20 سال بعد امریکہ اور طالبان: وِلن کون؟ ہیرو کون؟

ایک طرف نائن الیون پر جہاں اس سانحے میں مرنے والوں کی یاد کا سوگ ہو گا وہیں دوسری جانب فتح کا جشن منایا جا رہا ہو گا۔

11 ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے کے بعد عمارت کے ملبے کی صفائی کا کام کیا جا رہا ہے (تصویر: اے ایف پی فائل)

سانحے کے 20 سال اور انیسویں بَرسی۔ آج ایک بار پھر ’نائن الیون‘ آیا ہے مگر ایسے کہ دنیا ایک بار پھر بدل سی گئی ہے۔

20 برس قبل کے دہشت گردی کے سانحے نے امریکہ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیا تھا۔

مغرب میں اسلام اور مسلمان مخالف ایک ایسی شدید لہر اٹھی جس سے اقوامِ عالم پہلے نسبتاً وسیع  پیمانے پر ناواقف تھا۔

ردعمل میں مسلم دنیا میں امریکہ اور مغرب مخالف سوچ اور رَوّیہ پروان چڑھنے لگا۔ دہشت گردی پوری دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن کر ابھری۔

ایک طرف دہشت گردی کے نت نئے طریقے دریافت ہونے لگے تو دوسری جانب اِن سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں نئے نئے اور سخت سے سخت قوانین اور ہتھکنڈے اپنائے جانے لگے۔

جدید اور مہلک ہتھیار ایجاد ہونے لگے اور ہتھیاروں کے حصول کی جنونی دوڑ میں عالمی امن کمپرومائز ہونے لگا۔ بین الاقوامی تعلقات کی جہت اور ہیئت ہی بدل کر رہ گئی۔

ممالک کے آپسی تعلقات کی تیزی سے تبدیل ہوتی نوعیت نے اقوام کے مابین روابط پر گہرے اثرات مرتّب کیے جن میں اعتماد کا فقدان ایک بڑے عالمی مسئلے کے طور پر ابھرکر سامنے آیا۔

قومی سلامتی کے نام پر شخصی اور بین الاقوامی آزادیوں پر پابندیوں کے شکنجے کَسے جانے لگے۔ دنیا میں طاقت کا توازن ایک مخصوص پلڑے کی طرف جھکاؤ بڑھانے لگا جس کے نتیجے میں امریکہ ایک ناقابلِ شکست ناقابلِ تسخیر قوت کے طور پرمزید سے مزید مضبوط ہونے لگا۔

الغرض چشم زدن میں ’عالم کیا سے کیا ہو گیا‘ کے مصداق محض چند گھنٹوں کے ایک ہیبت ناک دلخراش واقعے نے دنیا کو180 ڈگری کے زاویے پر اِس برق رفتاری سے گھما ڈالا کہ 10 ستمبر، 2001 کی دنیا گویا ایک صدی پرانی معلوم پڑنے لگی۔

زمین کے دو مختلف کونوں پر رہائش پذیر دو قطعی مختلف اقوام - امریکی اور افغان - جو شناخت، قومیت، مذہب، رنگ، نسل، زبان، کلچر غرض ہر اعتبار سے ’قطب شمالی قطب جنوبی‘ کی مثال تھیں، ان دونوں اقوام کا مستقبل ایک دھاگے کے دو مخالف سِروں کی مانند اِک دوجے سے ایسے جُڑ گیا کہ دھاگہ ذرا سا بھی تناؤ سے کھنچا تو ایک سرے پر زیادتی اور دوجے پر کمی سے توازن کے بگاڑ کے پیدا ہونے کا خدشہ۔

ایک کا مجاہد دوسرے کا دہشت گرد۔ ایک کا فوجی دوسرے کا جابر۔ ایک کی جمہوریت دوسرے کی غاصبیت۔ ایک کی خلافت دوسرے کی آمریت۔

1980 کے حلیف 20 سال کے دوران حریف بن گئے تھے اور اب 20 سال بعد ہی ایک بار پھر وہی گردشِ دوراں دونوں فریقین کو حریف سے حلیف بننے کے سفر تک لے آئی ہے۔

افغان طالبان کا نائن الیون کے 20 سال مکمل ہونے اور انیسویں بَرسی کے موقعے پر افغانستان میں بزور طاقت حکومت پر قبضہ جمانے، حکومت بنانے کا اعلان کرنے سے لے کر حلف برداری کی تقریب تک کا سفر کیسی ستم ظریفی سے عبارت ہے۔

ایک طرف اِس بار نائن الیون پر جہاں اس سانحے میں مرنے والوں کی یاد کا سوگ ہو گا وہیں دوسری جانب فتح کا جشن منایا جا رہا ہو گا۔

ایک طرف پرانے زخم پھر سے رِس رہے ہوں گے تو دوسری جانب زخموں کے مندمل ہونے اِن پر مرہم رکھنے کا پرچار کیا جا رہا ہو گا۔

ایک طرف بحث ہو گی کہ 20 سالوں میں کیا کھویا کیا پایا تو دوسری جانب 20 سال بعد دوبارہ سے مطلق العنان اقتدار پانے کی سرشاری ہو گی۔

ایسے میں حقیقی سوال تو یہی ہے کہ دو دہائیوں بعد آج امریکہ اور طالبان جس مقام پر ہیں، اِن میں سے وِلن کون ہے اور ہیرو کون؟

ان 20 سالوں میں کس نے دنیا کو زیادہ نقصان پہنچایا یا نفع دیا ہے۔۔؟ اس اہم سوال کا جواب ڈھونڈنے میں شاید کئی سال یا کچھ دہائیاں مزید درکار ہوں جب صورتحال صحیح طور سے واضح ہو گی کہ کیا امریکہ کا افغانستان سے انخلا کا فیصلہ اور طریقہ دُرست تھا یا نہیں۔

اور جب اِس بات کا بھی تعین کرنے میں نسبتاً آسانی ہو گی کہ نَوّے کی دہائی کے طالبان اور آج کے طالبان میں کیا واقعی کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔

فی الحال تو طالبان کہتے ہیں کہ وہ دنیا کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں، سب کے ساتھ برابری کے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں، اِس کے لیے وہ نہ صرف امریکہ کی عالمی مدد حاصل کرنے کے خواہاں ہیں بلکہ چین کے معاشی ڈھانچے سے بھی مستفید ہونا چاہتے ہیں۔

فی الوقت معلوم پڑتا ہے کہ طالبان ہوشیاری کے ساتھ امریکہ اور چین میں سے کسی ایک فریق کے پلڑے میں جھکاؤ واضح نہیں کرنا چاہتے۔

وہ جانتے ہیں کہ ’بُوٹس آن گراؤنڈ‘ کی حد تک بھلے امریکہ افغان سرزمین سے انخلا کر چکا ہو لیکن خِطّے میں اُس کے سٹریٹیجک اثرات اور عمل دخل قطعی ختم نہیں ہوا۔

چین نے البتہ امریکی فوجی انخلا کو اپنے لیے افغانستان میں ایک ’اکنامک سٹریٹیجک بیٹل گراؤنڈ‘ (معاشی چال سازی کا میدانِ حرب) کے طور پر لیا ہے اور توقع ہے کہ افغان طالبان کی حکومت کو فوری تسلیم یا نہ کرنے سے قطعِ نظر چین افغانستان میں اپنے سفارتی اور معاشی مفادات کی داغ بیل جلد از جلد ڈال دے۔

یہی وجہ ہے کہ روس اور پاکستان کی طرح چین نے کابل میں اپنا سفارت خانہ بند نہیں کیا بلکہ نہ صرف اسے فعال رکھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے سفارتی عملے کو بھی افغانستان سے انخلا نہیں کروایا۔ جبکہ امریکہ اور بھارت کی مثال اس کے برعکس ہے۔

دوسری جانب طالبان ’دریا میں رہتے مگرمچھ سے بَیر نہیں رکھنا‘ کے مصداق اِسی خِطّے کا حِصّہ ہوتے ہوئے بھارت کے ساتھ بھی بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بھارت کا براہِ راست اثرورسوخ بھلے ہی افغانستان میں محدود ہو چکا ہو مگر بھارتی عناصر و ہمدردان کی کثیر تعداد ابھی افغانستان میں موجود ہے اور دوجے امریکہ اوربھارت کی سٹریٹیجک پارٹنرشپ بھی طالبان کو اِس اَمر پر مجبور رکھے ہوئے ہے۔

اِسی ضمن میں امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی جنوبی ایشیا آمد اور اپنے بھارتی ہم منصب سے پہلے ملاقات بھی انتہائی اہم ہے۔

بزور طاقت حکومت پر قبضہ جمانے کے تقریباً ایک ماہ کے اندر فی الحال تو افغان طالبان عملی طور پر دنیا کے سامنے اپنا ایک بدلا ہوا سانچہ اور ڈھانچہ واضح نہیں کر سکے۔

طالبان کی زبانی یقین دہانیوں کے برعکس، ہر گزرتے دن کے ساتھ افغان خواتین میں احساسِ عدم تحفظ بڑھتا جا رہا ہے۔

خواتین کے لیے تعلیم حاصل کرنے اور روزگار کے یکساں اور مرضی کے مواقع سکڑتے چلے جا رہے ہیں۔

ہر دن افغانستان کی سڑکوں پر ہوتے خواتین کے احتجاج معمول بن رہے ہیں اور گشت پر معمور طالبان کی طرف سے خواتین پرتشدد کی ویڈیوز سامنے آنے سے مہذب دنیا میں خواتین کے حقوق کو لے کر طالبان کے قول و فعل میں تضاد سے متعلق منفی تاثراتجَڑ پکڑ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان حکومت کی تشکیل میں بھی خواتین کو یک جنبشِ قلم عدم موجود کر دینا، اقوامِ عالم کے لیے اچھنبے کی نہ سہی مگر مایوسی کی علامت ضرور تھا۔

باوجود اِس کے کہ دنیا بھر سے طالبان کے لیے خواتین کے حقوق کو مدِّنظر رکھنے اور فوقیت دینے کے پیغامات اور دباؤ کا سلسلہ بھرپور رہا تھا یہاں تک کہ افغان طالبان کی حکومت سازی میں سہولت کاری کے کردار ادا کرنے والوں کی بھی یہی سوچ رہی تھی۔

دوسری جانب گذشتہ 28 دِنوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور صحافیوں پر جبر کے واقعات رپورٹ ہونے نے بھی افغان طالبان کے ابتدائی دعوؤں کی حقیقت عیاں کی ہے۔ طالبان اگر واقعی مہذب دنیا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، امریکہ کی عالمی مدد کے خواہاں ہیں تو اِس قسم کے واقعات کی روک تھام اور مستقبل کے حوالے سے اِن کا جلد اوردیرپا سَدِّباب ہی واحد حل ہے۔

وگرنہ آئندہ 20 برس بعد کے تاریخ دانوں اور لکھاریوں کے لیے اِس بات کا تعین کرنے میں کوئی دقت نہیں رہے گی کہ افغانستان میں وِلن کون تھا اور ہیرو کون۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ