طالبان پاکستان سے آنے والی کس چیز پر کتنا محصول لے رہے ہیں؟

گذشتہ ماہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سپین بولدک کی اہم سرحدی چوکی پر طالبان نے قبضہ کر کے افغان حکومت کی بجائے خود محصول لینا شروع کر دیا تھا۔

افغانستان شہر سپین بولدک اور ویش منڈی پر قبضے کے بعد افغان طالبان نے پاکستان اور افغانستان سامان منتقل کرنے والے تاجروں کے لیے محصولات کی وصولی کی نئی ریٹ لسٹ جاری کر دی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ ماہ اس اہم سرحدی چوکی پر طالبان پر قبضہ کر کے افغان حکومت کی بجائے خود محصول لینا شروع کر دیا تھا۔

19 صفحات اور 375 اشیا پر مشتمل اس ریٹ لسٹ کی ایک نقل انڈپینڈنٹ کے پاس موجود ہے جس میں مختلف اشیا پر عائد محصول کی فہرست درج ہے جس کی شرح ڈھائی لاکھ سے لے کر 30 افغانی تک محیط ہے۔

تازہ ترین شرح کے مطابق ایک افغانی پاکستانی دو روپے اور پانچ پیسے کا ہے۔

اس فہرست کے مطابق طالبان ایک بھیڑ پر سب سے کم یعنی 30 افغانی محصول لے رہے ہیں، جب کہ سب سے زیادہ محصول ٹیلی فون ٹاور پر ہے۔ اس کے علاوہ طالبان نے باڈی بلڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی پروٹین پر بھی ٹیکس لگایا ہوا ہے اور اس کے ہر کارٹن پر تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں (تفصیلی فہرست آخر میں دیکھیے)

افغان طالبان نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے متصل افغان شہر سپین بولدک ویش منڈی کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ٹیکس اور ڈیوٹی کی وصولی کی ریٹ لسٹ جاری کر دی ہے۔ افغان طالبان 375 اشیا پر مشتمل ٹیکس اور ڈیوٹیاں پاک افغان تاجران سے وصول کرنا چاہتے ہیں۔ 

اس میں سے زیادہ ٹیکس افغانستان سے جانے والے اشیا پر لگا ہے جو پاکستان آتی ہیں۔ کباڑ، یعنی سکریپ کے ٹرک سے زیادہ ٹیکس لیتے ہیں، جبکہ پاکستان سے افغانستان جانے والے ٹرک کپڑا، چینی، چاولوں کے ٹرکوں سے محصول لیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان کے ٹیکسوں اور ڈیوٹی کے حوالے سے پاکستان افغانستان کے جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر عمران خان کاکڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کو خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ’تاجروں سے تین جگہوں پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، سب سے پہلے  تاجروں کو پاکستان کسٹمز میں کسٹم ڈیوٹی دینا ہوتی ہے۔ اس سے آگے افغانستان سرحد ویش منڈی پر طالبان کو ٹیکس دینا ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے بعد آخر میں قندھار کسٹم افغان حکومت کو بھی کسٹم ادا کرنا پڑتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’اگرچہ افغان طالبان کی جانب سے لگایا گیا ٹیکس افغان حکومت کی جانب سے وصول کیے جانے والے ٹیکس سے کم ہے، لیکن ایک ہی ملک میں دو جگہوں پر ٹیکس دینے سے تاجروں پر اضافہ بوجھ پڑ گیا ہے کیونکہ سپین بولدک سے آگے جانے والے سامان پر انہیں افغان حکومت کو  دوبارہ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔‘

عمران کاکڑ نے کہا کہ پاکستان سے جانے والے گاڑیوں سے یعنی ایکسپورٹ ہر چیز پر الگ الگ ٹیکس کی وصولی نہیں جا رہی، بلکہ طالبان کسٹم نظام ٹھیک نہ ہونے کی باعث سے ہر اشیا پر مجموعی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

عمران خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے جاری شدہ 375 اشیا پر مشتمل ٹیکس لسٹ جاری کی گئی ہے وہ حتمی نہیں ہے اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آئیں گی کیونکہ اس وقت بہت سی اشیا پر مقرر کردہ ٹیکس پر طالبان اور تاجروں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

’طالبان کی جانب سے سکریپ، کباڑ لانے والے فی ٹرک پر 12 لاکھ روپے کا ٹیکس لاگو کیا گیا تھا تاہم کباڑ لانے والے تاجروں نے طالبان سے مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں اس ٹیکس کو کم کر کے چار لاکھ روپے کر دیا گیا۔‘

منتخب فہرست:

  • ٹیلی فون کا کھمبا                  ڈھائی لاکھ
  • بڑی مشین                          ایک لاکھ
  • چھوٹی مشین                        50 ہزار
  • تارکول ڈالنے والی مشین         50 ہزار
  • گندم کاٹنے کی مشین              50 ہزار
  • چھ ٹائروں والی گاڑی             دس ہزار
  • کار                                 چھ ہزار
  • وزرش والی پروٹین               تین ہزار فی کارٹن
  • نئی موٹر سائیکل                  500
  • اونٹ اور گھوڑا                     300   
  • بیل، گائے                           150
  • پان اور سپاری                     5000  فی 25 ٹن
  • سگریٹ                               5625  فی 16 ٹن
  • موبائل فون                          پانچ ہزار

         

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت