ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے دفتر نے کہا کہ ترک رہنما نے اتوار کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر بات کی اور یمن کے دھڑوں کے درمیان بات چیت میں مدد کی پیشکش کی۔
یمن میں 2014 میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے جنگ جاری ہے، جو سعودی مداخلت کی وجہ بنی۔
لیکن یمن میں ایک نئے داخلی تنازعہ میں کسی حد تھع حکومت کے ماتحت حریف مسلح دھڑوں کے درمیان ہے، جنہیں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی الگ الگ حمایت حاصل ہے۔
سعودی عرب نے گذشتہ ماہ 30 دسمبر کو یمن کے بندرگاہی شہر المکلا پر ایک محدود فضائی حملہ کیا تھا، جس کا ہدف ہتھیاروں کی وہ کھیپ تھی جو متحدہ عرب امارات سے یہاں پہنچائی گئی تھی۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یمنی علیحدگی پسند گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مملکت کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کرے، جسے سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کے لیے ’سرخ لکیر‘ قرار دیا۔
تاہم متحدہ عرب امارات نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کا مکمل احترام کرتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بعدازاں اسی روز متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ وہ اپنی صوابدید پر یمن میں موجود اپنے باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی اہلکاروں کی تعیناتی کا خاتمہ کر رہی ہے، تاکہ اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطہ قائم رہے۔
ترک صدر کے دفتر کے مطابق اردوغان نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران بتایا کہ ترکی ’فریقین کو اکٹھا کرنے کی کوششوں میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔‘
اردوغان نے کہا کہ انقرہ یمن اور صومالیہ دونوں میں پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی علاقائی سالمیت کا تحفظ علاقائی استحکام کے لیے بہت ضروری ہے۔
یہ فون کال سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے یمن کے جنوبی دھڑوں کو ریاض میں ہونے والے ’مذاکرات‘ میں شرکت کے لیے بلانے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات برسوں سے یمن کی حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں مختلف دھڑوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور پڑوسی ملک کی طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی میں مداخلت کرتے رہے ہیں۔