’امریکہ شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے‘

میگزین نے ایک سابق امریکی سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وہاں عسکریت پسندوں کا سراغ لگانے اور ان کو نشانہ بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’بائیڈن انتظامیہ خاموشی سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے تناظر میں داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں سے لڑنے میں تعاون کرے۔‘(اے ایف پی)

ایک امریکی اشاعتی ادارے نے حاصل کردہ حساس ای میلز اور کچھ سفارتی کیبلز کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے امریکہ 15 اگست کو سقوط کابل کے بعد بھی بین الاقوامی عسکری نیٹ ورکس سے نمٹنے کے لیے پاکستان سے تعاون کا خواہش مند ہے۔

عرب نیوز کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے اپریل میں افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے ملک کے اہم علاقوں اور سٹریٹجک اہمیت کی حامل بارڈر کراسنگ پر قبضہ کرنے تھوڑی بھی تاخیر نہیں کی جو بالآخر مغربی حمایت یافتہ اشرف غنی انتظامیہ کے خاتمے کا باعث بنی۔

اس پیش رفت کے بعد پاکستان افغانستان سے غیر ملکی افواج کے ’غیر منظم‘ اور عجلت میں کیے جانے والے انخلا پر تنقید کرتے ہوئے کابل میں سیاسی عدم استحکام کے باعث افغان پناہ گزینوں کے ایک اور سیلاب کے خدشے کا اظہار کرتا رہا ہے۔

واشنگٹن سے شائع ہونے والے امریکی میگزین ’پولیٹیکو‘ کی رپورٹ میں کہا گیا پے کہ جریدے کی ٹیم کو لیک دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ دونوں ملکوں (امریکہ اور پاکستان) کے درمیان افغانستان میں دو دہائیوں کی جنگ کے بعد بھی کشیدگی کی ایک جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ: ’بائیڈن انتظامیہ خاموشی سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے تناظر میں داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں سے لڑنے میں تعاون کرے۔‘

میگزین رپورٹ کے مطابق تاہم پاکستان غیر ملکی شہریوں کو افغانستان سے نکالنے میں مدد فراہم کرنے کے اپنے کردار کی ستائش حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

جریدے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’امریکی انتظامیہ خاص طور پر پاکستانی حکام کے ساتھ اپنے رابطوں اور بات چیت کے بارے میں زیادہ کھل کر بات نہیں کرتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان پر اس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے اسلام آباد کو اب بھی واشنگٹن میں اہم سمجھا جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیٹیکو کے مطابق امریکہ جوہری اسلحے سے لیس پاکستان کو مکمل طور پر چینی اثر و رسوخ میں جاتے ہوئے کھونا نہیں چاہے گا۔

رپورٹ کے مطابق ان سٹریٹجک تحفظات کے باوجود لیک ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ’دونوں حکومتیں تعلقات کو آگے نہیں بڑھا رہیں۔‘

مثال کے طور پر امریکی عہدیداروں کے ساتھ ایک گفتگو میں امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان ان رپورٹس پر سوال اٹھاتے ہوئے نظر آئے جن میں کہا گیا تھا کہ طالبان افغانستان میں انتقامی کارروائی کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ یہ گروہ اپنے دشمنوں کو گھر گھر تلاشی کے بعد قتل کر رہا ہے۔

ایک میمو کے مطابق پاکستانی سفیر نے امریکی عہدیدار کو بتایا کہ زمینی مشاہدات کے مطابق افغان طالبان انتقام نہیں لے رہے اور حقیقت میں وہ گھر گھر جا کر افغان شہریوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ ان سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ محکمہ خارجہ کے امریکی عہدیدار اروین مسینگا نے کہا کہ ’وہ اس (پاکستانی سفیر کی) بیان کے برعکس رپورٹس دیکھنے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ طالبان بدلہ نہیں لیں گے۔'

میگزین نے ایک سابق امریکی سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وہاں عسکریت پسندوں کا سراغ لگانے اور ان کو نشانہ بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارتی مشن یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان میں ان افغان شہریوں کی مدد کی درخواستوں سے کیسے نمٹا جائے جو دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ امریکہ منتقلی کے اہل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا