’ہرات کے شیر‘ اسماعیل خان کے ساتھ محاذ جنگ

افغانستان کے تیسرے بڑے شہر ہرات میں گھمسان کی جنگ کا احوال، جو اب طالبان کے قبضے میں ہے۔

’ہرات کے شیر‘ کے نام سے معروف مجاہدین کے  رہنما   اسماعیل خان (فوٹو: اے ایف پی)

(نوٹ: اسماعیل خان نے جمعے کو طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور انہیں نظربند کر دیا گیا ہے)


وقفے وقفے سے زوردار دھماکوں کی آوازیں آتی ہیں جو خالی گھروں میں گونجنے لگتی ہیں۔ ملیشیا جنگجوؤں کا ایک گروہ ٹوٹی ہوئی دیواروں کی پناہ میں ہو جاتا ہے جبکہ دیگر پی آر جی لانچروں اور مشین گنوں کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھتے ہیں اور اس دوران میں لاشیں اٹھا لی جاتی ہیں۔ ہرات کے مختلف محاذوں میں سے ایک پر ہر پل بدلتی صورت حال کے ساتھ چھوٹی چھوٹی جان لیوا جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ دنوں میں ہرات میں جنگ شدت اختیار کر گئی اور سرکاری فوج اور رضا کار ملیشیا طالبان کو شہر کے کنارے سے دور دھکیلنے کے لیے تابڑ توڑ حملے کیے گئے۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہاں طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان مسلسل کامیابیاں سمیٹتے چلے جا رہے ہیں اور آخری خبریں آنے تک افغانستان کے نصف صوبوں پر قابض ہو چکے ہیں۔

طالبان حوض کرباز سے آگے بڑھتے ہوئے ہرات میں آ پہنچے ہیں جو پرپیچ گلیوں اور رستوں والا ضلع ہے ، جہاں گھات لگا کر حملہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، جہاں خفیہ حملہ آور ان خالی مکانات کا استعمال کر سکتے ہیں جن کے رہائشی انہیں چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

یہاں لڑائی بہت قریب سے، بے رحم اور پیچیدہ ہے۔ طرح طرح کی غیر مماثل فوجی وردیوں اور سول کپڑوں کی وجہ سے مخالف جنگجو افراد کو پہچاننا اکثر و بیشتر مشکل ہو گا۔

ہرات ملیشیا کے ارکان سیاہ و سفید رنگ کے ’کوفیہ‘ نامی رومال پہنتے ہیں جو ان کے کمانڈر اسماعیل خان کے رنگ ہیں، لیکن باغی بھی بھیس بدلنے کے لیے سکارف اوڑھ رہے ہیں۔ چمکتے چہروں والی متوقع طور پر ایک حکومتی چوکی پر ہمارا پہنچنا اس ساری صورت حال کی عکاسی کرتا ہے کہ حقیقت میں چیزیں کس قدر فریب دہ ہو سکتی ہیں۔

تیز ہوا سے اٹھتی مٹی کے درمیان دور سے دیکھا جا سکتا تھا کہ مردوں نے بندوقیں اٹھا رکھی ہیں جن میں سے بعض کی کھلی قمیصوں پر زرہ بکتر بندھی تھی۔ ایسا لگا کہ وہ جان بوجھ کر زمین پر دیکھ رہے ہیں۔ ملیشیا نے ہمیں یقین سے کہا: ’طالبان ہیں جو بھاگ نکلنے کے لیے کسی گٹر کی طرف دیکھ رہے ہیں۔‘ جنگجو افراد میں سے ایک مسکراتے ہوئے کہنے لگا: ’مجھے لگتا ہے وہ پھر ایک کوشش کریں گے۔‘

سڑک کے نیچے سرنگوں سے گزرنے کی کوشش گذشتہ روز کچھ کامیاب نہیں رہی تھی۔ ایک طالب پائپ میں سے رینگتا ہوا ملیشیا کے ایک گروہ کے بالکل سامنے آ نکلا جو پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھا گلی کی نکڑ پر چائے پی رہا تھا۔

نکاسی آب والی ایک نالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ملیشیا کے ایک آفیسر شہریار نظامی کہتے ہیں: ’ہمارے نیچے کچھ کھٹ پٹ کی آواز تھی اور پھر وہ بالکل اسی جگہ نمودار ہوا۔ مجھے نہیں پتہ کہ اسے زیادہ حیرت ہوئی یا ہمیں۔ وہ واقعی نہایت غلیظ حالت میں تھا۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے گولی ماریں یا پانی والا پائپ لائیں اور اسے نہلا کر صاف کر دیں۔‘

 

وہ کہتے ہیں: ’لیکن اس نے اپنی بندوق ہم پر تان لی سو ہمارے پاس اس پر گولی چلانے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ اس کے بعد کوئی اس کی لاش کو ہاتھ نہیں لگانا چاہتا تھا، ہم نے ایک گھر سے باتھ روم میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے پردے لیے اور اس میں لپیٹ کر اسے وہاں سے اٹھایا۔‘

سڑک پر خون کے داغ دیکھتے ہوئے نظامی ایک لمحے کو رکے اور پھر نہایت آہستگی سے کہا: ’وہ بالکل نوجوان تھا، وہ خوفزدہ تھا مگر جن لوگوں نے اسے بھیجا انہیں کیا پروا، کیا انہیں ہو گی؟‘

ملیشیا کے ارکان جنگ کے ایک اور سلسلے کی تیاری کر رہے ہیں۔

نظامی کہتے ہیں: ’ہمیں انہیں مزید دور دھکیلنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ مرکز تک پہنچنے کی تاک میں رہتے ہیں تاکہ لوگوں کو قتل کر سکیں۔ کمانڈر منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ باقی شہروں میں جو ہو چکا ہے، اس سے بچنے کے لیے ہمیں جارحانہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ ہمیں چاہیے کہ انہیں پیچھے دھکیل دیں۔‘

یہاں پریشانی کی ایک وجہ یہ ہے کہ لڑاکا طالبان شہر میں رات کے وقت آتے ہیں جہاں مرکز کے قریب ان کا آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ ہفتے کی رات جب انہوں نے پولیس اور آرمی کے ٹھکانوں پر ایک بار پھر حملہ کیا تو عمارتوں کے ارد گرد کافی کم بلندی پر مارٹر گولے طواف کر رہے تھے۔

ایک میل کے چوتھائی حصے کے فاصلے پر ’ہرات کے شیر‘ کے نام سے معروف، مجاہدین کے نامور پرانے رہنما 70 سالہ کمانڈر اسماعیل خان اپنے منظم کردہ بھرتی ہونے والے ملیشیا کے تازہ ترین گروہ کا جائزہ لے رہے ہیں اور انہیں بتا رہے ہیں کہ اس بات کو یقینی بنانا کہ ہرات پر قبضہ نہ ہو یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔

یہ مختصر پریڈ ایک پرانی چوکی پر کروائی گئی جو انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (آئی ایس اے ایف) کی ہے۔

12 نوجوان افراد فوج، پولیس اور خفیہ ایجنسی (نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی یعنی این ڈی ایس) کے تازہ رکن بنے ہیں۔ ان کے بقول وہ حکومتی اداروں کو غیر موثر دیکھ کر کڑھتے تھے، اس لیے انہوں نے ملیشیا جوائن کی۔

کمانڈر حکم جاری کرتے ہیں کہ انہیں کچھ رقم دی جائے کیونکہ کئی افراد کو مہینوں سے کچھ نہیں ملا۔

جیسے ہی وہ کہتے ہیں: ’کچھ خوراک، پانی، نسوار اور حشیش لے لو کہ تم لوگ نشے کے شدید رسیا لگتے ہو‘ تو کچھ لوگ گھبراتے ہوئے ہنسنے لگتے ہیں۔ خان مسکرائے بغیر اپنی بات میں اضافہ کرتے ہیں: ’میں مذاق کر رہا تھا، جاؤ جو چاہیے وہ خرید لو لیکن ہر چیز کی رقم ضرور ادا کرو۔‘

کچھ لوگ تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں جو ابھی روسی کلاشنکوف اے کے 47 ایس فراہم کی گئی ہے اگر اس کی بجائے امریکی اسلحہ ہوتا جس پر انہیں مہارت حاصل تھی۔ عمر کے دوسرے عشرے میں پہنچے ہوئے ایک گول مٹول سبز کفتان والے آدمی جنہوں نے خود کو ان کا ترجمان مقرر کر لیا ہے، وہ اس نکتے پر توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ وہ مانوس ہتھیاروں کے ساتھ مزید موثر ثابت ہوئے ہوتے۔

کمانڈر کہتے ہیں کہ وہ دیکھیں گے کہ کیا کیا جا سکتا ہے۔ باز کی طرح تیکھے خدوخال والے ایک سابقہ مجاہد جو اب عمر کی پانچویں دہائی میں اور سینیئر حوالدار ہیں، وہ بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ درشت لہجے میں کہتے ہیں: ’جن طالبان کو آپ قتل کرتے ہیں ان کی جانچ پڑتال تو کر کے دیکھو کہ ان کے پاس امریکی ہتھیار ہیں جو پاکستانی فوج استعمال کرتی ہے۔ دیکھتے ہیں تم لڑائی میں کتنے تیز ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمانڈر خان نے اپنی کلاشنکوف اپنے ہاتھ میں تھام رکھی ہے جو کافی پرانی  ہے اور اس کے پیچدار لکڑی کے دستے میں جگہ جگہ رخنے پڑے ہیں۔ وہ بندوق کو لہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اسے میرے پاس 30 سے زائد برس گزر چکے ہیں۔ میں اس کا بہت شوقین ہوں۔ میں نے اسے روس، طالبان اور افغانستان کے دیگر دشمنوں کے خلاف استعمال کیا ہے۔ اب مجھے دوبارہ اس سے کام لینا ہے۔‘

اپنے آدمیوں کے برعکس زرہ بکتر کی بجائے اسماعیل خان سفید شلوار قمیص کے اوپر واسکٹ پہنتے ہیں، عمر کے ساتھ ان کے کندھے اور سر آگے کو ہلکا سا جھک گیا ہے لیکن جب وہ اس بارے میں بات کرتے ہیں جسے وہ وجود برقرار رکھنے کی جدوجہد کہتے ہیں تو ان کہ لہلہاتی داڑھی سے اوپر آنکھیں زندگی کی حدت سے بھری نظر آتی ہیں۔

وہ فضا میں اپنی انگلی لہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس وقت جو جنگ میں لڑ رہا ہوں یہ میری زندگی کی اہم ترین لڑائیوں میں سے ایک ہے۔ طالبان محض پاکستان کے مہرے ہیں، اس لیے یہ جنگ افغان حکومت اور پاکستان کے درمیان ہے۔ اگر ہم یہ ہار گئے تو ایک طویل مدت کے لیے اپنے ملک کو ہار بیٹھیں گے۔‘

’میں نے اپنی عمر کے آخری ایام میں اس لیے اس جنگ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا کیونکہ لوگ ہرات کے لیے میری طویل خدمات سے آگاہ ہیں۔ روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں ان کے بچوں کے پاس بھی میں جا سکتا تھا اور محض مرد ہی نہیں بلکہ ہر عمر کی خواتین بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ طالبان سے کس قدر خوف زدہ ہیں۔‘

کمانڈر اور ان کے سپاہی آئی ایس اے ایف کی پرانی چوکی پر اکٹھے ہو گئے ہیں جو ایک مضبوط چوکی ہوا کرتی تھی۔ اس کی دیواروں کے گرد حفاظتی ہیسکو تھیلے (Hesco bags) ہیں اور حالیہ دنوں میں دوبارہ تیار کیا گیا پتھریلا حصار جس کے اوپر بندوق لگی ہے۔ بندوقیں صاف کی جا رہی ہیں جبکہ ایک سپاہی اکلوتے گلاب کے پودے کو جس کے گرد ایک استعمال شدہ کارتوس لگا دیا گیا ہے، احتیاط سے پانی دے رہا ہے۔ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے والے ساتھی سے کہتا ہے: ’ایک بار یہ سب ختم ہو جائے تو ہمیں اس جگہ کو باغ میں تبدیل کر دینا چاہیے۔‘

کمانڈر خان اس نکتے پر توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ ’ہمارے موجودہ مسائل کی وجوہات میں سے ایک وجہ امریکہ کا ایسی جلد بازی میں واپس پلٹنا ہے، جس طرح انہوں نے بگرام (فضائی اڈا) ہماری وزارت دفاع کو بتائے بغیر آدھی رات کو چھوڑا وہ حیرت انگیز تھا۔‘

’ملک بھر سے ان کے فوجی دستوں کی واپسی زیادہ بہتر باہمی اختلاط سے ہونی چاہیے تھی۔ وہ 20 سال تک منصوبہ بندی کرتے رہے کہ کیسے نکلیں گے اور اس انداز میں نکلے، لیکن مجھے خوشی ہے کہ وہ چلے گئے، اب ہم اپنی ساری توجہ اپنے دفاع پر مرکوز کر سکتے ہیں۔‘

دیگر سیاست دانوں کی طرح اسماعیل خان نے بھی افغان حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ رضا کار سپاہیوں کے لیے ضروری کمک اور ہتھیار مہیا نہ کر سکی۔ وہ خاص طور پر وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی کے زبردست ناقد تھے۔

لیکن یہ وزیر کے گھر پر ہونے والے خود کش دھماکے اور گذشتہ ہفتے ہونے والے بندوق کے حملے سے پہلے کی بات ہے جس میں 13 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، لیکن خان کا رویہ اب زیادہ محتاط ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’یہ مشکل صورت حال ہے، یقیناً ہم ہر چیز مزید بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں لیکن ہر کوئی دباؤ میں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہر شخص اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہا ہے۔‘

کمانڈر کے بعض لوگ ان کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔

ضلع ہوادی میں دشمنوں پر بھرپور گولی چلانے والے بصیر احمد بہت خوش ہیں کہ انہوں نے فوج چھوڑ دی: ’کم از کم اب ہم کچھ لڑائی تو کر رہے ہیں، ہم ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں اور یہ ہے وہ چیز جو ہم پہلے نہیں کر رہے تھے۔‘

27 سالہ احمد ایک ہفتہ قبل رضا کاروں کے ساتھ شامل ہوئے۔ وہ کہتے ہیں: ’میں ایک یونٹ کے ساتھ پشتون زرغان میں تھا اور سب کچھ ہی غلط ہو رہا تھا، حتیٰ کہ ہمیں کھانے پینے کی چیزیں تک نہیں مل رہی تھیں۔ ہمارے لیے طالبان اور پاکستانیوں سے لڑنا جان جوکھوں کا کام ہو جاتا لیکن سرے سے لڑائی ہوئی ہی نہیں۔‘

’آخر میں ہمیں بتایا گیا کہ اپنے ٹھکانے چھوڑ دو اور ہمیں اپنے پیچھے اپنے ہتھیار حتیٰ کہ گاڑیاں بھی چھوڑنا پڑیں۔ اس بات کا خیال ہی میرے تن بدن میں آگ لگا دیتا ہے، کم از کم اب میرے پاس پلٹ کر حملے کا جواب دینے کا موقع تو ہے۔ میں نے کچھ طالبان کی جان لی ہے۔ مجھے اس پر پشیمانی نہیں کیوں کہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔‘

شہر یار نظامی سر ہلاتے ہیں: ’اسی لیے ہم اس میں شامل ہوئے ہیں کہ اگر مرنا ہی ہے تو کیوں نہ ڈٹ کر کھڑے ہوا جائے۔ کچھ نہ کرنے سے، طالبان کو قبضہ کرنے دینا پھر پکڑے جانا اور کتوں کی طرح مار دئیے جانے سے یہ کہیں بہتر ہے۔‘

ایک عمر رسیدہ شخص اپنے بیٹے کے ساتھ پہنچ جاتے ہیں۔ جنگ کی وجہ سے انہیں مجبوراً اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا اور اب وہ اپنی کچھ چیزیں دوبارہ لینا چاہتے ہیں۔

نظامی انہیں کہتے ہیں: ’مت جائیے، اگر آپ گئے تو طالبان کے چھوڑے چند تحفے ملیں گے‘ اور انہیں گھروں اور کچھ دیواروں سے ملنے والے گھریلو ساختہ بموں کی یاد دلاتے ہیں۔ رہائشی ہدایت اللہ اجازت کی التجا کرتے ہیں لیکن ناکام رہتے ہیں۔

مایوسی کے عالم میں کندھے اچکاتے ہوئے وہ واپسی کے راستے پر بھاری قدموں سے مڑتے ہوئے کہتے ہیں: ’ہم جیسے عام لوگوں نے تکلیف اٹھائی ہے۔ میں اور میرے اہل خانہ طویل عرصے تک پناہ گزین رہے اور ہم دوبارہ اس سے نہیں گزرنا چاہتے، لیکن ہمیں اس کے لیے تیار ہونا ہی ہے اور ہم اسی سلسلے میں اپنے سوٹ کیس لینے آئے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’میرا گھر جانا بہت خطرناک ہے مگر کہاں جانا خطرناک نہیں؟ کون جانتا ہے کیا ہو گا؟ ہم امن کے لیے دست دعا بلند کرتے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بدعا ہے کہ افغانستان میں کبھی امن نہ ہو۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا