پنجشیر میں موجود جنگجو ہتھیار ڈال دیں: طالبان

طالبان کے سینئیر رہنما عامر خان متقی کا ٹوئٹر پر پوسٹ کیے جانے والے ایک آڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ ہم نے پنجشیر کے مسئلے کو مذاکرات سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔

افغانستان کی سابقہ حکومت کے وزیر دفاع بسم اللہ محمدی کا کہنا ہے کہ طالبان نے منگل کی رات کو پنجشیر پر ایک بار پھر حملہ کیا ہے(فوٹو: اے ایف پی)

افغان طالبان نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبہ پنجشیر میں موجود مزاحمتی گروہ کے جنگجو ہتھیار ڈال دیں جب کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نامی اس گروپ کا کہنا ہے اس کے جنگجوؤں نے طالبان کے بڑے حملے کو پسپا کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ(این آر ایف) میں طالبان مخالف ملیشیا کے جنگجو اور افغان سکیورٹی فورسز کے سابق اہلکار شامل ہیں۔ طالبان اس وقت پنجشیر کا محاصرہ کر چکے ہیں جب کہ اس علاقے میں موجود جنگجوؤں نے طالبان کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کابل سے 80 کلو میٹر دور بلند پہاڑوں کے دامن میں گھری یہ وادی اس وقت طالبان مخالف مسلح تحریک کا گڑھ ہے۔

طالبان کے سینئیر رہنما عامر خان متقی کا ٹوئٹر پر پوسٹ کیے جانے والے ایک آڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ ’میرے بھائیو، ہم نے پنجشیر کے مسئلے کو مذاکرات سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اب جب طالبان نے پنجشیر کو گھیر لیا ہے تو وہاں موجود افراد اب بھی مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ ان سے بات کریں۔ جو لڑنا چاہتے ہیں انہیں بتا دیں کہ بس بہت ہو چکا۔‘

دوسری جانب افغانستان کی سابقہ حکومت کے وزیر دفاع بسم اللہ محمدی کا کہنا ہے کہ طالبان نے منگل کی رات کو پنجشیر پر ایک بار پھر حملہ کیا ہے۔

بسم اللہ محمدی کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ’گذشتہ رات طالبان نے پنجشیر پر حملہ کیا لیکن انہیں پسپا کر دیا گیا۔‘ انہوں نے دعوی کیا کہ اس حملے کے دوران 34 طالبان جنگجو ہلاک جب کہ 65 زخمی ہوئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ وہ بھاری نقصان کے ساتھ پسپا ہو گئے ہیں۔‘

ادھر پنجشیر میں موجود جنگجوؤں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ ان میں سے کئی افراد طالبان کے پہلے دور حکومت کے دوران بھی ان سے ہونے والی جھڑپوں میں شریک تھے۔

پنجشیر کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘

ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ ’ہر ایک کے کاندھے پر فائر کرنے کے لیے ہتھیار موجود ہے۔ ہمارے چھوٹے اور بڑے سب تیار ہیں اور وہ صرف مزاحمت کی بات کرتے ہیں۔‘


حکومت کا اعلان کب ہوگا، ابھی واضح طور پر نہیں کہہ سکتے: طالبان

طالبان کو افغانستان کا کنٹرول سنبھالے دو ہفتے ہو گئے ہیں اور اس دوران امریکی افواج بھی اس جنگ زدہ ملک کو چھوڑ کر جا چکے ہیں لیکن تاحال حکومت سازی کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔

بعض طالبان ذرائع کے مطابق کل نماز جمعہ کے بعد نئی کابینہ کا اعلان کر دیا جائے۔

یہ بات دو طالبان ذرائع نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہو بتائی کہ طالبان کی جانب سے جمعہ کو کابینہ کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ اسی حوالے سے بعض ٹوئٹر اکاؤنٹس سے بھی ایسی ہی خبریں شیئر کی جا رہی ہیں۔

مگر افغان طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے اس خبر کے حوالے سے کہا ہے کہ ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد نعیم جمعے کو نئی حکومت کے اعلان کی خبروں کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جتنا جلد ہو سکے حکومت کا اعلان کر دیں لیکن ابھی کچھ واضح طور پر نہیں کہہ سکتے۔‘


ایک ایسے وقت میں جبکہ افغان طالبان کو معاشی رکاوٹوں اور عوامی عدم اعتماد کا سامنا ہے، طالبان نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ نئی حکومت بنانے کے قریب ہیں جبکہ درجنوں خواتین نے نئی حکومت میں شمولیت اور کام کرنے کے حق کے لیے ایک احتجاج بھی کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مغربی شہر ہرات میں 50 کے قریب خواتین کام کرنے کے حق میں اور نئی حکومت میں خواتین کی عدم شمولیت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں۔

یہ خواتین ’تعلیم، کام اور سکیورٹی ہمارا حق ہے،‘ اور ’ہم خوفزدہ نہیں، ہم متحد ہیں،‘ جیسے نعرے لگا رہی تھیں۔

احتجاج کی منتظمین میں سے ایک بصیرہ طاہری نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ طالبان نئی کابینہ میں خواتین کو بھی شامل کریں۔

طاہری نے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ طالبان ہمارے ساتھ مشاورت کریں۔ ہم ان کی محفلوں اور اجلاسوں میں کسی عورت نہیں دیکھتے۔‘

تاہم اسی حوالے سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ جس سے عام طور پر طالبان کی حمایت میں ٹویٹس کی جاتی ہیں نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’ہرات میں فیمینسٹ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ واضح رہے یہ احتجاج انہی مجاہدین کے خلاف ہے جنہوں نے ان کو احتجاج کرنے کی اجازت دی۔‘

دوسری جانب آر ایس ایف کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق 15 اگست کو طالبان کے اقتدار سنبھالنے اور اسلامی قوانین کا احترام کرنے کے احکامات کے بعد 100 سے بھی کم خواتین صحافی اب بھی رسمی طور پر افغان دارالحکومت میں نجی ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنوں میں کام کر رہی ہیں۔

آر ایس ایف اور اس کی شراکت دار تنظیم سینٹر فار دی پروٹیکشن آف افغان ویمن جرنلسٹس (سی پی اے ڈبلیو جے) کے ایک سروے کے مطابق کابل میں 108 میڈیا آؤٹ لیٹس تھے، جن میں 2020 میں مجموعی طور پر چار ہزار 940 ملازمین تھے۔ ان میں ایک ہزار 80 خواتین بھی شامل تھیں، جن میں سے 700 بطور صحافی کام کر رہی تھیں۔


امریکہ اپنے سفارت کار افغانستان واپس بھیجے: طالبان

افغان طالبان نے امریکہ سے اپنے سفارت کاروں کو واپس افغانستان بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان اور قائم مقام وزیر اطلاعات و ثقافت ذبیح اللہ مجاہد نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکہ کی کابل میں سفارتی موجودگی ہونی چاہیے۔

’ہمارے پاس ان کے ساتھ رابطے کا ایک چینل ہے اور ہم کابل میں ان کے سفارت خانے کے دوبارہ کھلنے کی امید رکھتے ہیں اور ہم ان کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات مستقبل کی طالبان حکومت کے لیے بہت ضروری ہیں۔  امریکہ نے اپنے سفارت خانے کے تمام عملے کو کابل سے قطر میں منتقل کر دیا ہے۔


افغان پناہ گزینوں کو رکھنے کا انفرسٹرکچر نہیں ہے: تاجکستان

تاجکستان نے خبردار کیا ہے کہ سابق سوویت جمہوریہ کے پاس ہمسایہ ملک افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کو رکھنے کے لیے انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریاستی اطلاعاتی ادارے نے جمعرات کو بتایا کہ وزیر داخلہ رامزون ہمرو رحیم زادا نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے کنٹری ڈائریکٹر سے ملاقات کی تھی جس میں افغانستان میں بڑھتے ہوئے پناہ گزینوں اور انسانی بحرانوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ 

اے ایف پی کے مطابق بدھ کو ملاقات کے دوران رحیم زادہ نے کہا کہ اس وقت سرحد پر موجود 80 افغان خاندان ’اپنی جان کے خوف سے‘ تاجکستان میں داخل ہونے کے خواہاں ہیں۔

رحیم زودا نے شکایت کی کہ اگرچہ تاجکستان نے پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے علاقے تیار کیے ہیں لیکن بین الاقوامی اداروں نے انہیں رکھنے کے لیے ’عملی امداد‘ کی پیشکش نہیں کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے نے رحیم زادہ کے حوالے سے کہا کہ اس کی وجہ سے تاجکستان میں پناہ گزینوں کو رکھنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔


کابل ہوائی اڈے پر تکنیکی ٹیم پہنچ گئی

طالبان نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اپنے قبضے میں آنے والے فوجی سازو سامان کی نمائش کی جبکہ امریکی انخلا کے بعد اب کابل ہوائی اڈے کو فعال بنانے کے لیے ایک قطری ٹیم بھی بدھ کو کابل پہنچی۔

معاملے سے واقف ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پیر کو امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد قطر ایئرویز کی پہلی پرواز بدھ کو کابل میں اتری جس میں ایئرپورٹ پر کام کرنے والے تکنیکی ماہرین سوار تھے۔

ایئرپورٹ کو جلد سے جلد فعال بنانے کی کوشش جاری ہے تاکہ امداد کے لیے اور ملک سے جانے کے خواہش مند افراد کے لیے پروازیں بحال ہوں سکیں۔ اقوام متحدہ ملک میں ’انسانی بحران‘ کی تنبیہ دے چکی ہے۔

ہوائی اڈے کی باگ ڈور اب کس کے ہاتھ میں ہوگی، اس پر بات چیت ابھی جاری ہے۔

طالبان، جنہوں نے کہا ہے ملک میں انکلوسیو حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں، کے لیے حکومت سازی، سیاست، معیشت اور ممکنہ انسانی بحران سب سے بڑے چیلنج ہیں۔

طالبان نے کچھ ہی ہفتوں میں ملک کے دیہی حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد دو ہفتے قبل کابل پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا جس کے بعد ملک سے امریکیوں، غیر ملکیوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کے انخلا میں بھی تیزی آئی۔

پیر کو 31 اگست کے انخلا کی تاریخ سے کچھ گھنٹے قبل ہی آخری امریکی فوجی بھی ملک سے چلے گئے جس کے بعد طالبان جنگجو سڑکوں اور کابل ہوائی اڈے پر جشن مناتے نظر آئے۔

قندھار، جہاں سے طالبان تحریک کا آغاز ہوا، میں بدھ کو بکتر بند گاڑیوں اور ہمویز کی ایک لمبی قطار شہر کے باہر ہائی وے پر چلتی نظر آئی جن میں کئی پر اسلامی امارات کا جھنڈا تھا۔

حالیہ دنوں میں ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر بھی قندھار پر اڑتے دیکھا گیا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے سابق افغان فوج کا کوئی پائلٹ اسے چلا رہا تھا کیونکہ طالبان میں کوئی پائلٹ شامل نہیں۔


’داعش خراسان کو شکست دینے کے لیے طالبان سے ہم آہنگی ممکن‘

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ داعش خراسان گروپ کو شکست دینے کے لیے طالبان کے ساتھ ہم آہنگی ’شاید‘ ممکن ہو۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق چیرمین آف جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی سے نیوز کانفرنس میں ایک رپورٹر نے تعاون کے بارے میں پوچھا تو مارک ملی نے کہا کہ ’ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ طالبان کا مستقبل کیا ہے۔ لیکن میں اپنے ذاتی تجربے سے بتا سکتا ہوں کہ ماضی میں جو کچھ ہوا ہے اس کی بنیاد پر، یہ ایک بے رحم گروپ ہے، اور ہم دیکھیں گے کہ کیا یہ تبدیل ہوا ہے۔‘

پریس کانفرنس میں، امریکی وزیر دفاع لائیڈ سٹین نے بھی داعش خراسان گروپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ’میں مستقبل کی کارروائیوں کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کرنا چاہتا، لیکن ہم داعش خراسان پر توجہ مرکوز کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔‘

طالبان نے گذشتہ دنوں امریکہ کی جانب سے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ انہیں معلومت فراہم کرے تو وہ ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔

یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا ختم ہو گیا اور ملک میں 20 سالہ طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔

افغانستان میں امریکی فوجی مشن کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ جنرل ملی نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ سٹین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا