ایک پاکستانی پناہ گزین کی سوئٹزرلینڈ میں مشہور شیف بننے کی کہانی

سیف خان کو کبھی بھی کھانا پکانے میں دلچسپی نہیں تھی اور پاکستان میں کبھی وہ باورچی خانے میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے۔

اس تصویر میں شیف سیف خان اپنے ریستوران سیلوا میں کام کر رہے ہیں (تصویر :شیف سیف خان)

پاکستان چھوڑنے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے سیف خان کو وہاں مقیم ہوئے 20 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔

32 سال کی عمر میں جب سیف اس یورپی ملک پہنچے تھے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ یہاں اپنا گزر بسر کیسے کریں گے لیکن ان کے غیر متزلزل عزم اور خود پر پختہ یقین کی طاقت سے اب ان کا شمار سوئٹزرلینڈ کے کلیدی شیف (باورچی) کے طور پر ہوتا ہے۔

وسطی پنجاب کے شہر منڈی بہاء الدین سے تعلق رکھنے والے سیف خان نے سوئٹزرلینڈ آمد کے فوری بعد یہاں روزگار کے مواقع تلاش کرنے سے پہلے فری کورسز میں شمولیت اختیار کی تاکہ وہ جرمن زبان میں مہارت حاصل کرسکیں۔

انہوں نے عرب نیوز کو فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا: ’بالآخر میں نے ڈش واشر (برتن دھونے والے) کی حیثیت سے نوکری تلاش کرلی اور تقریباً ایک سال تک یہی کام جاری رکھا، لیکن اس دوران میں اپنے آپ سے کہتا تھا کہ یہ وہ زندگی نہیں ہے جو میں چاہتا تھا۔‘

ملازمت اور زبان سیکھنے کے دوران سیف نے ایک ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں تین سالہ فوڈ ٹریننگ انٹرن شپ پروگرام کے لیے درخواست دی جو قبول کرلی گئی اور پھر وہ ’سوئس میگرو چر کلب سکول‘ سے فارغ التحصیل ہوگئے۔

تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد سیف نے بہت سارے ریستورانوں میں کام کیا اور اس شعبے میں اپنا سفر جاری رکھا، یہاں تک کہ اپنی مرضی کے مطابق خود کو ایک معروف شیف کے طور منوا لیا۔

سیف خان نے اس حوالے سے بتایا: ’مجھے کبھی بھی کھانا پکانے میں دلچسپی نہیں تھی اور پاکستان میں کبھی میں باورچی خانے میں داخل بھی نہیں ہوا تھا لیکن میں نے یہ راستہ اس لیے اختیار کیا کیونکہ یہی وہ کام تھا جو میں کرسکتا تھا اور میں اسے اچھی طرح کرنا چاہتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’2011 میں سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد میں نے جہاں بھی کام کیا وہاں مقابلوں میں حصہ لیا، میں ہمیشہ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا تھا۔ میں نے جو کچھ سیکھا اس کا عملی مظاہرہ کیا اور پکوانوں کی نئی نئی تراکیب تیار کیں۔ مجھے پیسہ کمانے کی بجائے زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی خواہش تھی۔‘

2018 میں قرض حاصل کرنے کے بعد سیف نے اپنا ایک اعلی درجے کا ’سیلوا‘ نامی ریستوران کھولا جہاں انہوں نے مکمل سوئس ٹیم کو بھرتی کیا اور خود ایگزیکٹو شیف کی حیثیت سے خدمات انجام دینے لگے۔

یہ ایک ایسے شخص کے سنسنی خیز سفر کا نتیجہ تھا، جس کا آغاز ایک پناہ گزین کی حیثیت سے ہوا اور جسے اجنبی سرزمین پر پہنچنے کے بعد یہ تک معلوم نہیں تھا کہ زندگی اسے کہاں لے جارہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیف نے عرب نیوز کو بتایا کہ انہیں سوئس حکومت اور عوام کی جانب سے ناقابل یقین حد تک پذیرائی ملی ہے۔

’یہ لوگ بہت ہی مہربان اور تعاون کرنے والے ہیں، جنہوں نے مجھے ہمیشہ مواقع فراہم کیے اور جب میں مواقع کہتا ہوں تو میں نقد رقم کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہوتا۔ یہ لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ اگر آپ کام کرنا چاہتے ہیں، آپ ترقی کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی زندگی کو خوشحال بنانے میں مدد کریں گے۔‘

سیف خان نے بتایا کہ وہ اور ان کا عملہ ہر کھانے کے بعد صارفین سے ان کی رائے پوچھتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہم ان کے پاس جاتے ہیں اور اپنے مہمانوں سے مل کر ان کی رائے معلوم کرتے ہیں۔ اس سے ہمیں ان سے رابطہ قائم کرنے اور نئی تراکیب تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ ایسی چیز نہیں ہے جو آپ ہر شعبے میں کرسکتے ہیں۔ اس سے مجھے بہت اطمینان ملتا ہے۔‘

اگرچہ سیف نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے پاکستان کیوں چھوڑا لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ اب ہر سال ایک مرتبہ اپنے اہل خانہ سے ملنے پاکستان آتے ہیں اور وہ اپنی واپسی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے دورے کے دوران اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی دال شوق سے کھاتے ہیں۔

سیف نے کہا: ’میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ میری والدہ بہترین دال بناتی ہیں۔ ان دنوں یہ ایک تیزی سے مقبول ہونے والی پروٹین ڈش ہے اور میں خود بہت سے پکوانوں میں اس کے اجزا کو شامل کرتا ہوں جو میری کھانے کی تراکیب کو گھر جیسا مزہ دیتی ہیں۔‘

اگرچہ سیف خان ایک سال میں دو بار پاکستان آتے ہیں لیکن وہ یہاں پاکستانی کھانوں میں سرمایہ کاری یا یہاں کوئی ریستوران کھولنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ دوسرے پاکستانیوں کے لیے بھی کوئی پیغام دیں گے، جو کسی اور ملک جاکر کام کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ’پاکستانی بہت ذہین ہوتے ہیں۔ وہ جہاں بھی جائیں انہیں صرف اپنے پسند کے شعبے میں سخت محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خواہ وہ یورپ میں ہوں یا کہیں اور سخت محنت کا بدلہ ضرور ملتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی