طالبان کی نئی اور پرانی کابینہ، کون کیا اور کہاں سے ہے؟

نئی افغان کابینہ میں شامل 33 وزرا میں سے زیادہ تر کا تعلق قندھار اور پکتیا صوبے سے ہے، جو ان علاقوں کی طالبان تحریک میں اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

(دائیں سے بائیں) شیر محمد عباس ستانکزئی، ملا عبدالغنی برادر اور ذبیح اللہ مجاہد (تصاویر: اے ایف پی)

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں افغانستان میں اپنی حکومت کی عبوری کابینہ کا اعلان کیا ہے، جس میں کوئی خاتون شامل نہیں ہیں۔

نئی افغان کابینہ میں شامل 33 وزرا میں سے زیادہ تر کا تعلق قندھار اور پکتیا صوبے سے ہے، جو ان علاقوں کی طالبان تحریک میں اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 

 نئی افغان کابینہ کے 20 اہم وزرا سے متعلق تفصیلات یہ ہیں۔

ملا محمد حسن اخوند، وزیراعظم

طالبان کی عبوری حکومت کے سربراہ مقرر کیے جانے والے ملا حسن اخوند ویسے تو کم ہی منظرعام پر آئے ہیں، تاہم وہ افغان طالبان تحریک کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں اور ماضی میں افغان طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے خاص مشیروں میں شامل رہے ہیں۔

وہ اس وقت افغان طالبان کی سب سے اہم ’رہبری شوریٰ‘ (لیڈر شپ کونسل) کے سربراہ بھی ہیں۔

رہبری شوریٰ طالبان کے بڑے اور اہم فیصلے کرتی ہے۔ عام زبان میں یہ طالبان وزرا کی کابینہ ہے اور مختلف معاملات پر فیصلوں کا اختیار اسی شوریٰ کے پاس ہوتا ہے۔

ملا حسن اخوند افغانستان کے صوبہ قندہار کے پنجاوائی ضلع، پاشمول گاؤں میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق پشتونوں کے بابر قبیلے سے ہے۔

وہ طالبان کے سابق دورِ حکومت میں وزرا کی کابینہ کے سربراہ بھی تھے اور اسی دور میں وزیر خارجہ، قندہار کے گورنر اور ملا عمر کے سیاسی مشیر بھی رہ چکے ہیں جبکہ 2001 میں افغان طالبان کی حکومت کے خاتمے سے پہلے افغانستان کے قائم مقام صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔

امریکی سرکاری ادارے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ملا حسن اخوند نے دینی تعلیم پاکستان کے مدرسوں میں حاصل کی اور بعد میں طالبان حکومت میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔

رپورٹ کے مطابق ملا حسن اخوند نے سویت یونین کے خلاف جنگ میں حزب اسلامی کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا تھا۔

امریکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملا حسن اخوند نے ہی 2001 میں افغانستان کے صوبہ بامیان میں بدھا کے تاریخی مجسمے کو توڑنے کا حکم بھی جاری کیا تھا جبکہ طالبان رینک میں وہ ایک سخت اور تنظیم کے ساتھ انتہا درجے کے مخلص رکن سمجھے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں شامل شخصیات میں ملا حسن اخوند کا نام شامل ہے۔

ملا حسن اخوند کے حوالے سے امریکہ کی نیویارک یونیورسٹی کے ایک مقالے میں درج ہے کہ ملا حسن اخوند جب صدر تھے تو وہ اخبارات کے تراشوں کو زمین پر گرنے اور ان کو اشیا کی پیکنگ میں استعمال کرنے کے سخت خلاف تھے۔

مقالے کے مطابق ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ ملا حسن اخوند طالبان کے سابق سربراہ ملا عمر کے ساتھ اخبارات کی پرنٹنگ پر پابندی لگانے کے حوالے سے بات کرنے کو تیار تھے تاکہ ان اخبارات کے صفحات کی بے حرمتی نہ ہوسکے۔

اسی مقالے میں لکھا گیا ہے کہ ملا حسن اخوند کہتے تھے: ’افغانستان کی زیادہ تر آبادی نا خواندہ ہے اور ’شریعت ریڈیو‘ ان کے لیے کافی ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی اخبار کا ایک صفحہ نہیں پڑھا کیونکہ اخبار کو پڑھنے پر وقت  ضائع کرنے کے بجائے میں قرآن پڑھتا ہوں۔‘

ملا عبدالغنی برادر، نائب وزیراعظم

ملا عبد الغنی برادر افغانستان کے صوبے اروزگان میں 1968 میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق پشتونوں کے درانی قبیلے سے ہے۔ ملا برادر نے سویت یونین کے خلاف جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔ انہوں نے 1992 میں ملا عمر کے ساتھ طالبان کی بنیاد رکھی تھی، جس کے لیے قندھار میں ایک مدرسہ کھولا گیا تھا۔ طالبان کے پہلے امیر، ملا عبدالغنی برادر کے داماد تھے۔

ملا عبد الغنی برادر طالبان کی 1996 سے 2001 تک حکومت میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ طالبان حکومت کا تختہ الٹنے کے وقت وہ افغانستان کے وزیر دفاع کی کرسی پر فائز تھے، بعد میں انہوں نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔  ملا عبد الغنی برادر کو 2010 میں پاکستان کے شہر کراچی سے پاکستانی حکام نے گرفتار کیا اور 2018 میں جب دوحہ میں افغان طالبان اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات شروع ہو رہے تھے، تو اس سے پہلے انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اس وقت بتایا تھا کہ ملا برادر کو ایک اعلیٰ سطح کی گفت و شنید کے بعد دوحہ میں طالبان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے سے پہلے رہا کیا گیا تھا۔

سراج الدین حقانی، وزیر داخلہ

حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی طالبان سربراہ کے ڈپٹی یا نائب امیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ وہ حقانی نیٹ ورک کے سرکردہ رہنما ہیں۔ اس تنظیم کو امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور ان کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر لگائی گئی ہے۔

خلیفہ کے نام سے پکارے جانے والے سراج الدین حقانی سوویت یونین کے ساتھ جنگ میں لڑ چکے ہیں۔ ان کا تعلق پکتیا صوبے کے شمال نامی علاقے سے ہے اور ان کا قبیلہ زدران ہے۔ ان کے مرحوم والد مولوی یونس خالص کی جہادی جماعت سے منسلک تھے۔ 

امریکی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے مطابق سراج الدین حقانی 2008 میں کابل میں ایک ہوٹل پر حملے میں امریکہ کو مطلوب ہیں، جس میں امریکی شہری سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکہ کی  سٹین فورڈ یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق ممکنہ طور پر 45 سالہ سراج الدین حقانی کو ان کے والد کی وفات کے بعد حقانی نیٹ ورک کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ حقانی نیٹ ورک کا نام 1975 میں سامنے آیا تھا۔

 

سراج الدین حقانی مولوی ہبت اللہ کے نائب کے طور پر کام کرتے ہیں اور افغانستان کے مشرقی صوبوں کی نگرانی کرتے ہیں، لیکن وہ بہت کم منظر عام پر آئے ہیں۔ گذشتہ سال سراج الدین حقانی کا نیویارک ٹائمز میں ایک کالم بھی چھپا، جس پر پوری دنیا میں کچھ لوگوں نے اخبار پر تنقید جبکہ بعض نے دفاع کیا تھا۔

ملا محمد یعقوب، وزیر دفاع 

مولوی محمد یعقوب طالبان کے بانی سربراہ ملا عمر کے بڑے بیٹے ہیں، جن کی عمر تقریباً 35 سال ہے اور وہ افغان طالبان کے سربراہ ہبت اللہ کے نائب یعنی ڈپٹی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ مولوی محمد یعقوب کا حال ہی میں ایک آڈیو پیغام بھی سامنے آیا تھا، جس میں وہ طالبان جنگجوؤں کو ہدایات دے رہے تھے جبکہ اس کے علاوہ ابھی تک مولوی یعقوب منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔

محمد یعقوب افغان طالبان کے ملٹری چیف بھی ہیں اور جتنے بھی جنگجو افغانستان میں لڑتے ہیں، ان کی سربراہی میں ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ امریکہ کے ایک ادارے فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ملا یعقوب نے 2015 میں طالبان کے سابق سربراہ ملا اختر منصور کی بطور سربراہ تعیناتی کی مخالفت بھی کی تھی، تاہم بعد میں انہیں طالبان کی کمانڈ میں اہم عہدہ دیا گیا تو انہوں نے اختر منصور کو بطور سربراہ مان لیا۔

ان کا تعلق ہوتک قبیلے سے ہے۔

ملا امیر خان متقی، وزیر خارجہ

ملا امیر متقی ہلمند صوبے کے نادعلی ضلع کے رہائشی ہیں لیکن افغان اسلامک پریس کے مطابق دراصل پکتیا کے زرمت ضلع کے ہیں اور ان کی قوم کٹوازی ہے۔ وہ روسی مزاحمت کے دنوں میں دیگر کئی طالبان رہنماؤں کی طرح مرحوم محمدی کی پارٹی کے رکن تھے۔وہ جب 33 سال کے تھے تو وہ طالبان تحریک کی طرف راغب ہوئے تھے اور اس وقت غزنی صوبے سے ہلمند صوبہ منتقل ہوگئے تھے۔

سابق طالبان حکومت میں وہ اطلاعات کی وزارت کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔

متقی طالبان کے کڑے وقت میں ترجمان بھی رہے اور طالبان کی نظریاتی پرچار کرنے والی ٹیم کے اہم رکن تھے۔

انہیں طالبان حکومت میں اقوام متحدہ کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔ 

وہ بین الافغان مذاکرات کی ٹیم میں بھی شامل تھے۔ ان کا نام بھی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔

مولوی امیر خان متقی وزیر خارجہ بننے سے پہلے طالبان کے ’رہنمائی و دعوت کمیشن‘ کے سربراہ تھے۔ 

طالبان کے سابق دور حکو مت میں متقی نے حکومت کی ترجمان کے حیثیت سے بھی کام کیا ہے اور بعد میں ان کو وزیر تعلیم بنایا گیا۔ متقی کو طالبان رینک میں نرم لہجے اور ایک اچھے مقرر کے طور پر مانا جاتا ہے۔

شیر محمد عباس ستانکزئی، نائب وزیر خارجہ

عباس ستانکزئی افغان صوبہ لوگر میں 1963 میں ایک پشتون خاندان میں پیدا ہوئے اور بعد میں زیادہ عرصے تک کابل میں مقیم رہے۔ عباس ستانکزئی طالبان کے سابق دور حکومت میں وزیرخارجہ تھے جبکہ اس دور میں ستانکزئی پبلک ہیلتھ کے وزیر بھی رہے ہیں۔

عباس ستانکزئی بعد میں طالبان کے قطر دفتر میں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ مقیم رہے اور کچھ عرصہ کے لیے قطر دفتر کے سربراہ بھی رہے لیکن 2015 میں انہوں نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

افغان بائیوز ڈاٹ انفو نامی ویب سائٹ کے مطابق ستانکزئی نے بھارت کی ایک ملٹری اکیڈمی سے ملٹری تربیت حاصل کی ہے۔ یہ اکیڈمی 70 کی دہائی میں افغان فوج کے اہلکاروں کو ملٹری تربیت دیتی تھی۔ عباس سوویت جنگ میں سوویت یونین کے فوجیوں کے خلاف ’حریت الانقلابی اسلامی‘ نامی جماعت کے پلیٹ فارم سے لڑے تھے جبکہ بعد میں وہ عبدالرسول سیاف کی بنائی گئی جماعت ’اتحاد اسلامی‘ میں شامل ہوئے اور ساؤتھ ویسٹرن صوبوں میں سوویت یونین کی فوجوں کے ساتھ بطور کمانڈر لڑتے رہے۔

ستانکزئی کو زیادہ تر غیر ملکی وفود سے مذاکرات کے لیے چنا جاتا ہے کیونکہ طالبان رینک میں انہیں گفتگو کرنے اور انگریزی بولنے کی مہارت حاصل ہے۔ عباس ستانکزئی کو شروع میں امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے مذاکراتی ٹیم کا سربراہ بھی بنایا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں تبدیل کرکے اس کی سربراہی عبدالحکیم حقانی کو دے دی گئی تھی۔

خیراللہ خیر خواہ، وزیر اطلاعات 

پچپن سالہ خیر اللہ خیرخواہ بھی عبدالحق وثیق کے ساتھ گوانتانامو میں قید رہے، جنہیں ایک امریکی فوجی کے بدلے 2014 میں رہا کیا گیا تھا۔

خیر اللہ طالبان کے دور حکومت میں وزیر داخلہ تھے اور افغانستان کے اہم صوبے کابل کے گورنر بھی رہے ہیں۔ وہ امریکہ کے ساتھ طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے رکن تھے۔

خیر اللہ نے طالبان تحریک بننے کے کچھ عرصے بعد 1994 میں اس میں شمولیت اختیار کی تھی اور بعد میں طالبان حکومت میں ایک اہم رہنما کے طور پر ابھرے تھے۔ طالبان تحریک میں شمولیت سے قبل وہ روسی مداخلت کے خلاف مولوی محمد نبی محمدی اور مولوی یونس خالص کے گروپس سے منسلک تھے۔

خیر اللہ صوبہ قندھار میں 1967میں پیدا ہوئے اور وہ حامد کرزئی کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا تعلق بھی درانی قبیلے کی پوپلزئی شاخ سے ہے۔ 

اے پی کی ایک رپورٹ کے مطابق خیر اللہ نے امریکی تفتیشی افسران کو گرفتاری کے بعد بتایا تھا کہ وہ کرزئی کے دوست ہیں اور امریکہ کے افغانستان میں فوجی دستے داخل ہونے کے بعد ہتھیار ڈالنے اور اگلی حکومت میں جگہ بنانے کے خواہاں تھے۔

خیر اللہ بعد میں پاکستان میں پکڑے گئے تھے، جب وہ افغانستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان کا نام بھی اقوام متحدہ کی پابندیوں والی لسٹ میں شامل ہے۔

ملا عبدالحق وثیق، انٹیلی جنس چیف

ملا عبدالحق وثیق افغانستان کے صوبہ غزنی میں 1971 میں پیدا ہوئے اور وہ گوانتاناموبے میں تقریباً 12 سال قید رہے، تاہم 2014 میں انہیں چار دیگر ساتھیوں سمیت جیل سے رہا کردیا گیا اور اب وہ طالبان کے قطر دفتر میں مقیم ہیں۔

وثیق کی رہائی کے بدلے طالبان کی قید میں موجود ایک امریکی سپاہی بوی برگداہل کو رہا کیا گیا تھا۔ امریکہ نے وثیقکو القاعدہ کے ساتھ مبینہ تعلقات کی بنا پر گرفتار کیا تھا۔

عبدالحق وثیق اور گوانتامو سے رہا ہونے والے ان کے دیگر چار ساتھی امریکہ کے ساتھ طالبان کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے۔

عبدالحق وثیق کے حوالے سے وکی لیکس پر شائع امریکی وزارت دفاع کی کچھ دستاویزات میں بھی تفصیلات سامنے آئی تھیں، جن کے مطابق گوانتانامو جیل میں اس وقت قید عبد الحق وثیقنے ابتدائی دینی تعلیم 1984 میں خیبر پاس کے قریب ایک مدرسے سے حاصل کی اور بعد میں کوئٹہ کے ایک مدرسے میں داخلہ لیا۔

دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وثیق غزنی واپس چلے گئے اور وہاں پر ایک مسجد میں امام کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

ملا عبدالسلام حنفی علی مردان قل، نائب وزیر اعظم 

ملاعبداسلام حنفی (مختلف دستاویزات میں ان کا نام ملا عبدالسلام حنفی علی مردان قل ہے) طالبان تحریک میں ایک سرگرم رکن ہیں، جن کا تعلق ازبک نسل سے ہے۔ 

حنفی طالبان کے قطر دفتر میں سیاسی معاملات کے نائب مشیر ہیں یعنی وہاں پر ملا عبدالغنی برادر کے نائب تھے۔ حنفی کا تعلق افغانستان کے صوبہ جوزجان کے درزاب ضلع سے ہے۔ حنفی نے دینی تعلیم پاکستان کے مدرسے سے حاصل کی ہے اور طالبان کے سابق دور حکومت میں نائب وزیر تعلیم رہے ہیں۔

ملا محمد عیسیٰ اخوند، وزیر معدنیات و پیٹرولیم

ملا عیسیٰ اخوند کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندہار سے ہے اور طالبان کے سابق دور حکومت میں معدنیات و صنعت کے وزیر تھے۔ ملا عیسیٰ پشتونوں کے نورزئی قبیلے سے ہیں اور طالبان تحریک کے ساتھ انتہائی مخلص سمجھے جاتے ہیں۔

ملا نور محمد ثاقب، وزیر حج و اوقاف

ملا نور محمد ثاقب طالبان کے سابق دور حکومت میں سپریم کورٹ کے ڈائریکٹر تھے اور طالبان رینک میں ان کو طالبان کے نکتہ نظر کا دفاع اچھے طریقے سے کرنے کا گر حاصل ہے۔ طالبان کے سابق دور حکومت میں جب بامیان میں تاریخی بدھا کو گرایا تھا تو اس وقت نور محمد ثاقب مختلف طریقوں سے اس عمل کے دفاع میں سامنے آتے تھے۔

حمید اللہ اخونذادہ، وزیرسول ایوی ایشن و ٹرانسپورٹ

حمید اللہ اخونذادہ طالبان کے سابق دور حکومت میں انسداد منشیات کے وزیر تھے۔ حمید اللہ کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندہار سے ہے۔ سویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران حمیداللہ پاکستان کے مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ حمید اللہ کو انگریزی زبان پر عبور بھی حاصل ہے۔

ملا فضل مظلوم ، معاون وزیر دفاع 

محمد فضل صوبہ اروزگان میں 1967 میں پیدا ہوئے۔ فضل بھی ان پانچ طالبان رہنماؤں میں شامل تھے، جنہیں 2014 میں ایک امریکی فوجی کی رہائی کے بدلے گوانتاموبے سے رہا کیا گیا تھا۔

محمد فضل طالبان دور میں آرمی چیف رہے اور شمالی اتحاد اور امریکی فوجیوں کے خلاف بھرپور طریقے سے لڑتے رہے۔ محمد فضل رہائی کے بعد طالبان کے قطر دفتر میں رہے اور انہیں امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کا رکن بنایا گیا۔

ملا نوراللہ نوری، وزیر سرحدات و قبائلی امور

پچپن سالہ ملا نور اللہ نوری کو بھی گوانتاموبے سے اپنے پانچ ساتھیوں سمیت امریکی فوجی کے رہائی کے بدلے رہا کر دیا گیا تھا۔ 

نوری کا تعلق افغانستان کے صوبہ زابل سے ہے اور اسی صوبے کے شاجوہی گاؤں میں 1967 میں پیدا ہوئے۔

نوراللہ نوری کو امریکہ نے 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ وہ 13 برس تک گوانتناموبے میں قید رہے۔ وکی لیکس پر موجود گوانتانامو بے کے قیدیوں کے حوالے سے تفصیل کے مطابق نوراللہ نوری طالبان کے دور حکومت میں صوبہ بلخ، بغلان اور لغمان کے گورنر رہے تھے جب کہ امریکہ نے انہیں لوگوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

نوراللہ نوری طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد شمالی اتحاد کے کمانڈر رشید دستم سے بھی لڑے تھے اور شمالی صوبوں کی طرف سے نوراللہ طالبان کے کمانڈر تھے۔ امریکہ سے رہائی کے بعد وہ طالبان کے قطر دفتر پہنچ گئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وکی لیکس پر موجود مزید معلومات کے مطابق نوراللہ نے ابتدائی دینی تعلیم آبائی گاؤں سے حاصل کی تھی اور ان کے والد مقامی مسجد میں امام تھے۔

نوراللہ نوری ابتدائی دنوں میں اپنے والد کے ساتھ کھیتی باڑی کے پیشے سے وابستہ تھے اور گاؤں میں ٹیلر کے ہنر سے بھی وابستہ رہے۔

نوراللہ نوری 1999 میں کابل گئے تھے اور وہاں پر طالبان سیکورٹی بیس کے انچارج ملا یونس کے سکیورٹی گارڈ بھرتی ہوئے۔

ایک مہینے بعد وہ جلال آباد گئے اور وہاں پر اس وقت جلال آباد کے گورنر مولوی کبیر کے ساتھ بطور سکیورٹی گارڈ کام شروع کیا اور آٹھ مہینے تک وہ کام کرتے رہے۔ بعد میں صوبہ بلخ چلے گئے اور وہاں پر 18 مہینے کے بعد بلخ کے گورنر تعینات کیے گئے۔

جنرل دستم کی جانب سے بلخ صوبے میں مبینہ قتل عام کے دوران نوراللہ نوری بلخ کے گورنر تھے جو بعد میں جنرل دستم کے سامنے سرینڈر ہوئے تھے۔

عبدالحکیم حقانی،وزیر قانون

عبد الحکیم حقانی افغان صوبہ قندھار میں 1967 میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق قندھار کے ایک پشتون قبیلے سے ہے۔ عبد الحکیم طالبان کے ’چیف جسٹس‘ بھی رہے ہیں۔عبد الحکیم خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں واقع مدرسہ حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں جب کہ بعد میں انہوں نے افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ایک مسجد کے امام کے طور پر بھی فرائض انجام دیے۔

عبدالحکیم کا شمار طالبان کے سخت نظریات رکھنے والے رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ مختلف تحقیقی مقالوں کے مطابق عبد الحکیم طالبان سربراہ ہبت اللہ کے قریبی اور اعتماد کرنے  والے ساتھی مانے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ طالبان کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی بعد میں عبدالحکیم حقانی کو دے دی گئی تھی۔

قاری فصیح الدین، آرمی چیف 

قاری فصیح الدین طالبان کے چند مشہور اور بہادر کمانڈروں میں شمار کیا جاتا ہے اور طالبان کے اعلیٰ رینک کے کمانڈروں میں یہ واحد کمانڈر ہیں جن کا تعلق تاجک نسل سے ہے۔ 

قاری کا تعلق افغانستان کے صوبہ بدخشان سے ہے اور حال ہی میں صوبہ پنج شیر پر قبضہ کرنے کے لیے جانے والے طالبان دستے کی سربراہی کر رہے تھے۔ قاری فصیح ماضی میں بدخشان صوبے گورنر اور افغانستان کے شمالی صوبوں کے کمانڈر تھے۔

ملا ہدایت اللہ بدری(گل آغا)، وزیر خزانہ

ملا ہدایت اللہ کا تعلق صوبہ ہلمند سے ہے اور پشتونوں کے اسحٰق زئی قبیلے سے ان کا تعلق ہے۔ 

یورپی یونین کی ایک دستاویز کے مطابق ملا ہدایت طالبان کے اس کونسل کے رکن بھی ہیں، جو بلوچستان سے زکوۃ اکھٹی کرتی ہے۔

لگ بھگ پچاس سالہ ملا ہدایت 2013 سے طالبان کے فنانشل کمیشن کے سربراہ بھی تھے اور اب ان کو وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے۔ 

ملا ہدایت طالبان تحریک کے بانی ملا محمد عمر کے قریبی ساتھی تھے اور ان کے پرنسپل فنانس آفیسر بھی رہے ہیں۔

قاری دین محمد حنیف، وزیر اقتصادی امور

قاری دین محمد افغانستان کے صوبہ بدخشان میں 1955 میں پیدا ہوئے ہیں اور ان کا تعلق تاجک نسل سے ہے۔

طالبان کے سابق دور حکومت میں دین محمد منصوبہ بندی و اعلیٰ تعلیم کے وزیر رہے۔ دین محمد طالبان کی رہبری شوریٰ کے رکن بھی ہیں اور تخار اور بدخشان صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

قاری دین محمد افغان طالبان کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے رکن بھی تھے اور طالبان رہنماؤں میں اعلیٰ عہدے پر فائز چند ہی تاجک رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد، نائب وزیر اطلاعات

شاید طالبان میں کم ہی رہنما ہوں گے جو عالمی میڈیا میں جانے جاتے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد ایک دہائی سے زائد تک طالبان کے ترجمان تھے لیکن گذشتہ 20 سالوں میں منظرعام پر نہیں آئے تھے۔

ذبیح اللہ مجاہد پہلی مرتبہ تب منظرعام پر آئے جب طالبان نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کیا اور ذبیح اللہ مجاہد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ 

بعض صحافی اور مبصرین یہ بھی کہتے تھے کہ ذبیح اللہ ایک نہیں بلکہ مختلف تھے لیکن ترجمان کی حیثیت سے نام ذبیح اللہ کا ہی چلتا تھا۔

نجیب اللہ حقانی، وزیر ٹیلی کمیونیکیشن 

نجیب حقانی کا تعلق افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع شیگال سے ہے۔ نجیب اللہ طالبان کے سابق دور حکومت میں نائب وزیر خزانہ تھے اور 2014 میں ان کا نام اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف شخصیات پر پابندیوں کی لسٹ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا