کیا افغانستان امریکی سلطنت کا بھی قبرستان ثابت ہو گا؟

افغانستان کو ’سلطنتوں کا قبرستان‘ کہا جاتا ہے، اور ماضی میں اس کی وجہ سے برطانیہ اور سوویت یونین جیسی سلطنتوں کو زوال کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا اب امریکہ کی باری ہے؟

میجر جنرل کرس ڈوناہو  کابل سے روانہ ہونے والےامریکی طیارے میں سوار ہونے والے آخری امریکی فوجی تھے (تصویر: اے ایف پی)

کوئی سلطنت کیسے تباہ ہوتی ہے؟ اکثر و بیشتر پہلے سے زوال کا بڑھتا ہوا احساس موجود ہوتا ہے کہ اچانک کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو اسے پوری طرح تہہ و بالا کر دیتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سلطنت برطانیہ کا تقریباً دیوالیہ پٹ چکا تھا اور اس کا شیرازہ بکھرنے ہی والا تھا کہ امریکی حکومت نے قرض فراہم کرتے ہوئے اسے مکمل تباہی سے بچا لیا اور نئی سرد جنگ کی ہنگامی صورت حال نے بیرونی دنیا میں اسے بطور عالمی کھلاڑی اپنی اہمیت برقرار رکھنے کا موقع فراہم کر دیا۔

1956 میں نہرِ سوئز تنازعے کے موقعے پر پہلی بار امریکہ، سوویت یونین اور اقوام متحدہ نے برطانیہ پر مصر سے فوجیں واپس بلانے کے لیے دباؤ ڈالا اور تب یہ بات واضح ہو گئی کہ اب برطانیہ کی سامراجی قوت کے سنہرے دن لد چکے۔

بہت جلد مختلف ریاستوں پر سامراج سے آزادی کے دروازے کھل گئے۔ یاد رہے برطانیہ نے فرانس اور اسرائیل کے ساتھ مل کر اس وقت مصر پر حملہ کیا جب جمال عبد الناصر نے نہر سوئز پر زبردستی قبضہ کر لیا تھا۔

 افغانستان میں قیام امن کی نو سالہ ناکام کوششوں کے بعد فروری 1989 میں روس نے اپنی فوجیں یہاں سے واپس نکال لیں اور دنیا پر اپنا وقار اور سنجیدگی ظاہر کرنے کے لیے یہ اقدام نہایت احتیاط سے ترتیب دی گئی ایک تقریب کے ذریعے کیا۔ ٹینکوں کا ایک منظم جلوس شمالی سمت میں فرینڈشپ بریج کی طرف بڑھنے لگا، یہ پل دریائے آمو پر افغانستان اور ازبکستان کے درمیان پھیلا ہوا ہے جو سوویت ری پبلک سے جا ملتا ہے۔

سوویت کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بورس گروموف اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ نمودار ہوئے اور اس وقت کیمروں کو دکھانے کے لیے ان کے ہاتھ میں گلدستہ اور چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اعلان کیا کہ ان کے بعد اب پیچھے کوئی سوویت سپاہی نہیں رہ گیا۔ اگلے روز ملڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’دسیوں لاکھ سوویت عوام جس دن کا انتظار کر رہے تھے وہ آ چکا ہے۔ قربانیوں اور نقصانات کے باوجود ہم نے پوری طرح اپنی بین الاقوامی ذمہ داری ادا کر دی ہے۔‘

گوروموف کی فاتحانہ تقریر جارج ڈبلیو بش کی 2003 میں عراق پر حملے کے بعد کی گئی ’مہم مکمل ہو گئی‘ (Mission Accomplished) جیسی تو نہیں تھی لیکن اس سے ملتی جلتی اور کم از کم سوویت یونین میں بیٹھے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا کر ان کے حوصلے بحال کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہی کہ ریڈ آرمی افغانستان سے کسی شکست کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی مرضی سے واپس آ رہی ہے۔ کریملن اپنے پیچھے ایک آہنی دسترس والے وفادار افغانی، سابق پولیس آفیسر نجیب اللہ کو چھوڑ کر جا رہا ہے جو اس کی غیر موجودگی میں اس کی جگہ معاملات سنبھالیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں جنگی تجربے سے آشنا فوج بھی ہے جس کے پاس سوویت یونین کی فراہم کردہ تربیت اور اسلحہ موجود ہے۔

جبکہ دوسری طرف وہ گوریلا مجاہدین جشن کے موڈ میں تھے جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں سعودی عرب اور پاکستان نے مالی معاونت اور ہتھیاروں کی فراہمی سے تیار کیا تھا۔ افغانستان کے وہ شہر جن پر حکومتی گرفت مضبوط تھی انہیں چھوڑ کر باقی علاقوں میں ان کے لڑاکا گروہ بھاری تعداد میں اکٹھے ہونے لگے اور یہ بات واضح تھی کہ بہت جلد نجیب اللہ بھی مجبوراً ہار مان لیں گے اور کابل پر ان کا قبضہ ہو جائے گا۔ بہرحال وہ مزید اگلے تین سال تک ڈٹے رہے اور بالآخر اقتدار سے محروم ہوئے اور ملک ایک نئی خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ گیا۔

بین الاقوامی ذمہ داری کے تمام تر دعووں کے باوجود جس طرح کا افغانستان سوویت یونین اپنے پیچھے چھوڑ گیا وہ نہایت بھیانک تھا۔ ایک کروڑ 20 لاکھ کی اس کی مجموعی آبادی میں سے 20 لاکھ شہری جنگ کے دوران موت کے گھاٹ اتر گئے، 50 لاکھ سے زائد افراد ملک چھوڑ گئے اور مزید 20 اپنے ملک میں ہی بےگھر ہو کر رہ گئے۔ افغانستان کے کئی شہر اور قصبے تباہ ہو گئے، ملک کے آدھے سے زیادہ دیہی علاقے اور بستیاں کھنڈر بن گئیں۔

اگرچہ ممکن ہے اصلی تعداد کہیں زیادہ ہو لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق محض 15 ہزار یا تقریباً اس کے آس پاس سوویت سپاہی مارے گئے اور 50 ہزار زخمی ہوئے۔ البتہ سینکڑوں جنگی طیارے، ٹینک اور توپ خانے تباہ یا لاپتہ ہو گئے اور مالی مشکلات کا شکار سوویت یونین کو یہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ارب ڈالر ادھر لگانے پڑے۔ تاہم سوویت یونین کی اپنی اتنی بڑی غلطی کو معمولی جان کر صرف نظر کرنے کی کوششوں کے باوجود عام سوویت شہریوں نے جان لیا کہ افغانستان میں مداخلت ایک مہنگا سودا ثابت ہوا۔

افغانستان سے انخلا کے محض 18 مہینوں بعد اصلاح پسند سربراہ مملکت میخائل گورباچوف کے خلاف شدت پسند گروہ نے بغاوت کی کوشش کی۔ لیکن وہ اپنی طاقت اور عوامی تائید کا درست اندازہ کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے خلاف عوامی مظاہرے شروع ہو گئے اور ان کی بغاوت سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش ناکام ٹھہری لیکن اس کے فوری بعد خود ہی سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا۔ یقیناً تب تک افغانستان کی دلدل میں سوویت یونین کے پھنسنے کے علاوہ ملک کے اندر بہت سے عوامل سر اٹھا چکے تھے جنہوں نے طاقتور سامراجی قوت کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کر دیا تھا۔

اگرچہ دونوں ممالک کو ایک جیسی ذلت کا سامنا کرنا پڑا لیکن وقت ہی بتائے گا کہ افغانستان کے سلطنتوں کا قبرستان بننے کی پرانی کہاوت روس کی طرح امریکہ کے بارے میں بھی سچ ثابت ہوتی ہے کہ نہیں۔ میرے ہم پیشہ ساتھی روبن رائٹ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔

 15 اگست کو لکھی ان کی تحریر سے ایک اقتباس دیکھیے: ’امریکہ کی انتہائی بری پسپائی (افغانستان سے) کم سے کم بھی روس کے 1989 میں انخلا جتنی شرمناک ہے اور یہ ایسا واقعہ تھا جس کا نتیجہ سامراج اور اس کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ دونوں بڑی طاقتیں دم دبا کر اپنے پیچھے ابتر ماحول چھوڑ کر شکست خوردہ حالت میں نکلیں۔‘ جب میں نے امریکہ کے سابق ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف ڈیفنس جیمز کلیڈ سے اس معاملے پر ان کی رائے جاننا چاہی تو انہوں نے مجھے ای میل کہ ’یہ تباہ کن دھچکا ہے لیکن سامراج کا خاتمہ؟ ابھی نہیں اور شاید بہت لمبے عرصے تک ایسا امکان نہیں۔ اس خوفناک شکست سے امریکہ کے وقار پر گہری ضرب پڑی تاہم جغرافیائی سیاست میں بھی اسے اتنی ہی بڑی ناکامی کا سامنا ہے۔ کیا یہ تباہ کن دھچکا ہے؟ وسیع بین الاقوامی تناظر میں امریکہ کی اہمیت ابھی تک اسی طرح برقرار ہے۔ اس مسئلے پر میڈیا کی ضرورت سے زیادہ سنسنی خیزی کے باوجود جغرافیائی سیاست میں ہمارے بنیادی حریف چین کے ہاتھ کوئی ایسا گارگر نسخہ نہیں لگا جس کا مدوا نہ کیا جا سکے۔‘

کیا یہ درست ہے کہ وقتی طور پر امریکہ اپنی عسکری قوت اور اقتصادی طاقت برقرار رکھے گا؟ اگرچہ گذشتہ دو دہائیوں سے بتدریج یہ احساس بڑھا ہے کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی پوری طرح اپنے مفاد میں استعمال کرنے کے قابل نہیں۔ اپنے مضبوط نکات کو دانشمندی سے کام میں لا کر اپنا تسلط وسیع کرنے کے بجائے اس نے مسلسل اپنی صلاحیتوں کو ضائع کیا جس کے نتیجے میں اس کے ناقابل تسخیر ہونے کے تاثر پر زد پڑی اور دوسری قوموں کی نظر میں اس کا رتبہ بھی کم ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی ڈینگ جس میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ان ہتھیاروں کی تلاش میں بش کا عراق پر حملہ جو وہاں تھے ہی نہیں، اوباما کا لیبیا میں مداخلت کا فیصلہ اور شام کے متعلق غیر واضح ’ریڈ لائن‘ کی حکمت عملی، اور مذکورہ ملک میں ٹرمپ کی کردوں سے دھوکہ دہی اور 2020 میں طالبان کے ساتھ افغانستان سے امریکی دستوں کی واپسی کا معاہدہ شامل تھے، وہ پورے کرہ ارض پر دہشت گردی کا ناسور موثر طریقے سے پھیلانے کا سبب بن گئی۔ القاعدہ ممکن ہے آج اتنی طاقتور نہ ہو جتنی نائن الیون کے موقع پر تھی لیکن یہ اب بھی موجود ہے اور شمالی افریقہ میں اس کی شاخ ہے؛ داعش کی بھی وہاں اور موزنبیق میں شاخیں ہیں اور جیسا کہ پچھلی جمعرات کابل ایئر پورٹ پر خوفناک حملہ ہوا اس سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں بھی یہ موجود ہے۔ طالبان اقتدار میں ٹھیک اسی جگہ واپس آ چکے ہیں جہاں سے بیس سال قبل انہوں نے سفر شروع کیا تھا۔

سابق برطانوی وزیر روری سٹیورٹ، جنہوں نے پرائم منسٹر ٹریزا مے کی نیشنل سکیورٹی کونسل میں خدمات سر انجام دیں وہ مجھے بتاتے ہیں کہ انہوں نے افغانستان کی صورت حال کا ’خوف زدہ‘ ہو کر مشاہدہ کیا۔

پوری سرد جنگ کے دوران امریکہ کا نقطہ نظر مسلسل ایک رہا۔ انتظامیہ تبدیل ہوتی رہی لیکن اس سے دنیا کے بارے میں ان کے نقطہ نظر میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ پھر نائن الیون ہو گیا جس کے بعد امریکہ افغانستان اور باقی جگہوں پر دہشت گردی کے خلاف جوابی کارروائیوں کے لیے نئے نظریات لے کر آیا اور ہم جو اس کے اتحادی تھے اس کے ساتھ چل پڑے۔ لیکن یہاں اُس وقت سے لے کر اب تک مکمل عدم تسلسل دیکھنے کو ملا، جس طرح امریکہ 2006 میں دنیا کو دیکھ رہا تھا اور جس طرح آج دیکھ رہا ہے اس میں رات دن کا فرق ہے۔ افغانستان جو کبھی دنیا کے لیے مرکزی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا تھا اب اس کے بارے میں کہا گیا کہ ایسے مقامات سے دنیا کو کوئی خطرہ نہیں۔ اس کا مطلب یہی بنتا ہے کہ ساری سابقہ نظریہ سازی اب بیکار ہو کر رہ گئی ہے۔ اُن کے معاملات ان پر چھوڑتے ہوئے اچانک لاتعلقی کی روش عملی طور پر ان سب مقاصد پر پانی پھیر دیتی ہے جس کے لیے ہم مل کر بیس سال تک لڑتے رہے اور یہ سب دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان میں 15 برس تک ثقافتی ورثے، صحت اور تعلیم کے میدان میں خدمات سر انجام دینے والے ادارے ’ٹرکوئز ماؤنٹین فاؤنڈیشن‘ کے شریک بانی اور اس وقت ییل یونیورسٹی کے جیکسن انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل افئیرز سے وابستہ سینیئر محقق سٹیورٹ جو بائیڈن کے اس دعوے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکہ کی سٹریٹیجک ترجیحات کا رخ اب افغانستان جیسے مقامات کے بجائے چین کا پھیلاؤ روکنے کی طرف ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’اگر یہ بات درست ہوتی تو پھر امریکہ کی چین کے ساتھ محاذ آرائی کی حکمت عملی کا ایک واضح پہلو یہ ہونا چاہیے کہ ہم دنیا بھر میں اپنی موجودگی سے اپنی اہمیت کا احساس دلائیں گے بالکل جس طرح سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین کے خلاف اس نے کیا۔ اور اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مڈل ایسٹ اور باقی مقامات پر اپنی موجودگی برقرار رکھی جائے کیونکہ وہاں سے خود کو واپس لے آنا تو الٹا نقصان دہ ہو گا۔ آخر میں میرا یہی خیال ہے کہ افغانستان کے معاملے سے اپنی علیحدگی کو جواز دینے کے لیے امریکہ نے چین کو ترجیحات کا مرکز بتانے والی یہ ساری باتیں کی ہیں۔‘

اب ہم اپنے اس سوال کی طرف پلٹتے ہیں جو مسلسل کھٹک رہا ہے کہ کیا افغانستان میں طالبان کی واپسی کا مطلب ہے امریکی بالادستی کے سنہرے دن گزر چکے؟

اپنے غیر ذمہ دار پیش رو ٹرمپ کے امریکی دستوں کے انخلا سے متعلق فیصلے پر بائیڈن کا جمے رہنا فوری طور پر بظاہر تباہ کن نظر آتا ہے اور اس وجہ سے بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے امیج کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اب یہ سوال پوچھنا تو بنتا ہے کہ افغانستان اور اس کے دسیوں لاکھ قابل رحم آبادی کو دوبارہ طالبان کے حوالے کرنے کے بعد کیا امریکہ عالمی سطح پر اخلاقی بالادستی کا دعوی کر سکتا ہے؟ بہرحال ابھی واضح نہیں کہ یہ امریکہ کی اپنے اندر سمٹنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جیسا کہ سٹیورٹ کی رائے ہے یا جیسا کلیڈ کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر امریکہ بہت جلد خود کو کسی اور جگہ الجھا کر دنیا پر ثابت کرے گا کہ اس میں ابھی تک دم خم باقی ہے۔ اس وقت ایسا لگتا ہے کہ امریکی بالادستی کے دن پوری طرح ختم نہیں ہوئے لیکن وہ بات بھی نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ 

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا