دبئی سے نیویارک: مستقبل میں بڑے شہروں کی کیا صورت ہو گی؟

تعمیرات اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین طویل مدتی وژن کے معاملے میں زیادہ تخلیقی ہوتے جا رہے ہیں۔

دبئی مستقبل میں سرسبز ہونے والا ہے (پکسا بے)

گذشتہ دنوں دبئی نے اپنے اربن ماسٹر پلان 2040 کی نقاب کشائی کی۔ ہمیں کیا توقع کرنی چاہیے؟ اونچے برج جن کی آخری منزل تک پہنچنے کے لیے آپ کو جیٹ انجن والی لفٹ کی ضرورت پڑے گی؟

ٹوئٹر لوگو کی طرز پر (یقیناً سپانسرڈ) انسانی ساختہ جزائر؟ نو ستارہ ہوٹل اور دیو قامت انسٹا گرام سکرینیں جن پر خلا سے بااثر کاروباری شخصیات کی چمک دمک دیکھی جا سکتی ہو؟

دراصل ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں۔ ایک ایسا منصوبہ جسے ’پائیداری،‘ ’تنوع‘ اور ’جامعیت‘ جیسے الفاظ سے گہری دلچسپی ہے اور ’پٹرو ڈالرز،‘ ’نمائشی زیورات‘ اور ’مہاجر مزدوروں‘ جیسی اصطلاحات سے کوئی علاقہ نہیں۔

اس منصوبہ کی پیشکش سے لگتا ہے یہ سنگاپور اور ایڈن پروجیکٹ کے درمیان کی چیز ہے۔ ایسا لگتا ہے گلف کے تجارتی مرکز میں چند دہائیوں بعد آپ کو صحرا کی جھلک تک مشکل سے نظر آئے گی۔ ( چلیں دوسروں کی خوشیاں غارت نہیں کرتے اور نہیں پوچھتے کہ اتنی ہریالی کے لیے پانی کہاں سے آنا ہے؟)۔

ماسٹر پلان نے میری توجہ اس جائزے کی طرف مبذول کرائی کہ اگر تعمیرات کے ماہروں، منصوبہ سازوں اور کمپیوٹر ایفیکٹس (سی جی آئی) کے کارگزاروں کے خواب سچ ثابت ہوئے تو ہمارے بڑے شہر کیسے نظر آئیں گے۔

اچھا، بنیادی طور پر اس کا جواب یہی ہے کہ سنگاپور اور ایڈن پروجیکٹ کے درمیان کی کوئی چیز۔ دنیا کے شہری علاقے بڑے گنبدوں کے بغیر وسیع حیاتیاتی خطوں میں بدلتے جا رہے ہیں۔

اگر آپ مستقبل دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ کورنوال Cornwall یا ایشیا کی شاندار شہری ریاستوں سے آگے کی چیز ہو گا۔ سنگاپور پہلے ہی بھرپور طریقے سے ’باغ کے اندر شہر‘ بننے کے راستے پر گامزن ہے۔

اٹلی کے شہر میلان کا مستقبل بھی آپ دیکھیں گے جہاں باسکو ورٹیکل  Bosco Verticale کی تعمیر مستقبل میں شہر کو تنومند پودوں کے شہر میں بدلنے کا اشارہ کرتی ہے اور ٹوکیو، جہاں پہلے ہی دفتروں کی چھتیں سرسبز رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

شہروں کا مستقبل ان تصوراتی فلموں جیسا لگتا ہے جن میں عظیم گنجان آباد شہر اچانک دوبارہ جنگل میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ہو بہو ایسا ہونے کے لیے بس ایسے جینیاتی محقیقین کی ضرورت ہے جو دوبارہ اڑنے والے جانور متعارف کروا سکیں۔

لیکن اس کے لیے اتنا پانی کہاں سے آئے گا؟ اچھا، سمندروں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ شہروں کے مستقبل کے متعلق ایک دوسرا زیادہ مایوس کن پہلو یہ ہے کہ یہ ’پلانیٹ آف ایپس‘ کم اور ’واٹر ورلڈ‘ زیادہ ہے۔

منصوبہ سازوں کے اندازے کے مطابق سمندروں کی بلند ہوتی سطح کو روکنے میں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے اس لیے شاید ہمیں بھی اپنی پرانی جیکٹ کی آستین چڑھا کر واٹر ورلڈ کے ہیرو کیون کوسٹنر کی طرح اپنے بال گیلے کرنے اور پوری دنیا کو بطور وینس شہر قبول کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

مستقبل کو بالکل مختلف انداز میں خوش آمدید کہنے والے نمایاں ترین شہر یہ ہیں۔

دبئی

چھتوں پر باغات، کھجور کے درخت، کھیت، سر سبز اتنے کہ جتنا کوئی آنکھ دیکھ سکتی ہے اور سب لوگ جدید طرز کی چند منزلہ چھوٹی عمارتوں کی آخری منزل میں رہتے نظر آئیں گے۔

سی جی آئی کے تخلیق کاروں نے ممکن ہے اپنے تخیل کو ذرا زیادہ چھوٹ دی ہو لیکن متحدہ عرب امارات کے حکمران اپنے گرم چٹیل شہر کے 60 فیصد حصے کو مضافاتی طرز کی تفریح گاہوں میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

بینکاک

دلدل پر تعمیر شدہ اور پچھلی جانب سے نشیبی علاقہ، یہ ہے تھائی لینڈ کا دارالحکومت۔ اسے مقامی تعمیراتی کمپنی S+PBA نے بطور Wetropolis ڈیزائن کیا ہے جس کا یقیناً اس میں اپنا بھی فائدہ ہے۔

آڑھی ترچھی باہم منسلک گزر گاہیں، سڑکیں اور گھر ایسے تیر رہے ہوں گے جیسے وسیع کیکڑے کے فارموں اور مینگرو باغات کے اوپر ڈی این اے ریشوں کی صورت میں تیر رہے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے میں ’ہوں گے‘ کے الفاظ لاپروائی سے برت رہا ہوں۔

جکارتہ

بینکاک ڈوب رہا ہے لیکن جکارتہ اس سے زیادہ تیزی سے ڈوب رہا ہے، انڈونیشیا کے دارالحکومت کا 40 فیصد پہلے ہی سطح سمندر سے نیچے ہے۔ حل: ایک نیا دارالحکومت تعمیر کر دو۔ بورنیو کے جزیرے پر ’نگارا رمبا نوسا‘ (یعنی پہاڑی پر اگا جنگل) نامی شہر کی تعمیر کے لیے فن تعمیرات کے ماہر اور شہروں کے نقشے تیار کرنے والے سٹوڈیو اربن نے مقابلہ جیتا۔

بس اس کو کمبوڈیا کے مشہور کھنڈرات انگکور واٹ اور برازیل کے منصوبہ بند شہر برازیلیا کا امتزاج سمجھیے۔

نیویارک

نیویارک بھی درخت لگانے میں سرگرم ہے اور اس کا ’ہائی لائن‘ نامی منصوبہ رجحان ساز ثابت ہوا ہے کہ کیسے ایک صنعتی شہر کو ہرابھرا بنایا جا سکتا ہے۔

لندن میں گارڈن بریج منصوبہ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد ٹامس ہیدروک کمپنی جنوبی مین ہیٹن سے دور باغوں کا جزیرہ تیار کر رہی ہے۔

لیکن نیویارک شہر کے مستقبل پر نظریں رکھنے والے افراد کے لیے سطح سمندر کی بلندی کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

2016 میں نیویارک میگزین کے ایک سنجیدہ مضمون میں میٹ پیکنگ ڈسٹرکٹ کی معمولی عمارات کمر تک نہری پانی میں ڈوبی دکھائی گئیں تھیں۔ یہ منظر وینس کی طرح شاندار ہے (اگر آپ بیسویں منزل سے نیچے نہیں رہتے)۔

میلبرن

یہاں کوئی شوخ و شنگ خیالی ڈیزائن نہیں، بس 2043 تک اس وکٹورین دارالحکومت میں درختوں کی مقدار کو دگنا کرتے ہوئے 40 فیصد تک بڑھانے کے لیے غور و خوض اور اخراجات کی ٹھوس منصوبہ بندی۔

شہروں میں درختوں کے لیے یہ شاندار وقت بننے جا رہا ہے۔ کوریا کے شہر سیول نے دوہزار جھنڈ اور باغات لگائے جبکہ میلان 2030 تک 30 لاکھ درختوں کا منصوبہ رکھتا ہے۔

پیرس

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرانس کا دارالحکومت گرمیوں میں تپش اور آلودگی سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ سرسبز بنانے اور گلیوں کا درجہ حرارت کم رکھنے کے حالیہ منصوبہ سے اس وقت بدحال مشہور شاہراہ شانزا لیزے اپنے نام جیسی ہو جائے گی اور شہر کی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گی۔

کم سے کم مئیر این ہڈالگو کا نقطہ نظر آگسٹائن کے تصور شہر جیسا ہے۔ آپ ماہر تعمیرات ونسنٹ کالیبو کے پیرس کو سمارٹ سٹی بنانے کے 2050 وژن کے بارے میں ایسا نہیں کہہ سکتے۔

ان کے نظریے کے مطابق ’سمارٹ‘ کا مطلب ہے آئیفل ٹاور کے گرد دیو قامت اخروٹ کے درختوں کا جنگل جو سکیلیکسٹرک ٹریکس Scalextric tracks سے منسلک ہو۔

برمنگھم

اکٹوپیا 2021  منصوبہ بہت اعتماد کے ساتھ، اور میرا خیال ہے 2121 کے شہروں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مکمل مختلف ہئیت کے ساتھ مکمل ہونے جا رہا ہے۔

ان کا پسندیدہ راستہ ماضی کی طرف پلٹنا ہے۔ سو برمنگھم میں شیکسپئیر کا آرڈن کا جنگل اپنی سابقہ شان و شوکت کے ساتھ لوٹ آیا ہے اور شمسی توانائی سے چلنے والی دیو قامت پون چکیوں کے نیچے بھیڑوں کی چراگاہوں میں سے برقی منی کوپر گاڑیاں گزرتی ہیں۔

لگتا ہے وہ جگہ جہاں جے آر آر ٹولکیئن پلے بڑھے تھے، وہاں ’دا شائر‘ بننے جا رہا ہے۔ شاید۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات