میڈیا چور کو چور نہیں کہے گا تو احتساب خواب رہے گا: مریم نواز

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اپنی جان مشکل میں ڈال کر سارے سنگین نتائج برداشت کیے ہیں، جب تک میڈیا چور کو چور نہیں کہے گا تب تک پاکستان میں احتساب خواب رہے گا۔‘

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اپنی جان مشکل میں ڈال کر سارے سنگین نتائج برداشت کیے ہیں، جب تک میڈیا چور کو چور نہیں کہے گا تب تک پاکستان میں احتساب خواب رہے گا۔‘

مریم نواز نے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں موجودہ وزیراعظم کے دفتر میں اس قسم کے گھناؤنے جرائم اور سازشوں کا انکشاف پہلے کبھی نہیں ہوا۔ جسٹس شوکت عزیز کی گواہی آن ریکارڈ ہے، بشیر میمن کی گواہی بھی آ گئی ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’یہ بہت بڑا اور سنجیدہ معاملہ ہے، ہم اسے نہیں چھوڑیں گے، مسلم لیگ اس کیس کو آخر تک لے کر جائے گی۔ اس کیس میں پچھلے پانچ سال کی پوری سازش پنہاں ہے۔‘

مریم نواز کا اشارہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کی طرف تھا جنہوں نے گذشتہ رات ایک نجی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان، ان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور وزیرِ قانون فروغ نسیم نے ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس شروع کریں۔ 

فروغ نسیم اور شہزاد اکبر دونوں نے ٹوئٹر پر بشیر میمن کے بیان کی تردید کرتے ہوئے اسے بےبنیاد الزام قرار دیا ہے۔ 

مریم نواز نے مزید کہا، ’قاضی فائز عیسیٰ انشااللہ چیف جسٹس بنیں گے۔ ان کے خلاف سازش کی گئی، ان کا کیریئر تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔‘ 

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اگر استعفوں میں شامل ہو جاتی تو اب تک یہ حکومت جا چکی ہوتی۔ اگر مسلم لیگ ن اور باقی اپوزیشن استعفے دے اور پیپلز پارٹی نہ دے تو وہ نتائج نہیں آئیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج کی سماعت کا احوال

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بدھ کو ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

عدالت میں نیب حکام تھوڑا تاخیر سے پیش ہوئے جس پر جسٹس عامر فاروق نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا نیب کو بھی کرونا ہو گیا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ وہ حال ہی میں کرونا سے صحت یاب ہوئے ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا آپ مکمل صحت یاب ہو جائیں پھر مکمل تیاری کے ساتھ آئیں۔

مریم نواز 10 بج کر 50 منٹ پر کمرہ عدالت میں موجود تھیں اور عدالت کے روم نمبر دو میں تمام نشستیں بھری ہوئی تھیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف العزیزیہ ریفرنس میں اشتہاری ہو چکے ہیں اب عدالتی معاونت کون کرے؟

ان کا کہنا تھا کہ نیب اور نواز شریف کے وکیل عدالت کی معاونت کریں یا بتائیں کہ نمائندہ کسے مقرر کیا جائے، کیا خواجہ حارث کو نمائندہ مقرر کیا جا سکتا ہے؟

عدالت نے مزید کہا کہ کرونا کی وجہ سے صورت حال خراب ہے، عدالت میں زیادہ بھیڑ نہ کریں، کرونا کے باعث مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر درخواست دے دیں انہیں حاضری سے استثنیٰ دے دیں گے جبکہ 10 منٹ کی سماعت میں نیب نے نواز شریف کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا بھی دی۔

عدالت نے عدالتی معاون کی تقرری کے لیے وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ تک کے لیے ملتوی کر دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان