’ مردوں کے لیے خود کشی کے بارے میں بات کرنا بھی مشکل ہے ‘

اینڈیز مین کلب  برطانیہ میں مردوں میں بڑھتے ہوئے خود کشی کے رجحان کو روکنے کے لیے انہیں بات چیت کے لیے محفوظ ماحول مہیا کرتا ہے۔

فوٹو، اے پی

 اینڈیز مین کلب کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ آپ اس کے بارے میں دوسروں سے بات ضرور کریں۔

برطانیہ کے شہر ہیلیفیکس میں ایک چھوٹی سی میٹنگ سے شروع ہونے والی اس تحریک نے آج ایک فیس بک سپورٹ گروپ کی شکل اختیار کرلی ہے جس کی کمیونٹی میں 37 ہزار سے بھی زائد لوگ شامل ہیں اور شمالی برطانیہ بھر میں ہر سوموار کی شب ہونے والی میٹنگز میں اس کے ممبرز کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے جیسا کہ گذشتہ ہفتے 430 مزید افراد اس میں شریک ہوئے۔

اینڈیز مین کلب کا مقصد ہی گفتگو ہے کیونکہ روایتی طور پر مرد زیادہ بات نہیں کرتے، خاص طور پر اپنی پریشانیوں یا جذبات کے بارے میں تو بالکل بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج برطانیہ میں 45 سال سے کم عمرمردوں میں موت کی سب سے بڑی وجہ خود کشی ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہونے والے خود کشی کے تمام واقعات میں 75 فیصد تعداد مردوں کی ہے۔ صرف 2017 میں خود کشی کرنے والے مردوں کی تعداد 4400 تھی۔  

اینڈیز مین کلب ہیلیفیکس سے تعلق رکھنے والے لوُک ایمبلر کی تخلیق ہے۔ یہ قدم انہوں نے اپنی ساتھی کے بھائی اینڈی کی خودکشی کے بعد اٹھایا تھا۔  

30 سالہ لوُک رگبی کے اچھے کھلاڑی رہے ہیں جو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بھی کھیل چکے ہیں۔

اینڈی کی موت کے کچھ دن بعد لوُک اپنی گاڑی میں بیٹھے اس کے بارے میں سوچ رہے تھے اور ان کو غصہ آرہا تھا۔

انہوں نے بتایا: ’مجھے بس ایسا لگ رہا تھا کہ یہ کیا غلط بات ہے۔ اینڈی نے اپنے پریشانیوں کے بارے میں بات کیوں نہیں کی؟ مجھے مزید غصہ آتا رہا۔ پھر میں نے سوچنا شروع کیا کہ اس بارے میں میں کیا کر سکتا ہوں۔‘

لوُک نے اس بارے اپنی ساتھی اور اینڈی کی بہن لیسا اور ان کی والدہ ایلین سے بات کی جہنوں نے ان کے ساتھ اتفاق کیا کہ مردوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی پریشانیوں اور جذبات کے بارے میں بات کریں۔ لوُک کو خیال آیا کہ مردوں کو ایک ایسی محفوظ جگہ مہیا ہونی چاہیے جہاں بیٹھ کر وہ کھل کر بات کر سکیں، اور اسی طرح اینڈیز مین کلب کا جنم ہوا۔

 لوُک نے کہا: ’مردوں کے لیے بات کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ مرد وں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے مسائل حل کریں، خاندان کا سربراہ بنیں، خود کو مضبوط تصور کریں اور دوسروں کی مدد کے لیے موجود ہوں۔ یہ ہی روایت ہے۔ لیکن معاشرہ اب تبدیل ہو رہا ہے جو اچھی بات ہے، تاہم اب بھی زیادہ تر مرد اپنی پریشانیوں کے حوالے سے بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ مردوں کے لیے خود کشی کے بارے میں بات کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔‘

اینڈی کی موت کے کچھ ہفتوں بعد لوُک نے اینڈیز مین کلب کا باقاعدہ آغاز ہیلیفیکس میں قائم اپنے چھوٹے سے دفتر میں کیا جہاں سے وہ رگبی چھوڑنے کے بعد کیریئر ٹریننگ کا بزنس چلاتے تھے۔  لوُک نے اس حوالے سے فیس بک پر لکھا اور پھر ایلین کے ساتھ ایک کمرے میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔ انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ آیا لوگ آئیں گے بھی یا نہیں۔

’میں اور ایلین بیٹھے تھے اور ہمیں نہیں پتہ تھا کہ کیا ہوگا۔ میں کافی مضطرب تھا اور میں فوم کی بال سے کھیلنے لگا۔ اس دوران نو لوگ آئے، مجھے اب بھی معلوم نہیں تھا کہ ہم کیا کریں گے، مگر میرا خیال تھا کہ ہمیں کسی کھیل کے ذریعے لوگوں کو ریلیکس کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پھر اولیور نامی ایک شخص نے کہا کہ بال میں اس کو دے دوں۔‘

بال کو ہاتھ میں لیے اولیور نے اپنی زندگی کے بارے میں بات کرنا شروع کی کہ کیسے انہوں نے اپنا بیٹا کھو دیا تھا۔ وہ پہلی بار کسی کے سامنے اپنے جذبات کھل کر بیان کر رہے تھے۔ پھر اولیور نے بال ایک اور شخص کی جانب اچھال دی اور کہا کہ اب اس کی باری ہے۔ اور اس طرح اینڈیز مین کلب کا آغاز ہوا۔

اولیور اب ہر سوموار کی شب باقاعدگی سے اس کے نائٹ سیشنز چلاتے ہیں۔

اینڈیز مین کلب کی پہلی میٹنگ کے چند ہفتوں بعد لوُک نے اپنی ایک سیلفی سوشل میڈیا پر ڈالی جس میں انہوں نے اپنی انگلیوں کی مدد سے او کے بنایا اور اس کے ساتھ ’ایٹس اوکے ٹو ٹاک‘ کا ہیش ٹیگ ڈالا۔ یہ تصویر وائرل ہو گئی اور لوگ اس بارے میں جاننے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے کہ آخر یہ کلب ہے کس بارے میں۔

جو کچھ ہیلیفیکس میں شروع ہوا تھا لوگ اس کے لیے ترس رہے تھے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے یہ باقی شہروں میں پھیل گیا اور اب اینڈیز مین کلب کے 17 اجلاس اس خطے میں منعقد ہوتے ہیں۔ مئی کے اختتام تک ان کلبز کی تعداد 19 ہو جائے گی۔

اینڈیز مین کلب میں مرد کن موضوع پر بات کرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں لوُک نے کہا: ’کچھ بھی۔ مرد ہر قسم کی مشکلات کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں۔ چاہے وہ ان کی مالیاتی پریشانیاں ہوں، ان کے رشتوں میں اتار چڑھاؤ ہو یا روزگار کے مسائل۔ اس کے موضوعات وسیع ہیں۔‘

یہ سننے میں بہت جذباتی لگ رہا ہو گا مگر ایسا ہے نہیں۔ میٹنگ میں مرد صرف ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے باتیں کررہے ہوتے ہیں۔ مگر فٹبال، فلموں یا اسی طرح کے دیگر موضوعات پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ اور اپنے بارے میں بات کرتے ہیں اور اس طرح سے کہ ان کی حوصلہ افزائی بھی ہو اور ان کو کہیں اور جانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔

اگر آپ اینڈیز مین کلب کی میٹنگ میں حصہ لینے کے لیے آئیں تو میٹنگ روم کے دروازے پر موجود نوجوان آپ کی رہنمائی کریں گے۔ سیشن لیڈر آپ کو خوش آمدید کرے گا اور آپ کو ایک کپ چائے دی جائے گی۔ پھر آپ دوسرے مردوں کے ساتھ  دائرے میں بیٹھیں گے اور پھر ’بس بات کریں۔‘

 

لوُک نے کہا: ’صرف میٹنگ میں آنا ہی مردوں کے لیے بڑی بات ہوتی ہے، لیکن جب وہ یہاں سے جاتے ہیں تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ آج انہوں نے اپنی زندگی میں سب سے اچھا کام ہے۔‘

یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ اگراینڈیز مین کلب کی طرح کوئی سہولت تین سال قبل موجود ہوتی تو لوُک کے برادر نسبتی اور دوست اینڈی رابرٹس شاید آج زندہ ہوتے۔

 3 اپریل 2016 کی تاریخ لوُک کے ذہین میں ہمیشہ کے لیے نقش ہے جب اینڈی کی والدہ نے انہیں فون پربتایا۔ ’انہوں نے مجھ سے کہا کہ اینڈی مر گئے ہیں۔ مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ کب اور کیسے، میں بس فوراً ہی وہاں چلا گیا۔‘

جب وہ ایلین کے گھر پہنچے تو انہیں یہ بری خبر ملی کہ اینڈی نے اپنے گھر کے پاس جنگل میں اپنی جان لے لی تھی۔ اینڈی نے کبھی اس بات کی علامت نہیں دی تھی کہ وہ خود کشی کے طرف مائل تھے۔ وہ ظاہری طور پر ڈپریسڈ یا مصیبت زدہ نہیں تھے۔ ان کو جو بھی مسائل تھے وہ انہوں نے دل ہی میں چھپا کر رکھے تھے۔ کسی کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ اینڈی اس حد تک پریشان تھے کہ بس 23 سال کی عمر میں ہی اپنی جان لے لی۔

لوُک نے کہا: ’اینڈی جب چھوٹے تھے تو وہ ایک پریشان بچے تھے۔ وہ جیل بھی جا چکے تھے۔ مگر پھر انہوں نے خود کو اس طرح کے لوگوں کی سنگت سے باہر نکالا۔ میں نے ہمیشہ اینڈی کو نہایت مہذب اور دلکش نوجوان پایا۔ ان کی  پیاری سی بیٹی ہے، وہ ایک بہترین انسان تھے۔‘

’میں ایک دن ہمارے آخری میسیجز دیکھ رہا تھا جس میں وہ فٹ ہونے کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہے تھے، وہ فوج میں جانا چاہتے تھے۔ انہیں اپنی رومانی تعلقات میں کچھ مسائل تھے مگر ایسی چیزیوں کا تو حل نکالا جاسکتا تھا اگر وہ کسی سے بات کرلیتے۔‘

اینڈی کے نام سے بننے والے اس کلب نے دوسروں کی بہت مدد کی ہے۔ اس نے کئی زندگیوں کا بچایا ہے۔  لوُک نے کہا: ’ایسا نہیں ہے کہ صرف ایک یا دو افراد نے یہ کہا ہو۔ مجھے ہر ہفتےمیں دس یا 12 ایسے لوگ ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر اینڈیز مین کلب نہ ہوتا تو وہ اب تک موت کو گلے لگا چکے ہوتے۔‘

یہ ایک بہت بڑی مثبت کامیابی ہے جو اس سانحے سے حاصل ہوئی ہے۔

لوُک کوشش کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ سیشنز میں شامل ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ مردوں کو اس طرح کھل کہ بات کرتے ہوئے سن کر انہیں وہ خوشی ملتی ہے جو ’کبھی رگبی کی کسی گیم میں نہیں ملی۔‘

اینڈیز مین کلب ایک رجسٹرڈ چیریٹی تنظیم ہے جس کو پوری طرح سے رضاکار چلا رہے ہیں۔ جیسے جیسے اس کے بارے میں معلومات پھیلتی جا رہی ہیں، زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں یا اپنے علاقے میں ایسی میٹنگ رکھنا چاہتے ہیں، جس کے حق میں لوُک بھی ہیں ۔ ’بنیادی طور پر اس کلب کا مرکزی مقصد (خود کشی کے) علاج کی بجائے روک تھام ہے۔‘

اپنے مسائل کے بارے میں بات کرنے کے لیے مردوں کی حوصلہ افزائی کی لڑائی بہت سے محاذوں پر لڑی جارہی ہے۔ گذشتہ ماہ فلاحی تنظیم ’سمیریٹنز‘ نے ’رییل پیپل، رییل سٹوریز‘ کے نام سے تحریک چلائی۔ یہ تحریک ان کی  اپنی ایک نئی تحقیق کی بیناد پر چلی جس کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں 20 اور 59 کے درمیان کی عمر کے 41 فیصد مردوں نے کبھی اس حوالے سے مدد حاصل نہیں کی اور اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

سمیریٹنز کے خارجہ امور کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پال میک ڈونلڈ نے کہا: ’ہم بس ایک اور آگاہی مہم نہیں چلانا چاہتے تھے، بلکہ ہم چاہتے تھے کہ سخت حالات اور مشکل وقت سے گزرنے والے مرد اپنی مثبت اور امید افزا کہانیوں کو دیگرافراد تک پہنچایں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو کہ وہ کسی کرائسس پوائنٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی مدد حاصل کرلیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہماری تحقیق سے پتہ چلا کہ 20 سے 59 کی عمر کے درمیان 78 فیصد مرد کہتے ہیں کہ اگر آپ اچھا محسوس نہیں کر رہے تو اس کے بارے میں بات کرنا کچھ غلط نہیں ہے، مگر پھر بھی جب انہیں کسی مسئلے کا سامنا ہو تواکثریت اس کے بارے میں بات کرنا مشکل سمجھتے ہیں۔ ایک تہائی نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ان کی مسائل اتنے سنگین ہیں کہ وہ کسی ہیلپ لائن پر کال کریں۔ اس تحریک کے اتنا ضروری ہونے کی یہ بھی ایک وجہ ہے۔‘

سمیریٹنز کی رییل پیپل، رییل سٹوریز  تحریک کے دوران مختلف مردوں کی کہانیاں سامنے آئیں ہیں جن میں 38 سالہ ٹونی رابرٹسن بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی غیر تشخیص شدہ ڈپریشن کے ساتھ گزاری ہے۔

جب انہیں مشکل حالات کا ایک عرصے تک سامنا کرنا پڑا جس دوران انہوں نے ملازمت، گھر اور ساتھی کو کھو دیا، تو انہوں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ ٹونی نے بتایا: ’(خودکشی کی کوشش کے بعد) میں ہسپتال کے بستر پر تھا اور میں نے اپنی ماں کو پریشان بیٹھے دیکھا، اسی لمحے مجھے سمجھ آگیا۔  میں ان سے بات کرنے لگا اور بتایا کے میں کس طرح محسوس کرتا رہا تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ انسانی رابطے واقعی اہم ہوتے ہیں۔ بات چیت واقعی زندگی بچا سکتی ہے۔‘

سمیریٹنز کے مطالعے کے مطابق جن معاملات پر مرد بات نہیں کر پاتے ان میں مالی پریشانی، قرض کی تشویش، ساتھی کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، خاندان کے مسائل، نوکری سے متعلق یا بے روزگاری اور تنہائی اور اکیلے پن کے جذبات شامل ہیں۔

اینڈی رابرٹس کی طرح اولی مہرا کو بھی نوجوانی میں ہی مسائل کا سامنا تھا۔ وہ صرف 15 برس کے تھے جب انہیں اینزائٹی اور ڈپریشن میں مبتلا ہو گئے۔ اولی، جو اب 23 سال کے ہیں، کہتے ہیں کہ ان کا بریک اپ ہونا وہ بات تھی جس پر ان کی قوت برداشت ختم ہوگئی۔

جب انہیں اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں خیالات آنے لگے تو انہوں نے آخر کار اپنے دوستوں سے بات کی۔ ’جب میں نے اپنے دوستوں کو اپنی کیفیت کے بارے میں بتایا کہ میں کیسے محسوس کرتا تھا تو ان میں سے چار نے کہا کہ وہ بھی ایسی ہی مسائل سے دوچار تھے۔ میں نے سوچا کہ میں اکیلا نہیں ہوں۔ یہ عجیب بات نہیں ہے۔ مجھے جلد ہی مدد حاصل کرلینی چاہیےتھی، ہم سب کو اس کے بارے میں جلد ہی بات کرنی چاہیے تھی۔‘

مردوں میں خودکشی کا رجحان ایک ’خاموش وبا‘ بن چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ان کا لوگوں سے بات کرنا اہم عنصر ہے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر فنکی بیفور نے گذشتہ برس برطانوی سائیکالوجیکل سوسائٹی کے لیے اس بارے میں لکھا کہ ’خواتین میں کم خودکشی کی شرح کی وجہ یہ ہے کہ ان میں پیچیدہ جذبات کو سنبھالنے کی قابلیت اور مردوں کے مقابلے میں مسائل سے نمٹنے کے لیے زیادہ لچک دار حکمت عملی رکھنے کی صلاحیت ہے۔ ‘

ان کے مطابق، مردوں کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے جذبات کو دبا کر رکھیں اور یہ انہیں ضرورت کے وقت  مدد مانگنے سے روک سکتا ہے۔

ڈاکٹر فنکی بیفور نے حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ مردوں میں خودکشی کے مسٔلے سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے لکھا: ’اس کی شدید ضرورت ہے کہ حکومت مردوں کی خودکشی کی شرح کو کم کرنے پر کام کرے۔ اس کے بارے میں بات ہونی چاہیے، اسے سمجھنا چاہیے اور اس کی روک تھام ہونی چاہیے۔ ہمیں اس تصور کو پیچھے چھوڑنا ہے کہ چونکہ مرد جسمانی طور پر مضبوط ہوتے ہیں تو انہیں ذہنی طور پر کمزور نہیں نظر آنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا: ’خود کشی کی روک تھام کے لیے سٹریٹیجی اور منصوبوں کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مردوں کو اپنی پریشانیوں سے نمٹبنے کے لیے طریقے سکھائے جائیں۔ یہ مسئلہ صرف انہیں یہ کہنے سے حل نہیں ہوگا کہ وہ مدد ڈھونڈیں۔  خودکشی کی وجوہات کو پہچاننے، سمجھنے اور  ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک کو درپیش یہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور ہمیں اسے سجھنے کے لیے زیادہ  کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

لوُک ایمبلر ڈاکٹر فنکی بیفور کی بات کو سمجھتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ اس مسٔلے سے نمٹنے کے لیےکسی اور کی مدد کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔

’اس بارے میں مجھ سے بہت سے سوالات کیے جاتے ہیں کہ اس مسٔلے کے حل کے لیے حکومت کو کیا کرنا چاہیے۔ تو میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ایسی مہموں میں شامل ہونے کی ضرورت ہی کیا ہے کیونکہ اگر ہم ایسا کریں گے تو لوگوں کی مدد کرنے کی بجائے اینڈیز مین کلب کی تمام توانائی اس پر ضائع ہوجائے گی۔‘

’ہم سب کو اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کرنی ہے کہ ہم اپنی کمیونیٹی میں کیا کر سکتے ہیں۔ ہمیں دوسرے لوگوں کے لیے امید کا چراغ بننا ہوگا۔ اس کی ابتدا آپ اپنے خاندان کے ساتھ  کر سکتے ہیں۔ آپ کے کسی بھائی، باپ یا بیٹے کو کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے جس پر وہ بات نہیں کر پا رہے ہوں۔ لیکن اگر لوگ کھل کر بات کرتے ہیں تو پھر یہ دوسروں کو بھی کھل کر بات کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔‘

سمیریٹنز کے پال میک ڈونلڈ لوُک سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’سمیریٹنز بات کرنے کی قدر اور انسانی رابطوں کی طاقت کو سمجھتے ہیں۔ صرف دو لوگوں کے ہی آپس میں بات کرتے ہوئے ان میں سے کوئی ایک  کو مدد مل سکتی ہے۔ وہ رک کہ، سانس لے کے، اپنے مسئلے کو حل کرنے کا راستہ دیکھ سکتا ہے۔ سمیریٹنز لوگوں کو سوچنے کے لیے ماحول فراہم کرتا ہے۔ ہم کسی کو پرکھتے نہیں ہیں نہ ہی فیصلہ کریں گے کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے، ہم یہاں صرف سننے کے لیے ہیں۔‘

جیسا کہ لوُک بھی بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مرد اپنے مسائل کو چھپا لیتے ہیں اور اپنی مردانگی ظاہر کرنے کے لیے دوسری چیزوں پر توجہ مرکوز کرلیتے ہیں جیسا کہ فٹ بال، ویسے ہی سمیریٹنز نے بھی اس بات کا دھیان رکھا۔ انہوں نے اپنی رییل، پیپل رییل سٹوریز مہم کے دوران پریمیئر لیگ کے سابق فٹ بالر اور پیشہ ور باکسر لیون میکینزی کی مدد حاصل کی۔

  لیون میکینزی نے انکشاف کیا کہ باوجود اس کہ کے ان کا کرئیر اچھا تھا اور انہیں کوئی مالی پریشانی نہیں تھی، 2011 میں انہوں نے اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی۔ یہ سب کچھ انسان کو تنہائی اور مایوسی سے نہیں بچا سکتا۔

لیون میکینزی نے کہا: ’میں جانتا ہوں کہ جب آپ اس تاریکی میں ہوں تو یہ کتنا مشکل ہوتا ہے۔ میں نے یہ سب سہا ہے جب آپ اپنے ہی وجود سے چھٹکارا پانا چاہیں۔ میں اپنی کہانی بیان کرکے اور اس مہم کی حمایت کرکے مردوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ مدد کے ساتھ دوبارہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین