ابراہیم رئیسی ایرانی صدر منتخب، وزیراعظم عمران خان کی مبارک باد

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق رئیسی نے 62 فیصد ووٹ لے کر صدارتی منصب اپنے نام کیا ہے۔

نو منتخب ایرانی صدر  ابراہیم رئیسی ( فوٹو: اے ایف  پی)

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے 13 ویں صدارتی انتخابات میں ’تاریخی فتح‘ حاصل کرنے پر ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی کو مبارکباد پیش کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا: ’اسلامی جمہوریہ ایران کے 13 ویں صدارتی انتخابات میں برادر ابراہیم رئیسی کو شاندار کامیابی پر مبارکباد۔‘

عمران خان کا مزید کہنا تھا: ’میں  دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔‘

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری کیے گئے اعلان کے مطابق جمعے کے روز ہونے والی پولنگ کے نتیجے میں ابراہیم ریئسی نے 62 فیصد ووٹ لے کر صدارتی منصب اپنے نام کیا ہے۔ انہوں نے کل ایک کروڑ 78 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔

ایران میں صدارتی انتخاب کے لیے پانچ کروڑ 90 لاکھ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے جبکہ جمعے کو ہونے والی پولنگ میں دو کروڑ 80 لاکھ افراد نے ووٹ ڈالے۔

سرکاری نتائج کے اعلان سے پہلے ہی رجعت پسند امیدوار ابراہیم رئیسی کو ’کامیابی‘ پر مبارک باد کے پیغامات ملنے لگے تھے۔

سبکدوش ہونے والے صدر حسن روحانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’میں عوام کو ان کی پسند پر مبارکباد دیتا ہوں۔‘

روحانی ملکی آئین کے تحت دو بار مسلسل صدارتی مدت پوری کرنے کے بعد ان انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں تھے۔ 

حسن روحانی نے مزید کہا کہ ’سرکاری سطح پر میری مبارک باد بعد میں آئے گی لیکن ہم جانتے ہیں کہ انتخاب میں کس نے زیادہ ووٹ لیے اور آج لوگوں نے کس کو منتخب کیا۔‘

اس کے بر عکس دو دیگر رجعت پسند امیدواروں محسن رضایی اور امیر حسین غازی زادہ ہاشمی نے رئیسی کو واضح انداز میں مبارک باد دی۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق غازی زادہ ہاشمی نے کہا: ’میں قوم کی جانب سے منتخب کرنے پر رئیسی کو مبارک باد دیتا ہوں۔‘

رضایی نے اپنی ٹویٹ میں امید ظاہر کی کہ ’رئیسی ملکی مسائل حل کرنے کے لیے مضبوط اور مقبول حکومت بنا سکیں گے۔‘

واضح رہے کہ ایرانی صدارتی الیکشن میں واحد اصلاح پسند امیدوارعبدالناصر ہمتی تھے۔ انہوں نے بھی اپنی ٹویٹ میں ریئسی کو مبارک باد دی ہے۔

60 سالہ رئیسی ایک ایسے نازک وقت میں اقتدار سنبھالیں گے جب ایران بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے مذاکرات میں مصروف ہے، جو خود کو امریکہ کی پابندیوں سے آزاد کرانا چاہتا ہے تاکہ ملک کی ابتر معاشی صورت حال کو بہتر بنایا جا سکے۔

سیاہ پگڑی پہنننے والے ابراہیم رئیسی کو 81 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی طور پر دیکھا جاتا ہے۔

’انتخابات محض ڈھونگ ہیں‘

50 فیصد یا اس سے کم ٹرن آؤٹ کے خدشے کے باعث جمعے کی شب ووٹنگ کے دورانیے میں دو گھنٹے تک توسیع کی گئی تھی۔

جمعے کی پولنگ میں زیادہ تر ووٹرز اس لیے دور رہے کیوں کہ صدارتی انتخابات کے لیے 40 خواتین سمیت 600 امیدواروں میں سے محض سات حتمی امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ مسترد ہونے والے امیدواروں میں ایک سابق صدر اور ایرانی پارلیمان کے سابق سپیکر بھی شامل تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق صدر محمود احمدی نژاد، جنہیں علما اور فقیہ کی ’گارڈین کونسل‘ نے انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا تھا، نے ایک ویڈیو پیغام میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس گناہ میں حصہ نہیں لینا چاہتا، اس لیے میں ووٹ نہیں ڈالوں گا۔‘

انتخاب کے دن کی کوریج کے دوران مقامی ٹی وی زیادہ تر ایرانی پرچم لہراتے ہوئے ووٹروں کی تصاویر دکھاتے رہے لیکن اعتدال پسند رہنماؤں کو انتخابات سے دور رکھنے پر ناراض اور پولنگ کا بائیکاٹ کرنے والے عوام کا کہنا تھا کہ انتخابی ڈھونگ ملک پر قدامت پسندوں کا غلبہ مستحکم کرنے کے لیے رچایا جا رہا ہے۔

تہران کے دکاندار سعید زاری نے طنز کرتے ہوئے کہا: ’میں ووٹ دوں یا نہ دوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ انہیں تو پہلے ہی منتخب کیا چکا ہے۔ یہ صرف میڈیا کو دکھانے کے لیے انتخابات کا ڈھونگ کرتے ہیں۔‘

مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے بھی انتخابی جوش و جذبے کو مزید کم کر دیا تھا، جبکہ کووڈ 19 کے باعث ہونے والی 80 ہزار اموات سے عوام بے دل ہو چکے تھے۔

دوسری جانب سکولوں، مساجد اور کمیونٹی سینٹرز میں ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں لگے قدامت پسند امیدوار کے بہت سے حامی افراد نے کہا کہ انہوں نے رئیسی کو اس لیے ووٹ دیا ہے کیوں کہ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف جنگ، غریبوں کی مدد اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے لاکھوں فلیٹ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

ساہی بیان نامی نرس نے کہا کہ ’میں نے اپنا ووٹ رئیسی کو اس لیے دیا ہے کیوں کہ وہ بدعنوانی کے خلاف جنگ کرکے ملک کو آگے بڑھائیں گے اور لوگوں کو معاشی، ثقافتی اور معاشرتی محرومی سے بچائیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا