افغان طالبان کابل ایئرپورٹ کا نظام کیسے چلائیں گے؟

افغانستان سے امریکی اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا کنٹرول طالبان کے پاس ہے جبکہ افغانستان سول ایوی ایشن کی جانب سے تمام ایئر لائنز کو مطلع کیا گیا ہے کہ وہ کابل ایئرسپیس کا استعمال اپنے رسک پر کریں۔

افغانستان سے امریکہ کا انخلا آج (31 اگست) مکمل ہوگیا ہے اور افغان طالبان کے مطابق ان کا ملک اب غیر ملکی افواج سے خالی ہوگیا ہے جبکہ کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول بھی اب ان کے پاس ہے۔

افغانستان سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین نوٹم (نوٹس ٹو ایئرمین)  کے مطابق کابل ایئرپورٹ اور کابل کا ایئر سپیس اب ملٹری کے پاس ہے اور بغیر کسی کنٹرول کے ہے۔ ایوی ایشن کی جانب سے تمام ایئر لائنز کو مطلع کیا گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر ابھی کوئی بھی ایئر ٹریفک سروس موجود نہیں، لہذا وہ کابل ایئرسپیس کا استعمال اپنے رسک پر کریں۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کابل ایئرسپیس کب تک بند رہے گی اور امریکی فوجیوں کے انخلا اور طالبان کے کنٹرول کے اب کابل کا حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کس طرح آپریشنل (فعال) ہوگا تاکہ اسے دوبارہ پروازوں کے لیے بحال کیا جاسکے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے ایوی ایشن معاملات پر گہری نظر رکھنے والے صحافی طاہر عمران میاں سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کسی بھی ملک میں ایئرپورٹ چلانے کے قانونی قواعد کیا ہیں اور کیا طالبان کے پاس وہ تکنیکی عملہ موجود ہے جو ایئرپورٹ کے اندر مختلف تکنیکی شعبہ جات کو چلا سکے۔

طاہر عمران نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بین الاقوامی ایئرلائنز پر کسی قسم کی قدغن نہیں ہے اور یہ ایئرلائنز کی مرضی ہے کہ وہ کابل ایئر سپیس کو استعمال کرتی ہیں یا نہیں لیکن ایئرلائنز ہمیشی سیفٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کرتی ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کسی بھی ایئرپورٹ کو آپریشنل بنانے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے تو انہوں نے بتایا کہ ’کابل ایئرپورٹ میں ایئرٹریفک کنٹرول، گراؤنڈ کنٹرول اور اپروچ کنٹرول کے شعبہ جات کو چلانے کےلیے ماہرین کی ضرورت ہوگی اور تب ہی وہاں پروازیں بحال ہوسکتی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ یہ ماہرین افغانستان کے بڑے ہوائی اڈوں جیسا کہ کابل، قندھار، مزار شریف اور ہرات وغیرہ میں چاہیے ہوں گے تاکہ پروازوں کی بحفاظت لینڈنگ اور ٹیک آف ممکن ہوسکے۔

طاہر عمران نے بتایا: ’طالبان کی حکومت بننے کے بعد اگر کسی ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا تو وہاں پروازوں کی بحالی بہت مشکل ہوجائے گی کیونکہ ایئرلائنز کو سپورٹ اور انشورنس کی ضرورت ہوتی ہے اور جب یہ نہ ہوں تو ایئرلائنز کے لیے کابل ایئرپورٹ پر پروازیں بحال کرنا مشکل ہوگا۔‘

طاہرعمران سے جب پوچھا گیا کہ کسی بھی ملک کو کون سے بین الاقوامی قوانین یا کنونشنز کو ماننے کی ضرورت ہے کہ وہ ایئرپورٹ پر پروازیں چلاسکے تو انہوں نے بتایا کہ ان قوانین میں سب سے اہم شکاگو کنونشن ہے، یہ دنیا میں سول ایوی ایشن کے حوالے سے ایک ٹریٹی ہے، جو 1944 میں بنایا گیا تھا۔

اس ٹریٹی کا مقصد دنیا میں سول ایوی ایشن کے شعبے میں ممالک کے درمیان مدد اور سپورٹ فراہم کرنا ہے تاکہ دنیا بھر میں پروازوں کا آپریشن چل سکے۔ یہ کنونشن صرف سول  جہازوں پر لاگو ہوتا ہے اور افواج کے زیراستعمال جہازوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کنونشن میں پروازوں کو چلانے کے لیے مختلف سٹینڈرز بھی بنائے گئے ہیں، جن کے مطابق پروازیں چلتی ہیں۔

طاہر عمران نے بتایا کہ شکاگو کنونشن پر دستخط کے علاوہ کابل میں بننے والی نئی حکومت کو انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کو بھی مطمئن کرنا پڑے گا تاکہ وہ کابل ایئرپورٹ کو پروازوں کو چلانے کے لیے محفوظ قرار دے۔

انہوں نے بتایا: ’اس کے علاوہ کابل انتظامیہ کو امریکی ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن جو جہازوں کی مینوفیکچرنگ، آپریٹنگ اور مینٹی ننس کے سٹینڈرز مقرر کرتا ہے، کو بھی مطمئن کرنا ہوگا جبکہ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کو بھی باور کرانا ہوگا کہ وہ کابل ایئرپورٹ کو محفوظ پروازوں کی لسٹ میں شامل کرسکے۔‘

کابل ایئرپورٹ کو اب تک کون چلا رہا تھا؟

جب امریکہ سمیت نیٹو افواج 2001 میں کابل میں داخل ہوئیں تو انہوں نے کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ اس وقت کابل ایئرپورٹ پروازوں کے لیے مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا۔

انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کی ایئرسپیس اہم جگہ پر واقع ہے، جو خود افغانستان سمیت یورپ اور ایشیائی ممالک کی پروازوں کے لیے بہت اہم ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کی ایئرسپیس کو کنٹرول کرنا اس خطے کے لیے نہایت اہم تھا اور یہی وجہ تھی کہ 2001 کے بعد نیٹو افواج اور امریکہ نے مل کرکابل ایئرپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات شروع کیے کیونکہ اس وقت سول ایئرکرافٹ اور جنگی ایئرکرافٹ کے مابین رابطے کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح 2004 میں امریکہ نے کنٹریکٹرز کی مدد سے کابل ایئرپورٹ سمیت مزار شریف اور ہرات  کو جرمنی اور سپین کی مدد سے چلانا شروع کیا اور وہاں پر باقاعدہ ایئرٹریفک کنٹرول سینٹر اور اپروچ کنٹرول سینٹر بنائے گئے۔ اس کے بعد کابل سول ایوی ایشن کا ادارہ بھی مضبوط ہونے لگا لیکن پھر بھی  نصب شدہ نظام کو چلانے کے لیے ماہرین کی ضرورت تھی جو افغانستان میں موجود نہیں تھے۔

آئی سی اے او کی رپورٹ کے مطابق 2002 میں جب سول ایوی ایشن کابل میں تقریباً ختم ہوچکی تھی، اس نے اس حد تک ترقی کی کہ  2006 میں سالانہ 60 ہزار پروازوں سے بڑھ کر 2014 میں ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔ اسی طرح افغانستان کی ایئرسپیس کو 40 مختلف ایئرلائنز نے استعمال کرنا شروع کیا اور ہر ایک پرواز سے افغانستان کو یومیہ 400 ڈالر آمدنی آتی تھی۔

اس کے بعد نیٹو افواج نے مقامی لوگوں کو تربیت دینا شروع کی تاکہ وہ ایئرپورٹ کے اندر ٹریفک کنٹرول کے نظام سمیت باقی تکنیکی سسٹم کو چلا سکیں، تاہم آئی سی اے او کے مطابق افغانستان میں پھر بھی اس نظام کو چلانے کے لیے اب تک  کنٹریکٹر کی ضروت تھی۔

افغانستان میں جب رواں سال اپریل کے بعد افغان طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں شروع ہوئیں اور طالبان نے مختلف صوبوں کا کنٹرول حاصل کرنا شروع کیا تو رپورٹس سامنے آئیں کہ امریکہ کابل ایئرپورٹ کے نظام کو ترکی کے حوالے کرنے کا سوچ رہا ہے، تاہم ابھی تک مصدقہ طور پر ایسی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں کہ ترکی نے ایئرپورٹ کے نظام کو سنبھالاہے۔

’ترکی کی تکنیکی ٹیم ایئرپورٹ پر کام جاری رکھ سکتی ہے‘

کابل ایئرپورٹ سمیت افغانستان کے تمام چھوٹے بڑے ہوائی اڈے اب طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم سے جب پوچھا گیا کہ وہ کابل ایئرپورٹ کو کس طرح چلائیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان کا پہلے سے ایئرپورٹ چلانے کا تجربہ موجود ہے اور 90 کی دہائی میں جب طالبان کی حکومت تھی تو افغانستان کے تمام ہوائی اڈے فعال تھے۔‘

ڈاکٹر نعیم نے بتایا کہ ’تکنیکی شعبہ جات کو چلانے کے لیے افغانستان میں ماہرین بھی موجود ہیں، تاہم چونکہ اس سے پہلے تکنیکی شعبہ جات کو غیر ملکی افواج چلا رہی تھیں، جس میں ترکی بھی شامل تھا اور ہم نے بعد میں بھی ان ممالک کو بتایا تھا کہ اگر کوئی ملک تکنیکی شعبہ جات کو چلانے کے لیے مدد فراہم کرسکتا ہے تو وہ ضرور کرے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ترکی کی تکنیکی ٹیم کابل ایئرپورٹ پر خدمات انجام دے رہی تھی اور اب بھی ہمیں کوئی مشکل نہیں ہے، اگر وہ اپنا کام جاری رکھنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں۔‘

دیگر شعبہ جات کو فعال کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر نعیم نے بتایا کہ ’اس پر کام جاری ہے۔ ایئرپورٹ ابھی بہت برے حالات میں ہے اور چیزیں بکھری پڑی ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو جلد از جلد بحال کریں۔‘

انہوں نے بتایا: ’ہم کوشش کررہے ہیں کہ ایئرپورٹ کو افغانستان کے لوگوں اور باقی دنیا کے ساتھ رابطے کے لیے بحال کریں۔ بین الاقوامی کمیونٹی سے بھی ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں افغان عوام کی مدد جاری رکھیں گے کیونکہ یہ افغانستان اور بین الاقوامی ممالک کے مابین ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے اور جلد اس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق کھول دیا جائے گا۔‘

واضح رہے کہ امریکی فوجیوں نے دو ہفتوں پر محیط انخلا کو مکمل کرنے سے پہلے متعدد طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور گاڑیوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا