پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں یمن کشیدگی کے تناظر میں خطے کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے امن کے قیام کے لیے سفارت کاری پر زور دیا گیا۔
دفتر خارجہ نے جمعے کو جاری کیے گئے بیان میں بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ سے بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ خطے سے تعلق رکھنے والے تمام فریق کسی بھی اشتعال انگیز قدم سے گریز کریں اور علاقائی امن اور استحکام کی خاطر مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔
پاکستانی اور سعودی وزیر خارجہ کی یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں جاری صورت حال کے تناظر میں حالیہ دنوں میں پاکستان نے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔
جمعے کو جاری کیے گئے بیان میں بھی پاکستانی دفتر خارجہ نے یمن کی صورت حال کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
سعودی عرب نے گذشتہ ماہ 30 دسمبر کو یمن کے بندرگاہی شہر المکلا پر ایک محدود فضائی حملہ کیا تھا، جس کا ہدف ہتھیاروں کی وہ کھیپ تھی جو متحدہ عرب امارات سے یہاں پہنچائی گئی تھی۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یمنی علیحدگی پسند گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مملکت کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کرے، جسے سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کے لیے ’سرخ لکیر‘ قرار دیا۔
تاہم متحدہ عرب امارات نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کا مکمل احترام کرتا ہے۔
بعدازاں اسی روز متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ وہ اپنی صوابدید پر یمن میں موجود اپنے باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی اہلکاروں کی تعیناتی کا خاتمہ کر رہی ہے، تاکہ اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطہ قائم رہے۔
پفتے کو علی الصبح متحدہ عرب امارات نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے یمن سے اپنی تمام فوج واپس بلا لی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یو اے ای کی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ ’متحدہ عرب امارات کی فورسز نے انسداد دہشت گردی یونٹس کے باقی مشنز مکمل کرنے کے پہلے سے اعلان شدہ فیصلے پر عمل درآمد کیا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ عمل اس انداز میں انجام دیا گیا جس سے تمام اہلکاروں کی سکیورٹی یقینی بنائی گئی اور اسے تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی میں مکمل کیا گیا۔‘
دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے ہفتے کی صبح یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کی جانب سے کی گئی اس درخواست کا خیر مقدم کیا ہے، جس میں یمن کے جنوبی مسئلے کے حل کے لیے ریاض میں مذاکرات کی بات کی گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق اپنے ایک بیان میں سعودی وزارت خارجہ نے جنوبی دھڑوں پر بات چیت میں حصہ کے لیے زور دیا تاکہ ’جنوبی مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔‘
قبل ازیں یمن کی جنوبی علیحدگی پسند تحریک نے جمعے کو کہا تھا کہ اس کا ہدف دو برس کے اندر شمال سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کروانا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب سعودی حمایت یافتہ فورسز ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں جن پر علیحدگی پسندوں نے گذشتہ ماہ قبضہ کیا تھا اور جس اقدام کے نتیجے میں خلیجی طاقتوں کے درمیان ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا۔