لیڈی ریڈنگ ہسپتال: آئی ٹی ملازم کو ڈائریکٹر بنانے پر ڈاکٹروں کو تشویش

ہسپتال انتظامیہ کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق ہسپتال کے ڈائریکٹر طارق خان کے کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد 'اس وقت ہسپتال میں سب سے قابل اور اہل شخص بلال بشیر ہی ہیں۔'

(تصویر: لیڈی ریڈنگ ہسپتال ویب سائٹ)

خیبر پختونخوا کے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ کے بورڈ آف گورنرز نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے ایک ملازم کو قائم مقام ہسپتال ڈائریکٹر تعینات کردیا ہے، جس پر ڈاکٹروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس تعیناتی کو مسترد کردیا ہے۔

ڈاکٹروں کی تنظیم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا اور پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اس تعیناتی کے خلاف جاری کی گئی پریس ریلیز میں اسے 'اندھیر نگری' اور 'چوپٹ راج' قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں تمام انتظامی معاملات ایک کلرک کے سپرد کردیے گئے ہیں جو ہسپتال اور صوبے کے عوام کے ساتھ مذاق ہے۔'

پریس ریلیز کے مطابق: 'ہسپتال میں سینیئر ڈاکٹرز اور انتظامی افسران کے ہوتے ہوئے ایک کلرک کو ہسپتال ڈائریکٹر تعینات کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔'

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'ہسپتال میں تجربہ کار لوگوں کی موجودگی کے باوجود ایک ایسے شخص کو تعینات کرنا عوام کے ساتھ مذاق ہے، جو انتظامی امور کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں رکھتا۔'

انہوں نے بتایا کہ 'کرونا وائرس کی پہلے لہر کے دوران بھی نا تجربہ کار منیجرز کو کرونا وارڈز کی ذمہ داری دی گئی تھی جس کی وجہ سے ہسپتال میں حالات خراب ہوگئے تھے اور شرح اموات بھی بڑھ گئی تھیں اور اب دوسری لہر میں ایک کمپیوٹر آپریٹر کو ہسپتال کے انتظامی امور کا سربراہ بنا دیا گیا۔'

دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ نے اس تعیناتی کے حوالے سے موقف اختیار کیا ہے کہ ہسپتال کے ڈائریکٹر طارق خان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے  اور وہ گھر میں قرنطینہ میں ہیں جس کی وجہ سے آئی ٹی شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر بلال بشیر کو دو ہفتوں کے لیے ہسپتال ڈائریکٹر کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'بلال بشیر کا ہسپتال کے امور میں وسیع تجربہ ہے اور وہ کرونا کے مریضوں کے لیے ویڈیو لنک، بیرون ملک ڈاکٹروں کے ساتھ آئی سی یو کو لنک کرنے اور ٹیلی او پی ڈی میں اہم ترین کردار ادا کر رہے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا: 'کچھ لوگ نئے تعینات ہونے والے ہسپتال ڈائریکٹر کے ساتھ ذاتی بغض رکھتے ہیں اور خود اس عہدے پر تعینات ہونا چاہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اب وہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے ہسپتال قوانین کے مطابق ہسپتال ڈائریکٹر کے لیے تعلیمی قابلیت کی شرط ہسپتال منیجمنٹ، ہیلتھ منیجمنٹ، بزنس یا پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز ڈگری ہے۔ اسی طرح میڈیکل کی ڈگری لینے والے بھی اس عہدے کے لیے اہل ہیں، اگر ان کے پاس منیجمنٹ کی کوئی اضافی ڈگری ہو۔

جب ہسپتال ترجمان محمد عاصم سے پوچھا گیا کہ نئے تعینات ہونے والے ہسپتال ڈائریکٹر کے پاس کمپیوٹر کی ڈگری ہے تو کیا وہ اس عہدے کی اہلیت کی شرائط پر پورا اترتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ 'اس وقت ہسپتال میں سب سے قابل اور اہل شخص بلال بشیر ہی ہیں۔'

انہوں نے مزید بتایا: 'اس وقت ہم اس عہدے کے لیے اہلیت کی شرط نظر انداز کر سکتے ہیں لیکن سروسز کو نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ ہم اس ایمرجنسی کے حالات میں اگر کسی اہلیت کی شرط پر پورا اترنے والے کی تلاش میں نکلتے تو اس میں وقت لگتا  اور شاید ہمیں کوئی نہ ملتا، اس لیے ہم نے انہیں اضافی چارج دے دیا۔'

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمو ر سلیم جھگڑا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔

اس سے پہلے صوبائی آڈٹ رپورٹ میں بھی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بھرتیوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر طارق خان، جن کی جگہ اب بلال بشیر کو عارضی طور پر تعینات کیا گیا  ہے، کی بھرتی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق طارق خان اس عہدے کے لیے اہل نہیں تھے اور ان کے پاس اس عہدے کے لیے درکار تجربہ بھی نہیں تھا۔

آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیا کہ 'ہسپتال ڈائریکٹر طارق خان کو جنوری 2017 میں تعینات کیا گیا تھا جبکہ انہوں نے 2010 میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی ہے، لہذا 2017 تک ان کا  تجربہ سات سال نہیں بنتا جو اس عہدے کے لیے قانوناً ضروری ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان