ہار جیت کا دلچسپ کھیل

بیماری سے صحت یاب کپتان تازہ دم ہو لیں کہ آئندہ ہفتے سے ایک نئی اور مشکل ریس کا آغاز ہونے والا ہے۔

(اے ایف پی )

جس وقت آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے، ڈسکہ میں ایک بار پھر ضمنی الیکشن شروع ہو چکا ہوگا یا اپنے کلائمکس پر ہوگا یا اگر یہ کالم آپ تاخیر سے پڑھیں گے تو اُمید ہے کہ اِس بار ڈسکہ کا ضمنی الیکشن کم از کم مکمل ہو کر کسی ایک اُمیدوار کی جیت ہار کا فیصلہ دے چکا ہوگا۔

اب تک جو زمینی آثار اور اشاریے نظر آتے ہیں وہ اِس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ ن لیگ تاحال مضبوط پوزیشن میں موجود ہے۔ گذشتہ ہنگامہ آرائی اور بدنظمی کا سیاسی فائدہ پاکستان مسلم لیگ ن کے حق میں گیا ہے اور قوی امکانات ہیں کہ سیٹ اسی جماعت کے ہاتھ میں رہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف اگر کسی صورت ڈسکہ سیٹ جیت لیتی ہے تو بڑا اَپ سیٹ تو ہوگا ہی لیکن پھر دھاندلی کے الزامات اور خان مخالف ایک نئی لہر کا اپوزیشن کی طرف سے آغاز ہو جائے گا۔ سیاست کا اصل اور دلچسپ مقابلہ آئندہ ہفتے سے آغاز کرے گا۔

رواں سنیچر ڈسکہ کا ضمنی الیکشن، اتوار کو پاکستان پیپلز پارٹی کا مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس اور آئندہ کئی ہفتوں کی سیاست انہی دو واقعات کے گرد گھوما کرے گی۔

سنیچر کا دن جہاں عمران خان کی عوامی مقبولیت کا ایک اور امتحان ہوگا وہیں اتوار اپوزیشن کے مستقبل کے لیے روزِ جزا یا سزا کا درجہ اختیار کرے گا۔

یہ تو واضح ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے حالات و واقعات کو لے کر اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا مستقبل کچھ زیادہ روشن تو نہیں لیکن آئندہ ہفتے سے کم از کم اس لولے لنگڑے اتحاد کی ٹیڑھی میڑھی ہی سہی مگر سمت نظر آنا شروع ہو جائے گی کہ اپوزیشن جماعتوں نے اب آگے کرنا کیا ہے، مل کر چلنا ہے یا انفرادی سیاست اور اپوزیشن کرنی ہے۔
پیپلز پارٹی کے اندر شوکاز نوٹس اور ن لیگی بیانات کو لے کر شدید خفگی تو پائی جاتی ہے اور اتوار کے اجلاس میں توقع رکھی جا سکتی ہے کہ پی پی اس پر شدید ردعمل دے اور میڈیا پر فائر ورکس کا منتظر رہا جا سکتا ہے۔
پی پی نہ صرف شوکاز نوٹس کو یکسر مسترد کر دے گی بلکہ یوسف رضا گیلانی کے اپوزیشن لیڈر (سینیٹ) انتخاب پر مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمٰن کے تحفظات کی بھی واضح انداز میں نفی کرتے ہوئے کسی حد تک دلیل سے رام کرنے کی کوشش کرے گی۔
نہ صرف یہ بلکہ جماعت اپنے موقف کہ پارلیمان کے اندر رہ کر حکومت کو کمزور کریں، پر بھی متفقہ حمایت لے کر ’انتظار فرمایے‘ کی بے یقینی کو یکسر ختم کرنا چاہے گی۔ پی ڈی ایم کے ٹوٹنے کا ملبہ بہرحال پیپلز پارٹی کسی صورت اٹھانا چاہتی ہے اور نہ اٹھائے گی۔

لہٰذا اس صورت حال میں توقع رکھی جا سکتی ہے کہ سی ای سی اجلاس کے اندر سے ’ذرائع‘ کی صورت کچھ ایسی باتیں اور بیانات ’لیک‘ ہو جائیں جن کا ٹارگٹ دوسری جماعت ہو اور پی پی اپنے طور پر اپنے ضمیر سے مطمئن ہو۔

پیپلز پارٹی بہرحال جو بھی فیصلہ کرتی ہے اور اس کا جو بھی اعلان ہو، اس کے بعد بال ن لیگ اور مولانا کے کورٹ میں ہوگی۔

لیکن اس کا انحصار اس حقیقت پر بھی ہوگا کہ استعفے نہ دینے کی صورت میں پی پی دیگر کیا قابلِ عمل، قابلِ قبول اور حقیقت سے قریب تر آپشنز پی ڈی ایم کی باقی ماندہ جماعتوں کے سامنے رکھتی ہے۔

اب تک تو پیپلز پارٹی اس بات پر اصرار کر رہی ہے اور وہ بھی دعوے کے ساتھ کہ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کامیاب کروانے کے لیے نمبرز موجود ہیں۔

مولانا اور نواز شریف کو نہ صرف نمبرز کے پورا ہونے پر یقین نہیں بلکہ اس بات پر بھی اعتماد نہیں کہ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں کیا ہاؤس کے اندر سے ہی نیا وزیراعظم آئے گا یا نیا الیکشن ہوگا۔

جو ذرائع بتاتے ہیں کہ اگلی باری آصف زرداری کو ملنے کی اڑتی اڑتی خبریں ہیں وہی سُن گُن نواز شریف اور مریم نواز کے کانوں تک بھی بہت پہلے ہی پہنچ چکی ہے۔

اسی لیے نواز شریف ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس کا فائدہ حریف پیپلز پارٹی کو ہو، خاص طور پر یوسف رضا گیلانی والے معاملے پر ’دھوکہ‘ کھانے کے بعد تو اب ن لیگ چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پینے کو ترجیح دے رہی ہے۔

مولانا البتہ نہایت خاموشی اور معنی خیزی سے ساری صورتِ حال کا دور رہ کر جائزہ لے رہے ہیں۔

ن لیگ کی طرف سے پی پی کے لیے حالیہ تیر اندازی روکنے کے لیے بھی مولانا نے کوئی کردار ادا نہیں کیا جس سے ایک تاثر تو یہی ملتا ہے کہ اسے مولانا کی خاموش تائید حاصل تھی۔

11 اپریل کے بعد بہرحال مولانا ایک بار پھر کھل کر سامنے آئیں گے اور سیاسی منظرنامے پر چھائی دھند چھٹنے میں دوبارہ سے فعال کردار ادا کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ڈی ایم کے خاتمے کا باضابطہ اعلان تو بہرحال کبھی نہ کیا جائے گا مگر اب ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ساتھ چلنا تو ممکن نہیں رہا۔

ایک بار جو بال دِل میں آ جائے تو پھر نکالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے اور یہاں تو معاملہ بھی دو حلیفوں کا نہیں بلکہ نسلی حریفوں کے مابین ہے۔

سو آئندہ ہفتے سے اپوزیشن اکٹھی نہ سہی مگر جدا جدا ہی ایک بار پھر سے سیاست کے ریسنگ ٹریک پر نظر آئے گی۔ البتہ مقابلہ اِس بار صرف ایک عمران خان سے ہی نہیں بلکہ اپوزیشن جماعت کے مابین بھی ہوگا۔

ٹریک سے عمران خان کو باہر کرنے کی ریس تو سبھی کے درمیان یکساں ہوگی لیکن کون نمبر ٹو، نمبر وَن کی کیٹگری میں آئے گا، اس کے لیے جماعتوں کی سیاسی بارگین بھی ساتھ ساتھ جاری رہے گی۔

اور جونہی کسی ایک کو ہری جھنڈی ملی، ہار جیت کا یہ دلچسپ کھیل ایک ہی جھٹکے میں اختتام کو پہنچے گا۔

سو بیماری سے صحت یاب کپتان تازہ دم ہو لیں کہ آئندہ ہفتے سے ایک نئی اور مشکل ریس کا آغاز ہونے والا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ