’جب ہینگ ٹونگ 77 نکلا تو جہاز کا کپتان عملے سے گلے لگ کر رویا‘

کراچی کے ساحل سی ویو پر پھنس جانے والے بحری جہاز کے ریسکیو کا عمل انجام دینے والی پاکستان سیلویج کمپنی سی میکس مرین سروسز کے مالک عارف شیخ کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمارے لیے ایک بہت عجیب منظر تھا اور پورا عملہ اب اتنا خوش ہے کہ اس کی کوئی انتہا نہیں۔‘

کراچی کے ساحل سی ویو پر پھنس جانے والے بحری جہاز ہینگ ٹونگ 77 کے ریسکیو کا عمل انجام دینے والی پاکستان سیلویج کمپنی سی میکس مرین سروسز کے مالک عارف شیخ کا کہنا ہے کہ جہاز کے نکلنے کے موقع پر کپتان عملے کو گلے سے لگا کر رو پڑے تھے۔

ہینگ ٹونگ 77 کو بالآخر ڈیڑھ ماہ کی کوششوں کے بعد حال ہی میں ریسکیو کیا گیا ہے۔ اس موقع پر عملے کی خوشی منانے کے مناظر انڈپینڈنٹ اردو سے شیئر کرتے ہوئے عارف شیخ نے بتایا: ’عملہ جب جہاز پر ہوتا ہے تو ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہینگ ٹونگ 77 نکلا تو کپتان بھی عملے سے گلے لگ کر رویا۔ یہ ہمارے لیے ایک بہت عجیب منظر تھا اور پورا عملہ اب اتنا خوش ہے کہ اس کی کوئی انتہا نہیں۔‘

جہاز کے ریسکیو کے عمل میں تاخیر کے حوالے سے عارف شیخ کا کہنا تھا کہ ’اس جہاز کو نکالنا بہت مشکل تھا۔ اسے نکالنے میں سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ جہاز انتہائی کم پانی میں کھڑا ہوا تھا۔ ہماری بوٹس اتنے کم پانی میں نہیں آسکتی تھیں، اس لیے ہمیں 2000 میٹر کے فاصلے پر کھڑے ہوکر جہاز کو کھیچنا تھا۔‘

انہوں نے بتایا: ’یہ پہلا آپریشن تھا، جس میں ہمیں اتنا ٹائم لگا۔ آپ نے دیکھا کہ جس دن جہاز نکلا اس دن ہماری صرف ایک ٹگ بوٹ ہی اسے گہرے پانی میں کھینچ کر لے گئی۔ اتنا وقت اس لیے لگا کیونکہ ہمیں مختلف مسائل کا سامنا تھا۔ سی ویو کے ساحل کا سروے نہیں ہوا اور اس کی ریت کافی ناہموار ہے۔ اس پر ریت کے کئی ٹیلے ہیں جو ہماری مشکلات میں اضافہ کررہے تھے۔‘

بار بار آپریشن ناکام ہونے اور رسیوں کے ٹوٹنے کے معاملے پر انہوں نے کہا: ’جہاز کو کھینچنے والی 60 ایم ایم اور 12 انچ کی رسیاں، جو کہ بہت مضبوط ہوتی ہیں، وہ بہت آسانی سے ٹوٹ رہی تھیں۔ یہ اس لیے ہوا کیونکہ مون سون سیزن میں تقریباً تین سے چار میٹر اونچی لہریں بنتی ہیں اور یہ لہریں جہاز کو 10 سے 12 فٹ  اوپر اٹھا کر نیچے پٹخ رہی تھیں۔ ایسی لہروں میں 12 انچ کا رسا بھی ایک دھاگے کے برابر ہوتا ہے۔‘

ہینگ ٹونگ 77 ہانگ کانگ کی ایک کمپنی کا ڈیک کارگو جہاز ہے جو 2010 میں بنایا گیا تھا۔ اس کا انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ منفرد سات ہندسوں کا نمبر 8662361 ہے۔

یہ جہاز پاناما میں رجسٹرڈ ہے، جس کا کل حجم 3600 ٹن اور لمبائی 98 میٹرز ہے۔ اس جہاز میں تقریباً 2257 ٹن تک سامان رکھنے کی جگہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سی میکس کے مالک عارف شیخ کے مطابق اس جہاز میں خالی کنٹینر موجود تھے، جن کا کل حجم 1000 ٹن تھا۔

جہاز کو نکالنے کے اخراجات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’تمام اخراجات جہاز کے مالک نے ہی اٹھائے ہیں لیکن چونکہ یہ کام قومی مفاد میں تھا اور چیلنج بن گیا تھا تو ہمارا اس میں کافی نقصان ہوا، مگر سب سے بڑی کامیابی یہ ہوئی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا۔ الحمدللہ اب لوگوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی معلوم ہوگیا کہ پاکستان میں بھی جہاز کی سیلویج ہوسکتی ہے۔‘

دوسری جانب سی میکس مرین سروسز کے چیف کنسلٹنٹ کموڈور ریٹائرڈ راشد اقبال نے اس حوالے سے بتایا: ’میں عید پر اسلام آباد میں تھا۔ جب یہ واقعہ ہوا تو سی میکس کے عارف شیخ نے مجھ سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا میں اس کام میں ان کی معاونت کرسکتا ہوں؟ یہ چونکہ ایک انتہائی مشکل کام تھا، اس لیے میں نے انہیں جوائن کیا۔‘

جہاز کو تاخیر سے نکالنے کے معاملے پر انہوں نے بتایا: ’اگست میں ہم نے کئی کوششیں کی تھیں لیکن ہمیں اس وقت اتنی امید نہیں تھی۔ وہ تمام کوششیں قومی اور بین الاقوامی زور پر کی گئی تھیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’یہ میری زندگی کا سب سے منفرد اور مشکل تجربہ تھا، اس میں ہمیں بہت زیادہ سیکھنے کا موقع ملا۔ درحقیقت ہم جہاز کو یاد کر رہے ہیں کیوں صبح سے لے کر شام تک ہم یہاں رہتے تھے، مگر اس سے زیادہ میں اپنے نیوی کے پرانے ساتھیوں کو یاد کر ریا ہوں جن سے مجھے یہاں ملنے کا کئی بار موقع ملا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہینگ ٹونگ کو یاد رکھیں گے مگر اس طرح سے نہیں، اس کا نکل جانا ہی بہتر تھا۔‘

خیال رہے کہ کراچی کے ساحل پر یہ بحری جہاز 20 جولائی کو ساحل کی ریت میں پھنسا تھا۔ اس جہاز کو نکالنے میں گڈانی شپ بریکنگ سے منسلک ایان شپ بریکنگ کمپنی نے بھی مرکزی کردار ادا کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان