طالبان کا کنٹرول اور افغان- پاکستان سیریز پر منڈلاتے شک کے بادل

سری لنکا کے قومی بورڈ نے کہاہے کہ وہ ستمبر میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان سیریز کی میزبانی کے انتظامات کر رہا ہے،تاہم کوئی بھی عہدیدار اس بات کی ضمانت نہیں دےسکا کہ طالبان کےاقتدارمیں آنےسے دونوں ملکوں کےمابین تین ٹی ٹوئنٹی میچزکی سیریزہوگی یا نہیں۔

29 جون 2019 کو  کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان کے وہاب ریاض شاٹ کھیلتے ہوئے نظر آرہے ہیں جبکہ ان کے پیچھے افغانستان کے وکٹ کیپر اکرام علی  خیل موجود ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایک ایسے وقت میں جبکہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ افغان کرکٹرز محفوظ ہیں، سری لنکا کے قومی بورڈ نے کہا ہے کہ وہ ستمبر میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کے انتظامات کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کوئی بھی عہدیدار اس بات کی ضمانت نہیں دے سکا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز یکم ستمبر سے شروع ہوگی یا نہیں۔

افغان ٹیم نے اکتوبر میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی حصہ لینا تھا، جس کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے۔

واضح رہے کہ 1996 سے 2001 تک افغانستان پر حکومت کرنے والی طالبان حکومت نے منظم کھیلوں سے انکار کیا تھا۔

افغانستان کے سٹار سپن بولر اور ٹی ٹوئنٹی کپتان راشد خان اور آل راؤنڈر محمد نبی اس وقت انگلینڈ میں دی ہنڈریڈ ٹورنامنٹ کھیل رہے ہیں، لیکن زیادہ تر قومی کھلاڑی افغانستان میں ہیں۔

ایک بین الاقوامی کرکٹ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’کھلاڑیوں کی موجودگی کے مقام کے بارے میں جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب سری لنکا کے کرکٹ بورڈ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ہمبنٹوٹا کے خالی سٹیڈیم میں وہ تین میچوں کے لیے افغانستان اور پاکستان کی میزبانی کریں گے۔

یہ سیریز اصل میں دبئی میں ہونی تھی لیکن ستمبر میں انڈین پریمیئر لیگ کے شیڈول سے ٹکراؤ کے باعث اسے سری لنکا منتقل کر دیا گیا۔

سری لنکا کے کرکٹ سیکرٹری موہن ڈی سلوا نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم نے انہیں بتایا ہے کہ ہم ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ تمام تیاریاں جاری ہیں۔‘

’لیکن کابل کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے، ہم نہیں جانتے کہ وہ آگے بڑھ سکیں گے یا نہیں۔ ہم ان کے جواب کے منتظر ہیں۔‘

ڈی سلوا نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کی وجہ سے دونوں ٹیموں کو اگلے ہفتے تک سری لنکا میں ہونا چاہیے تاکہ ستمبر میں میچ شروع کیے جا سکیں۔

افغانستان کرکٹ بورڈ کی ویب سائٹ کے مطابق ان کے قومی اسکواڈ کی سات اگست کو اعلیٰ حکام سے ملاقات ہوئی تھی، جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے خلاف اچھی کارکردگی پر انہیں ’بھاری انعام دیا جائے گا۔‘

بورڈ نے نو اگست کو اپنی تازہ پوسٹ میں کہا کہ اس نے سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر شان ٹیٹ کو قومی ٹیم کا بولنگ کوچ مقرر کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ