (سیچوریشن) درکار 95 فیصد سے نیچے گر گیا۔

تاہم طبی عملے نے بروقت مریضوں کو دوسرے ایمرجنسی وارڈز میں شفٹ کرتے ہوئے انہیں ’ایمبو بیگ‘ کے ذریعے مصنوعی سانس اور طبی امداد فراہم کی۔

گذشتہ رات کے واقعے کے بعد ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایل آر ایچ کی انتظامیہ پچھلے 24 گھنٹوں سے حالات کا قریب سے جائزہ لے رہی ہے اور آکسیجن کی سپلائی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

’یہ نارمل حالات نہیں، لیکن ہم پھر بھی کوشش کر رہے ہیں کہ تمام وسائل سے ان حالات پر قابو پائیں۔‘

ایل آر ایچ کی انتظامیہ نے کچھ ہی دن قبل دعویٰ کیا تھا کہ ہسپتال میں 500 بستروں پر مشتمل ایک پوری عمارت کو کرونا مریضوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس خصوصی عمارت کے علاوہ ہسپتال کے پرانے پلمونولوجی یونٹ کو بھی بحال کر دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں، حال ہی میں ہسپتال آنے والے معمول کے مریضوں کو خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کرتے ہوئے ایل آر ایچ کو ‘کرونا ہسپتال’ بنایا گیا ہے۔

تاہم ایل آر ایچ کے بعض ڈاکٹروں نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح نہ صرف میڈیکل افسران کی ٹریننگ متاثر ہو سکتی ہے بلکہ اس ’غیر منطقی‘ فیصلے سے مریضوں کا دونوں ہسپتالوں پر بوجھ بڑھے گا۔

اس مخالفت کے برعکس کرونا ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے نرس اور ٹیم لیڈر محمد سلمان نے بتایا کہ تیسری لہر کے بعد ہسپتالوں کے حالات پہلے جیسے نہیں۔

‘ہم کرونا ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی کرتے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ کتنا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ہسپتال میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو کرونا وارڈز کے حالات کیا معلوم؟‘

انہوں نے کہا کہ ’تیسری لہر سے نوجوان اور ضعیف سب متاثر ہو رہے ہیں۔ ہم اگر پورا ہسپتال بھی مختص کر دیں تو کم پڑ جائے گا۔’

صوبائی وزارت صحت نے یکم اپریل کو ایل آر ایچ کے نام جاری ایک مراسلے میں کہا تھا کہ میڈیکل اور سرجیکل عمارتوں میں 24 گھنٹے کے اندر نئے آئی سی یو(انٹینسیو کیئر یونٹ) اور ایچ ڈی یو (ہائی ڈیپینڈنسی یونٹ) قائم کیے جائیں۔

وزارت صحت کے سیکشن افسر کے جاری کردہ اعلامیے میں ہسپتال کے عملے کو واضح طور پر لکھا گیا کہ ان ‘نئے یونٹس کے قیام کے لیے تمام ضروری طبی آلات اور سامان کا اہتمام کیا جائے، جس کے لیے ہسپتال کے پاس پہلے سے کافی فنڈز موجود ہیں۔’

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبے میں کرونا وبا کے تناظر میں حکومت کا یہ اعلامیہ جاری کرنا ان اقدامات کی کڑی ہے جن کے مطابق ایم ٹی آئی ایکٹ کے بعد ہسپتال خود مختار ہیں اور وہ اپنے فیصلے خود کرنے کے مجاز ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں آکسیجن کی فراہمی اچانک منقطع ہونے کے ایک واقعے میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں چھ مریضوں کی موت جبکہ 200 سے زائد مریض آکسیجن کی کمی کا شکار ہوئے تھے۔ اس واقعے کی ذمہ داری ان یونٹس کے انتظامیہ پر ڈال دی گئی تھی۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق حکومتی احکامات کی روشنی میں پہلے سے موجود ایچ ڈی یو اور آئی سی یو میں 14 اور نو نئے بستروں اور ہسپتال میں 1800 بستر اور 68 وینٹس کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

ان میں سے 53 وینٹس اور 263 بستر کرونا کے مریضوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اس وقت 17وینٹس اور 218 بستر زیر استعمال ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان