نو سال بعد روس سے تعلقات میں گرمجوشی کے اشارے

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف پاکستان کے دو روزہ دورے پر آج (منگل) کو اسلام آباد ا ٓرہے ہیں۔ نو سال بعد روسی سفارتی قیادت کا پاکستان کا دورہ یقینی طور پر ایک اہم پیغام ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف پاکستان کے دو روزہ دورے پر آج (منگل) کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ نو سال بعد اعلی روسی سفارتی قیادت کا پاکستان کے دورے کو سفارتی مبصرین یقینی طور پر ایک اہم پیغام سمجھ رہے ہیں۔

افغانستان میں ماضی کے حریف لگتا ہے کہ اب جنگ سے تباہ حال اس ملک میں قیام امن کی کوششیں مل کر رہے ہیں۔ اس دورے میں روسی وزیر خارجہ کے ہمراہ  روس کے معاون خصوصی برائے افغانستان ضمیر کابلوف بھی ہوں گے جس سے یہ واضح ہے کہ دورے کا ایک اہم موضوع افغان امن عمل بھی ہو گا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سرگے لاوروف کے دورہ کے حوالے سے ویڈیو بیان میں کہا کہ پاکستان اور روس مل کر افغان امن عمل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

’روس کے وزیر خارجہ دہلی سے ہو کر آ رہے ہیں۔ روس بھارت کو افغانستان میں قیام امن کے لیے مثبت کردار ادا کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔‘

تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کہ بھارت کے افغانستان میں ’مثبت کردار‘ سے ان کی امید کیا ہے۔

رواں برس فروری میں بھی ضمیر کابلوف نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تھی۔ افغانستان میں امریکی جنگ کے اختتام اور افغان امن عمل کے حوالے سے حال ہی میں تبادلہ خیال کے لیے چار بڑی طاقتوں امریکہ، روس، چین اور پاکستان کے خصوصی مندوبین کا اجلاس ماسکو میں منعقد ہوا تھا۔

روسی وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کرنے سے قبل گذشتہ روز بھارت میں تھے اور وہاں سے روانگی سے قبل دہلی میں ایک اخباری کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ دہلی میں دو روزہ مصروفیات کے بعد وہ اسلام آباد پہنچیں گے۔ 

سفارتی حلقوں میں بھارت کے بعد پاکستان کا دورہ اہمیت کا حامل مانا جا رہا ہے۔

دورے کے دوران روسی وزیر خارجہ پاکستان میں اعلیٰ  قیادت اور اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس کے علاوہ وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوں گے۔

ان کی وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات ہوگی۔

روسی وزارت خارجہ کے مطابق وفود کی سطح پر ملاقات میں معاشی تعاون، دہشت گردی اور دوطرفہ دلچسپی کے امور پر بات چیت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کچھ تجارتی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کے بھی امکانات ہیں۔

پاکستان روس ملاقاتوں کا پس منظر؟

دسمبر 2018 میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ماسکو کا دورہ کیا تھا اور روسی ہم منصب سے ملاقات کی اور افغان امن عمل کے موضوع پر بات چیت کی تھی۔

جون 2019 میں بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن کے ساتھ نہ صرف ملاقات ہوئی تھی بلکہ تصاویر کھنچوانے سے لے کر کھانے کی میز تک دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محو گفتگو رہے تھے۔ مبصرین اسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیتے رہے۔

سال 2019 میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائن میں روسی وزیر خارجہ کی پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو آگے بڑھانے پر مشورت ہوئی۔ ستمبر 2020 میں ماسکو میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم میں بھی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تعلقات سفارتی ماہرین کی نظر میں

روسی وزیر خارجہ گذشتہ ماہ چین کا بھی دو روزہ دورہ کر چکے ہیں جبکہ 13 اپریل کو ایران کا بھی دورہ کریں گے۔ خطے کے اہم ممالک کے یہ دورے روسی خارجہ پالیسی میں ان ممالک کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

روسی سفارتی امور کے ماہر انڈریو کاریبکو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ روسی وزیر خارجہ کا دورہ افغان امن مذاکرات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان ازبکستان ریلوے رابطے پر بھی بات چیت کی جائے گی جسے سینٹرل یورشین کوریڈور کا نام دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس پاکستان، چین، بھارت اور ایران خطے کے لیے اہم ہیں اور یوریشیا پارٹنر شپ کا اہم سنگ میل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ افغانستان وسطی ایشیا کے لیے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس خطے کا ایک اہم کھلاڑی ہے۔ ’صدر پیوٹن کے دورے پاکستان کا انحصار اس بات پر ہے کہ وزیر خارجہ کا دورہ کتنا کامیاب رہتا ہے۔‘

اسلام آباد میں سفارتی امور کے ماہر صحافی شوکت پراچہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ روسی وزیرخارجہ کا دورہ پاکستان ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب موسمیاتی کانفرنس میں پاکستان کو مدعو نہ کرنے پر امریکہ پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ’شاید پاکستان اس دورے سے امریکہ کے ساتھ دوری کا ایک پیغام دے رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بذات خود ائیر پورٹ پر سرگی لاوروف کا استقبال کرنے جائیں گے تو پاکستان کی طرف سے بھی یہ ایک پیغام ہوگا کیونکہ امریکی وزیرخارجہ  مائیک پومپییو کے آخری دورہ  پاکستان پر شاہ محمود قریشی کی بجائے اعلی سفارتی حکام نے ان کا استقبال کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون کونسل کی مشترکہ فوجی مشقوں پر پاک روس دفاعی حکام قریب آ رہے ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ معاشی تعاون بھی بڑھے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کہ روس اس خطے کا انتہائی اہم ملک ہے۔

’یہ دورہ اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ روس کے ساتھ ہمارے دو طرفہ تعلقات ایک نیا رخ اختیار کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ خطے میں تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے معاشی اور دفاعی تعلقات کیسے آگے بڑھ رہے ہیں۔ نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے کو ہم دونوں  آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے یاد دلایا کہ جب پاکستان میں آٹے کا بحران پیدا ہوا تو روس نے انہیں بروقت گندم فراہم کی تاکہ ہماری قیمتیں مستحکم رہیں۔ ’اسٹیل مل انہوں نے لگائی تھی اگر اس کی بحالی کے لیے سرمایہ کاری کی صورت نکل آئے یا کوئی اور سرمایہ کاری کی سبیل نکلتی ہے تو دو طرفہ تعاون بڑھانے کے اچھے مواقع ہمیں میسر آ سکتے ہیں۔‘ 

اس سے قبل اکتوبر 2012 میں اس وقت روس کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا جبکہ دونوں ممالک کے مابین ملٹری ٹو ملٹری تعلقات کا سلسلہ بھی 2012 سے شروع ہوا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان