محکمہ انسداد دہشت گردی (سی سی ڈی) سندھ کے حکام نے پیر کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر قائد میں مبینہ ’دہشت گردی‘ کی بڑی واردات کو ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ دو ہزار کلو گرام دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق ’دہشت گردوں‘ نے شہر میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، تاہم بروقت اور خفیہ کارروائی کے باعث کسی بڑے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سندھ کے حکام نے پیر کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر قائد میں مبینہ دہشت گردی کی بڑی واردات کو ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ دو ہزار کلوگرام دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن (ر) غلام اظفر مہیسر نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کئی ہفتوں پر محیط ایک انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن کے بعد مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی کارروائی میں ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا، جس سے تفتیش کے بعد مزید دو دہشت گردوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
گرفتار دہشت گردوں کی شناخت جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش اور حمدان عرف فرید ولد محمد علی کے نام سے ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد ایک منظم دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ تھے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کو اندرونی اور بیرونی انٹیلی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی کہ دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا جہاں بارودی مواد ذخیرہ اور تیار کیا جا رہا تھا۔ کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز میں رکھا گیا یوریا پر مبنی دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا، جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا تھا‘۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کو شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا گیا۔ آپریشن کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلنے سے بچانے کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، جبکہ ممکنہ بوبی ٹریپس اور دیگر خطرات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے اظفر مہیسر کا کہنا تھا کہ ’دھماکہ خیز مواد افغانستان سے بلوچستان کے راستے کراچی منتقل کیا گیا، جبکہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دہشت گرد نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق اس منصوبے کے پیچھے انڈین مفادات کے تحت کام کرنے والے دہشت گرد گروہ ملوث تھے‘۔
پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈین پراکسیز بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں، جبکہ گرفتار دہشت گردوں کے روابط بشیر زیب، بی ایل اے، فتنۃ الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے جڑنے کے شواہد سامنے آئے ہیں‘۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والے یوریا اور دیگر کیمیکلز کی غیر قانونی سپلائی چین کو توڑنا سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی سہولت کار معمولی مالی مفادات کے بدلے دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں، جس کے تدارک کے لیے گھروں کی کرایہ داری کے نظام اور کیمیکل مواد کی فروخت پر سخت نگرانی ناگزیر ہے۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں، جبکہ اس منصوبے میں ملوث تمام عناصر کا پیچھا جاری ہے۔ حکام کے مطابق مزید پیش رفت اور تفصیلات آئندہ دنوں میں سامنے لائی جائیں گی۔