لاہور میں معروف پراپرٹی تائیکون ملک ریاض کی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے گذشتہ رات 88 لاکھ روپے سے زائد بجلی کے بل ادا نہ کرنے پر چار بلاکس کے دفاتر کی بجلی منقطع کر دی تھی جو جمعے کی شام کو بحال کر دی گئی۔
ترجمان لیسکو کے بقول، ’بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے بجلی کا بل ادا کر دیا ہے، لہذا بجلی بحال کر دی گئی ہے۔‘
بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو ملک ریاض کے خلاف نیب کی جانب سے کارروائیوں کے بعد بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو انتظام چلانے میں دشواری کا سامنا ہے۔ کراچی، اسلام آباد اور لاہورمیں بنائی گئی بحریہ ٹاون کی سکیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
اس سے قبل چیف ایگزیکٹو لیسکو آفس کی جانب سے میڈیا کو جاری وضاحت میں کہا گیا تھا کہ ’بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی پر لیسکو نے بحریہ ٹاؤن کی بجلی کاٹ دی ہے۔ چار بل 21 نومبر تک ادا کرنا تھے، جن پر 88 لاکھ روپے سے زیادہ رقم واجب الادا ہے۔ لیکن مقررہ تاریخ تک بل ادا نہیں کیے گئے۔ اس کے علاوہ بھی بحریہ ٹاؤن نے لیسکو کے 35 کروڑ کے بل ادا کرنے ہیں۔‘
بحریہ ٹاؤن لاہور انتظامیہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’بجلی کے بل جس اکاؤنٹ سے ادا ہوتے تھے، اسے نیب نے سیل کر رکھا ہے۔ لیسکو بحریہ کو بجلی فروخت کرتا ہے اور بحریہ سوسائٹی خود صارفین سے بجلی کے بل جمع کر کے لیسکو کو ادائیگی کرتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا، ’ہم نے لیسکو کی جانب سے گذشتہ روز جمعرات کو بحریہ ٹاؤن کی تمام سائٹس کی بجلی منقطع کیے جانے کے خلاف متعلقہ عدالت گئے۔ عدلت نے آج جمعے کو بجلی بحال کرنے کے احکامات دے دیے ہیں۔‘
بحریہ ٹاؤن لاہور کے رہائشی وحید اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بحریہ ٹاؤن لاہور میں بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری ہے کل سے کئی گھنٹوں بعد صرف آدھا گھنٹہ بجلی آتی ہے جس کے باعث لوگ شدید پریشان ہیں۔ وہ معمول کے مطابق کئی سالوں سے بل دے رہے ہیں ملک ریاض سے اگر مسئلہ ہے تو اس کی سزا عام افراد کو کیسے دی جا سکتی ہے؟ گھروں میں چھوٹے بچے بزرگ بجلی کی بندش سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک اور شہری ایان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کل رات سے لائٹ نہیں ہے۔ کم از کم سٹریٹ لائٹس تو آن رکھ لیں، وہ بھی نہیں آن کی ہوئیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی بھی نہیں آ رہا کیوں کہ بجلی آتی ہے تو موٹر چلتی ہے۔ کپڑے استری نہیں کر سکتے، دفتر جانے کے بھی قابل نہیں ہیں۔‘
لیسکو حکام کے مطابق جب تک بل ادا نہیں کیے جاتے، بجلی بحال نہیں کی جائے گی۔
رواں برس نیب کے حکم کے مطابق بحریہ ٹاؤن کی اربوں کی جائیدادیں نیلام ہوئی تھیں۔ اس کے ردِ عمل میں ملک ریاض نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بحریہ ٹاؤن مکمل طور پر بند ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ہماری رقوم کی روانی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، روزمرہ سروسز فراہم کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔
’ہم اپنے دسیوں ہزاروں سٹاف کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں اور حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم پاکستان بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرامیاں مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ُ
ملک ریاض نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’سنجیدہ مکالمے اور باوقار حل کی طرف واپسی‘ کا موقع دیا جائے تاکہ معاملہ کسی انجام تک پہنچ سکے۔